Leave a comment

بدعنوانی چاہے کلرک کرے چاہے وزیر اعظم، احتساب سب کا ہونا چاہیے: فیصل سبزواری

جب الطاف حسین اور پاکستان کے درمیان انتخاب کا وقت آیا، تو ہم نے پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا، عمران فاروق کے قاتلوں کو جلد از جلد عوام کے سامنے لایا جائے

one

سیاست کی وجہ سے گھر کو وقت نہیں دے پاتا، شعری مجموعہ شایع کرنے کا ارادہ نہیں
کراچی کی سیاست میں پرویز مشرف کا کوئی مستقبل نہیں، پی ایس پی اسٹیبلشمنٹ کی پشت پناہی کا تاثر ختم کرنے میں ناکام رہی
دہشت گردوں کی سرکوبی کا ٹارگٹ تو پورا ہوا، مگر دہشت گردی کی سرکوبی کا مرحلہ ابھی باقی ہے، پیپلزپارٹی کا نصب العین ہے کہ شہری سندھ کو محروم رکھو اور دیہی سندھ کے نام پر پیسہ بنا کر ہڑپ کر لو، مہاجر قاتل مہاجر مقتول کی سیاست اب ختم ہونی چاہیے
ایم کیو ایم پاکستان کے مرکزی راہ نما اور سابق صوبائی وزیر، فیصل سبزواری سے خصوصی ملاقات
اقبال خورشید
عکاسی: محمد مہدی

 

اُس سہ پہر پھوار پڑ رہی تھی۔
ایم کیو ایم پاکستان کے بہادر آباد میں واقع دفتر میں داخل ہونے کا تجربہ کچھ برس قبل عزیز آباد میں ایم کیو ایم کے سیکریٹریٹ میں داخل ہونے کے تجربے سے یک سر مختلف تھا، جس کے گردسیکیورٹی کا سخت حصار تھا۔ جگہ جگہ بیریئر نصب تھے، جو اُسی وقت کھلتے، جب وہاں تعینات افراد کو اندر سے ہدایت ملتی تھی۔موجودہ دفتر کا معاملہ دیگر ہے۔ ہمیں دیکھ کر چند چہروں پر سوالات ضرور ابھرے، مگر نہ توکوئی روک ٹوک ہوئی، نہ ہی تلاشی لی گئی۔ ابھی ایم کیو ایم کے شعبۂ اطلاعات کے انچارج، امین الحق کا نمبر ڈائل کیا ہی تھا کہ فیصل سبزواری عمارت میں داخل ہوئے۔
وہ کراچی کی سیاست کاایک مصروف دن تھا۔ اُسی روز آفاق احمد نے بیت الحمزہ کی تعمیر کا اعلان کیا، مصطفی کمال نے ایم کیو ایم کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا،اورفاروق ستار نے وزیر اعظم سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے پی ایس 114 کی مبینہ دھاندلی کے خلاف کورٹ میں جانے کا اعلان کیا۔
فیصل سبزواری کو 22 اگست سے پہلے بھی پارٹی کا معتدل چہرہ تصور کیا جاتا تھا۔وہ باقی راہ نماؤں کے برعکس انتہائی موقف اختیار کرنے سے اجتناب برتتے تھے۔ کراچی قیادت کی بانی قائد سے اظہار لاتعلقی کے کچھ عرصے بعد وہ واپس آئے، اور ایم کیو ایم پاکستان کے ساتھ جا کھڑے ہوئے۔ عام خیال ہے ، اُنھیں نئے سیٹ اپ میں کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ جب یہ سوال کیا، تو ہنسنے لگے،’’ اگرواقعی ایسا ہو، تو مجھے خوشی ہوگی، مگر اس میں حقیقت سے زیادہ ہمارے مخالفین کا گمان اور خوف شامل ہے۔میں ایک چھوٹا ساکارکن ہوں۔ کوشش یہ ہوتی ہے کہ اپنانقطۂ نظر وضاحت کے ساتھ بیان کروں۔54افراد پر مشتمل رابطہ کمیٹی کا رکن ہو۔باقی ارکان کی طرح میرے پاس بھی ذمے داریاں ہیں۔ میڈیا، سوشل میڈیا، طلبا تنظیم ، بلدیاتی، پارلیمانی امور کی نگرانی کرتا ہوں ۔‘‘
پاناما کیس پر بات نکلی، تو کہنے لگے، ’’سیاست سمیت زندگی کے ہر شعبے سے بدعنوانی کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ اگر ہماری عدالتیں اور ادارے خود بدعنوانی روکنے کی کوشش کی ہے، تو یہ اچھی بات ہے۔ جتنے لوگوں نے غیر قانونی دولت کما ئی، ان سے سوال کیا جانا چاہیے۔ ہمارا موقف ہے کہ بدعنوانی چاہے کلرک کرے چاہے وزیر اعظم، سب کا احتساب ہونا چاہیے۔‘‘گو ان کی پارٹی بھی وزیر اعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر چکی ہے۔ البتہ اس کے نتیجے میں اُنھیں قبل از وقت انتخابات کا امکان دکھائی نہیں دیتا۔
پی ایس 114 میں پارٹی کی کارکردگی بھی زیر بحث آئی۔ بولے،’’انتخابات میں پیپلزپارٹی کے چار کارکنان رنگے ہاتھوں دھاندلی کرتے ہوئے پکڑے گئے، جن میں دو سعید غنی صاحب کے رشتے دار تھے، یعنی یہ طے ہے کہ وہاں دھاندلی ہوئی۔اس سے قطع نظر ایم کیو ایم پاکستان کو جو اٹھارہ ہزارہ سے زاید ووٹ ملے، وہ بہت حوصلہ افزا ہیں، اور اگلے انتخابات میں ہمیں اور آگے لے کرجائیں گے۔‘‘تو کیا لندن کی بائیکاٹ کال بے اثر رہی؟ کہنے لگے،’’اگر بائیکاٹ موثر ہوتا، تو ہمیں اصولاً اٹھارہ سو ووٹ بھی نہیں پڑنے چاہیے تھے۔ ‘‘
ایک مفروضہ ہے کہ اگرایم کیو ایم لندن کو اسپیس دی جائے، تو ایم کیو ایم پاکستان منظر سے غائب ہوجائے گی۔ کہتے ہیں،’’ضمنی انتخابات میں اس مفروضے کو پرکھنے کی گنجائش تھی۔اگر لوگ لندن کی بات سنتے، توبائیکاٹ کرکے گھر بیٹھ جاتے، جیسے اُنھوں نے 93ء اور 2001 میں کیا تھا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ کراچی کے عوام کو مثبت ،عدم تشدد اور عدم تصادم کی سیاست چاہیے، جو ایم کیو ایم پاکستان فراہم کر رہی ہے۔‘‘ہم نے پوچھا، کیا 22 اگست کے بعد الطاف حسین کی مقبولیت اورحمایت میں کمی آئی ؟ بولے،’’جب الطاف حسین اور پاکستان کے درمیان انتخاب کا وقت آیا، توہم سمیت اکثریت نے پاکستان کے ساتھ کھڑنے ہونے کا فیصلہ کیا۔
اب کچھ دیر ٹھہر کر اُن کے حالات زندگی پر نظر ڈال لیتے ہیں

 میرٹھ، ناظم آباد اور چارٹرڈ اکاؤنٹینسی
سن پیدائش:12 اگست 1975 ۔ جائے پیدائش: کراچی ۔ اجداد کا تعلق میرٹھ سے۔ نچلے متوسط طبقے میں آنکھ کھولی۔ناظم آباد میں پروان چڑھے۔ ان تمام مسائل کا سامنا کیا، جو اِس طبقے کے دیگرخاندانوں کو درپیش ہوتے ہیں۔اپنے والد، سید احترام علی سبزواری کو بے روزگاری کا کرب سہتے دیکھا۔ وہ ٹوبیکو انڈسٹری سے منسلک رہے۔اب اپنا چھوٹا سا کاروبار ہے۔ فیصل سبزواری کے بہ قول ، یہی کاروبار اُن کی گزر بسر کا بھی ذریعہ ہے کہ 2002 کے بعد ملازمتیں ترک کر دی تھیں،اور اب کلی طورپر سیاست سے منسلک ہیں۔
ایک بہن دو بھائیوں میں وہ بڑے ہیں۔ بچپن سے پُراعتماد ہیں۔شرارتیں بھی کیں، جن پر سزا ملا کرتی۔ کرکٹ اور ہاکی کھیلا کرتے تھے۔شمار ذہین طلبا میں ہوتا ۔ 91ء میں میٹرک کرنے والے یہ صاحب ہم نصابی سرگرمیوں میں پیش پیش رہے۔ 93ء میں گورنمنٹ کالج ناظم آباد سے پری انجینئرنگ کامرحلہ طے ہوا، تو جامعہ کراچی کے اکنامکس ڈیپارٹمنٹ کا حصہ بن گئے، مگر پھر یونیورسٹی چھوڑ کر انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان چلے گئے۔ اب PIMSAT سے BBA کیا۔ اکنامکس میں پرائیویٹ امیدوار کی حیثیت سے ماسٹرز کیا۔ چارٹرڈ اکاؤنٹینسی کی مختلف فرم میں ملازمتیں کیں، مگر 2002الیکشن کے بعد یہ سلسلہ ترک ہوا۔

 میں سیاست میں کیوں آیا؟
کم عمری ہی میں پارٹی کا حصہ بن گئے۔ دراصل اُن کے چچا، اسلم سبزواری اور راشد سبزواری ایم کیو ایم سے منسلک تھے۔ جب جب کراچی میں آپریشن ہوتا، اِس گھرانے کو معاشی و معاشرتی مسائل سے نبردآزماہونا پڑتا۔ ایم کیو ایم کی طلبا تنظیم APMSO کا حصہ کالج کے زمانے میں بنے۔ تب آنکھوں میں پائلٹ بننے کا سپنا تھا،لیکن 92ء میں آپریشن شروع ہوگیا، جس کی وجہ سے گھر سے بھاگنا پڑا۔ اس واقعے نے پڑھائی کو خاصا متاثر کیا۔ 96ء میں APMSO کی جانب سے ایم کیو ایم کے شعبۂ اطلاعات میں ذمے داریاں سونپی گئیں۔ 98ء تک اِسی حیثیت سے مصروف رہے۔جب نواز شریف کے دوسرے دور حکومت میں آپریشن ہوا، تووہ دبئی چلے گئے۔ وہاں ایک فرم میں کام کرتے رہے۔ 2000 میں لوٹ کر APMSO کے مرکزی سیکریٹری نشر و اشاعت منتخب ہوئے۔ الیکشن 2002 میں پی ایس 118 کا ٹکٹ ملا۔اس وقت عمرستائیس برس تھی۔ صوبائی اسمبلی تک رسائی ایک خوش گوار لمحہ تھا۔ 2003 میں APMSO کے چیئرمین منتخب ہوئے۔ مئی 2005 تک یہ ذمے داری نبھائی۔الیکشن2008 میں پی ایس126 گلستان جوہر سے کامیابی اپنے نام کی۔2013 میں بھی اسی حلقے سے فاتح ٹھہرے۔
انتخابی سیاست کے تجربات پوچھے، تو کہنے لگے،انتخابی امیدوار تودولہے کا کردار ادا کرتا ہے، اصل کام یونٹ اور سیکٹر کی سطح پر ہوتا ہے۔’’2002 میں تو لوگ مجھے جانتے ہی نہیں تھے۔ میں بس سے اتر کر پیدل الیکشن آفس تک جاتا تھا۔بعد میں میڈیا کی وجہ سے لوگ پہچاننے لگے ۔‘‘ مئی 2008 میں صوبائی وزیر برائے امور نوجوانان کی حیثیت سے حلف لیا۔ جب وزیر بننے کے بعد سیکریٹری سے پوچھا کہ شعبے میں کیا ہورہا ہے؟ تو پتا چلا کہ نہ تو دفتر ہے، نہ افسر ہے! ترقیاتی فنڈصفرہیں۔انھوں نے اپنے تئیں کوشش کی۔ کیریرکونسلنگ،یوتھ فیسٹولز کا سلسلہ شروع کیا۔یوتھ ڈیویلپمنٹ سینٹرزکے ذریعے نوجوانوں کو صحت مند سرگرمیاں فراہم کرنے کی کوشش کی۔2013کے انتخابات کے بعد کچھ عرصے وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر رہے۔

 وہ قیامت کے دن
سیاسی سفر میں دو دن بہت کٹھن تھے۔بہ قول ان کے،28 اگست 92 کو ایم کیو ایم کی جانب سے ناظم آباد میں خواتین کی قرآن خوانی کا پروگرام منعقد کیا گیا تھا، جس پر پولیس نے دھاوا بول دیا، اور دو سو سے زاید خواتین کو گرفتار کرلیا گیا۔میرے گھر کی چھ خواتین کو، جن میں میری چھوٹی بہن بھی شامل تھی، جو اسکول کی طالبہ تھی، گرفتار کیا گیا۔ والدہ کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ وہ رات بہت بھاری تھی۔ ہمارے گھر کی خواتین تھانے میں بند تھیں، اور ہم کچھ نہیں کر سکتے تھے۔ اِسی طرح نصیر اللہ بابر کے دور میں7 جولائی 95ء کی رات بھی بہت بھاری تھی، جب میرے چچا کو شہید کیا گیا، جس بہیمانہ طریقے سے اُنھیں قتل کیا گیا، وہ بہت ہی کرب ناک تھا۔‘‘

 بائیس اگست سے پہلے اور بعد کی کہانی
کچھ حلقوں کے مطابق اُن کا ایم کیو ایم پاکستان کا حصہ بننا متوقع تھا کہ لندن قیادت پہلے ہی اُن سے ناراض تھی، رابطہ کمیٹی کی رکنیت معطل کر دی گئی تھی، اور وہ مایوس ہو کر بیرون ملک چلے گئے تھے، مگر فیصل سبزواری اس کہانی کو ذرا الگ انداز میں بیان کرتے ہیں۔ ’’میں 2015 میں ایک ماہ کے لیے پاکستان سے باہر گیا تھا۔ پھرواپس آگیا۔ میری فیملی چلی گئی تھی۔ لوگ کہتے ہیں کہ قیادت مجھ سے ناراض تھی۔ اب میں امریکاگیا ہوں 12 مارچ 2016 کو ،اور اس سے دو روز پہلے براہ راست الطاف حسین کا پیغام آیا،پھررابطہ کمیٹی لندن کی کال آئی۔ وہ مجھے رابطہ کمیٹی میں لینا چاہتے تھے، میں نے معذرت کی کہ میرے بچے پاکستان میں نہیں ، مجھے ان کا خیال رکھنے کے لیے جانا ہوگا۔‘‘
رکنیت کی معطلی کی بابت کہا،’’رات چار بجے ایک خطاب ہورہا تھا۔ میں اس میں نہیں تھا، تو رکنیت معطل کرنے کی بات کی گئی، مگر عملاً ایسا نہیں ہوا۔ الٹا مجھے منا کر واپس لایا گیا۔ میں این اے 246 کی انتخابی مہم میں آگے آگے تھا۔ یہ تو ہوئی پہلی بات۔ دوسری بات یہ ہے کہ میں مارچ میں پاکستان سے گیا، تواپریل میں لندن سے فون کرکے کہہ دیا گیا کہ اب آپ پاکستان نہیں جائیں گے۔ میرے باہر جانے کی وجہ تو سیکیورٹی خدشات تھے، مگر لندن قیادت کواندیشہ تھا کہ اگر میں پاکستان لوٹا، تو پی ایس پی میں شامل ہوجاؤں گا۔ حالاں کہ میرا ایسا کبھی کوئی ارادہ نہیں تھا۔میں 22 اگست کے بعد واپس آیا، کیوں کہ مجھے لگتا تھا ایم کیو ایم کے ووٹرز کو مسائل سے نکالنے کے لیے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔‘‘جب واپس آگئے، اُس کے بعد لندن قیادت نے نہ توکبھی براہ راست نہ ہی بلواسطہ رابطہ کیا۔

 مشرف اور مصطفی کمال
ہم پوچھا کیے، مصطفی کمال سے توآپ کی دوستی ہے، اُنھوں نے کبھی رابطہ نہیں کیا؟ بولے،’’کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی حوالے سے لوگوں نے رابطہ کیا۔ مجھے تک یہ بات پہنچائی، مگر میں اپنے اس فیصلے پر مطمئن ہوں کہ مجھے ایم کیو ایم کے ساتھ ہی اپنی سیاست کرنی ہے۔‘‘سوال کیا، کیا پی ایس پی کو اسٹیبلشمنٹ کی سپورٹ حاصل ہے، تو کہا ،’’ پشت پناہی کا تاثر توعام ہے، جسے وہ ختم کرنے میں سراسر ناکام رہے ہیں۔ اور اب تو ختم کیا بھی نہیں جاسکتا۔‘‘
جب یہ خیال جڑ پکڑنے لگا کہ الطاف حسین سے الگ ہونے والے یونٹ کی قیادت پرویز مشرف سنبھال لیں گے، تو ایم کیو ایم پاکستان نے اس کے رد میں دو ٹوک موقف اختیار کیا۔ فیصل سبزواری کہتے ہیں،’’ احترام ہونا الگ بات ہے، سیاسی طور پر انھیں لیڈر مان لینا الگ بات ۔ مجھے کراچی کی سیاست میں ان کا کوئی مستقبل نظر نہیں آرہا۔‘‘

ایم کیو ایم پاکستان: مسائل اور مستقبل
دریافت کیا، ایم کیو ایم کے لیے اگلا چیلنج کیا ہے؟ بولے،’’ہمیں اپنا تنظیمی اسٹرکچر مضبوط کرنا ہے۔ ہمارے کچھ کارکن پاکستان سے باہر ہیں، کچھ جیل میں ہیں، کچھ ایسے بھی ہیں،جو پی ایس پی یا لندن کے ساتھ ہیں۔ البتہ اکثریت ہمارے ساتھ کھڑی ہے۔اگلے انتخابات کے لیے امیدواروں کے انٹرویوز شروع کر دیے ہیں۔ خواہش یہ ہے کہ دفاتر کھل جائیں، اسیر کارکن رہا ہوجائیں، لاپتا کارکن واپس آجائیں، تاکہ ہم عدم تصادم، عدم تشدد کی مثبت اور ترقی پسندانہ سیاست بھرپور طریقہ سے کر سکیں۔‘‘ایم کیو ایم کے سیکریٹریٹ خورشید بیگم ہال کی تجدید کی خواہش رکھتے ہیں ۔ قانونی راستہ اختیار کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ جب ہم نے 90کا ذکر کیا، تو بولے،’’وہ الطاف حسین صاحب کا گھر ہے۔ اس پر پارٹی کا کلیم نہیں۔‘‘
کیا مستقبل میں پی ایس پی، حقیقی اور ایم کیو ایم کے اتحادکا امکان ہے؟ بہ قول ان کے،’’ہم تصادم نہیں چاہتے، مگر ہم اتحاد بھی کرنا نہیں چاہتے۔ ایک ایجنڈے پر اتفاق کرنے کے لیے تیار ہیں کہ اب مہاجر قاتل، مہاجر مقتول کی سیاست ، تشدد کی سیاست ختم ہو، ا س کے لیے ایم کیو ایم اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔‘‘
ڈاکٹر عمرا ن فاروق کیس کا ذکر ہوا۔ ان کے مطابق اسکاٹ لینڈ یارڈ تفتیش کر رہی ہے، حکومت پاکستان نے یہاں کچھ لوگ پکڑے ہیں۔’’ ہماری خواہش ہے کہ جلد از جلد جن لوگوں نے یہ قتل کیا ہے، جنھوں نے کروایا ہے، انھیں عوام کے سامنے لایا جائے، سخت ترین سزا دی جائے۔‘‘

 وہ پاکٹ منی سے بچوں کے رسائل خریدنا
مطالعے کی عادت وراثت میں ملی۔ دادااورچچاکو پڑھتے ہوئے دیکھا۔ پاکٹ منی سے بچوں کے رسائل خریدا کرتے تھے۔ ایم کیو ایم سے تعلق نے انقلابی شاعری کی جانب متوجہ کیا۔ فیض اور جالب کو پڑھا۔قلمی نام سے مزاحمتی شاعری کرتے رہے۔ مشاعرے پڑھے۔ تخلیقات نے رسائل میں جگہ پائی۔ افتخارعارف ان کے پسندیدہ شاعر ہیں۔ان کا مجموعہ ’’کتاب دل و دنیا‘‘ بہت پسند۔ سبط حسن کی کتابیں بھی مطالعے میں رہیں۔بچپن میں اشتیاق احمد کو پڑھا تھا۔ انگریزی فکشن کا بھی ذائقہ چکھا۔آج کل وہ Lesley Hazleton کی کتابThe First Muslim پڑھ رہے ہیں۔مستقبل میں Confessions of an Economic Hit Man اور نصیر ترابی کی کتاب شعریات پڑھنے کا رادہ ہے۔

بہ طور شاعر مقبول نہیں، غیرمقبول تھا
ایک عرصے سے شعر کہہ رہے ہیں، مگرشعری مجموعہ لانے کا ارادہ نہیں۔ ’’میں اچھا شعر پڑھنے کا شوقین ہوں۔ جب اپنے اشعار پڑھے، تو اندازہ ہوا کہ وہ اتنے اچھے نہیں۔ افتخار عارف کاایک شعر ہے:
زندگی بھر کی کمائی یہی مصرعے دو چار
اس کمائی پہ تو عزت نہیں ملنے والی
تو میرا بھی یہی معاملہ ہے۔‘‘شاعر تھے، وجیہہ تھے، زمانۂ طالب علمی میں طالبات میں مقبول رہے ہوں گے؟ کہنے لگے، ’’نہیں، بلکہ غیرمقبول رہا،کیوں کہ ہم نعرے زیادہ لگاتے تھے، شعر کم پڑھتے تھے ۔پھر کبھی کسی کو متاثر کرنے کے لیے شعر نہیں کہا۔‘‘رکن صوبائی اسمبلی بننے کے بعد مشاعرہ پڑھنے کی کئی بار دعوت ملی، مگر یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ جب وہ رکن اسمبلی نہیں رہیں گے، تب اگر فن کی بنیاد پر دعوت دی گئی، تو ضرور قبول کریں گے۔ہاں، اس زمانے میں ایک آدھ مشاعرے کی نظامت کی۔ ہمیں بھی اپنا ایک شعر سنایا۔
عَلم، لباس، قلم اور چشم غم زدَگاں
ہوئے ہیں سرخ تو لرزا ں ہے کائنات لکھو

 کچھ کھٹی میٹھی باتیں
فیصل سبزواری گرمیوں میں کرتے پاجامے کو ترجیح دیتے ہیں۔ہلکے رنگ بھاتے ہیں۔ معتدل موسم پسند۔ دال چاول سے رغبت ۔ اداکاروں میں نصیر الدین شاہ کو سراہتے ہیں۔ موسیقی سے گہرا شغف ہے۔ زندگی سے مطمئن ہیں۔ اخبارات باقاعدگی سے پڑھتے ہیں۔ سیاحت کا بھی شوق ہے۔دیگر سیاسی جماعتوں کے راہ نماؤں سے بھی اچھی سلام دعا ہے۔ اس ضمن میں عمران اسماعیل ، رانا ثنا اللہ اور مکیش چاؤلا کا نام لیتے ہیں۔
2001 میں شادی ہوئی۔ پسند کی شادی تھی۔ خدا نے تین بیٹیوں سے نوازا۔بچوں سے دوستانہ روابط ہیں۔ گھر والے وقت کی کمی کی اکثر شکایت کرتے ہیں۔ ’’مجھے اِس معاملے کا شدت سے احساس ہے کہ میں مصروفیات کی وجہ سے خاندان کو وقت نہیں دے پاتا۔

19894583_1492241140821812_7773356672621529122_n
………………………………….

بکس آئٹمز

 فوجی آپریشن اور تحفظات
فوجی آپریشنزسے متعلق کہنا تھا،دہشت گردوں کی سرکوبی کا ٹارگٹ تو کسی حد تک فوج اور پولیس نے پورا کیا، مگر دہشت گردی کی سرکوبی کا مرحلہ ابھی باقی ہے۔’’ کیا یہاں مدرسہ ریفارمز ہورہی ہیں، نصاب میں تبدیلی کی جارہی ہے، کالعدم تنظیموں پر پابندی پر عمل درآمد ہورہا ہے؟ یہ اقدامات دہشت گردی سے نبرد آزماہونے کے لیے ضروری ہیں۔‘‘کراچی آپریشن کے مثبت پہلوؤں کو سراہتے ہیں ، مگر تحفظات بھی ہیں۔ ’’اچھا ہوتا اگر آپریشن کی ایک مونیٹرنگ کمیٹی، ازالہ کمیٹی بنائی جاتی۔ جو زیادتیوں کی شکایات آئی ہیں،اور بعض جگہ بہت جائز شکایات آئی ہیں، انھیں سن لیا جاتا، تو یہ آپریشن زیادہ شفاف اور موثر ہوتا۔ جرائم کی سرکوبی ہوئی ہے، بہت اچھی بات ہے، اسی لیے ہم نے آپریشن جاری رکھنے کی بات کی، ان تحفظات کے ساتھ کہ شکایات کا ازالہ کیا جائے۔اس وقت آٹھ سو سے زیادہ کارکنان جیلوں میں ہیں۔عید سے قبل کراچی جیل سے کالعدم تنظیموں کے کارکنوں کے فرار کے بعد جو آپریشن ہوا، اس کی وجہ سے ایم کیو ایم کے کارکنوں کوشدید اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ سیاسی کارکن ہیں، مگر ان کے ساتھ عادی مجرموں جیسا سلوک ہوا۔‘‘

05 

انتخابات میں عوام کی رائے سامنے نہیں آتی
پیپلزپارٹی سے متعلق ان کا موقف دو ٹوک ہے۔کہتے ہیں،’’پیپلزپارٹی کا نصب العین یہ ہے کہ شہری سندھ کو محروم رکھو اور دیہی سندھ کے نام پر پیسہ بنا کر ہڑپ کر لو۔ اس بنیاد پر ایم کیو ایم سمیت سندھ کے ہر باسی کا ان سے اختلاف ہے۔ سوائے لوٹ مار کے انھوں نے کوئی کام نہیں کیا۔ان سے مفاہمیت کی کوئی صورت نہیں۔ہاں، اگر وہ عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ٹھوس کام کریں، تو ہم ان کی تعریف کریں گے۔‘‘
اگر پی پی نے ترقیاتی کام نہیں کروائے، توپھر عوام انھیں ووٹ کیوں دیتے ہیں؟ فیصل سبزواری کے نزدیک اس کی پہلی وجہ تو بھٹو صاحب سے عوام کا رومانس ہے۔’’پھر پیپلزپارٹی نے ہر بار حکومت میں آنے کے بعد چھوٹے بڑے وڈیروں کے ذریعے ووٹ بینک کنٹرول کیا۔ گذشتہ انتخابات میں جو امیدوار پیپلزپارٹی سے ہارے، انھیں بھی پیسے اور عہدے دے کر اپنے ساتھ ملا لیا ۔ توسندھ میں الیکشن Manageکیے جاتے ہیں، عوام کی رائے سامنے نہیں آتی۔‘‘

الطاف حسین سے پہلی… اور آخری ملاقات
فیصل سبزواری نے 87ء میں الطاف حسین کو پاپوش نگرکے ایک جلسے میں پہلی بار دیکھا ۔ 89ء میں عید کے روز نائن زیرو پر مصافحہ کیا۔ 91ء میں جب ان کی عیادت کے لیے گئے، تو پہلی بار مکالمہ ہوا۔ باقاعدہ ملاقات 18 ستمبر 2003 کو ہوئی…اورآخری ملاقات 22 ستمبر 2014 کو لندن میں ہوئی تھی۔وہ رسمی ملاقات تھی۔ درجنوں لوگ تھے۔اس زمانے میں وہ کابینہ میں امور نوجوانان کے مشیر تھے۔بولے، ’’لوگ کہتے ہیں کہ پارٹی مجھ سے ناراض تھی۔ اب 51 ایم پی ایز میں سے صرف چار کو حکومتی عہدہ دیا گیا،اوراس سے پہلے میں لیڈر آف اپوزیشن بھی تھا، اگرپارٹی ناراض ہوتی،تویہ عہدے نہیں دیے جاتے۔ بہرحال، اس روز ان سے چند باتیں ہوئیں۔ مجھے نہیں لگا کہ وہ ناراض ہیں۔ یہ ضرور تھا کہ جس طرح مجھ سے توقع کی جاتی تھی کہ میں میڈیا میں ان کا دفاع کروں، وہ میں نہیں کرپارہا تھا،اور کربھی نہیں سکتا تھا۔ میرامزاج ذاتیات پر جانے کے بجائے دلیل کے ذریعے بات کرنا ہے۔‘‘

Advertisements
Leave a comment

Jab Harry Met Sejal Trailer Reaction. SRK, Anushka Sharma. By Ahad Iqbal

Leave a comment

پہلے ٹیسٹ سے قبل کبھی اسٹیڈیم میں پائوں نہیں رکھا تھا : معروف کرکٹر توصیف احمد

toseef new

بنگلور ٹیسٹ میں میری گیند پر چھکاپڑا، تولگا جیسے کیریر ختم ہوگیا ہو
اپنے پہلے ٹیسٹ سے قبل کبھی اسٹیڈیم میں پاﺅں نہیں رکھا تھا، اقبال قاسم نے میرے کیریر میں اہم کردار ادا کیا، اب لوگ محنت سے جی چرانے لگے ہیں
معروف کرکٹراور سلیکشن کمیٹی کے رکن، توصیف احمد کی دل چسپ کہانی
اقبال خورشید

وہ پاکستان کرکٹ کی تاریخ کا ایک اہم موڑ تھا۔
یہ 1987 کے موسم بہار کا ذکر ہے۔ بنگلور میں پاک بھارت ٹیسٹ سیریز کا آخری مقابلہ تھا ۔ پاکستان نے آج تک بھارت کو اس کی سرزمین پر شکست نہیں دی تھی، مگرآج اُس کے باصلاحیت کھلاڑیوں، بالخصوص ایک نوجوان آف اسپنر کی وجہ سے یہ خواب ممکن ہوتا نظر آرہا تھا۔ اُس نوجوان کا نام توصیف احمد تھا، جواُس کانٹے دار مقابلے میں آٹھ وکٹیں اپنے نام کر چکا تھا۔ میچ سنسنی خیز مرحلے میں داخل ہوگیا۔ گیند توصیف کے ہاتھوں میں تھی، اور آخری بیٹسمین سامنے تھا۔ توصیف نے نپی تلی گیندپھینکی، مگر قسمت ساتھ نہیں تھی۔ بیٹسمین نے بلا گھمایا ،اور گیند باو¿نڈری سے باہر جا گری۔چھکا! توصیف کویوںلگا، جیسا اُس کا کیریر ختم ہوگیا ہو۔ جیت کے لیے بھارت کو صرف سولہ رنز درکار تھے۔ مگرکپتان عمران خان نے ایک بار پھر ان پر اعتبار کیا۔ نوجوان کو گیند سونپی۔ کاندھاتھپکا، اور کہا: ”تم ہی یہ وکٹ لو گے۔“ وہی بلے باز سامنے تھا۔ بولر آگے بڑھا۔ گھومتی ہوئی گیند نے بلے کا کنارہ لیا، سلیم یوسف نے ایک شان دار کیچ پکڑا، اور توصیف سجدے میں گر گئے۔
پاکستان نے پہلی بار ہندوستان میں کھیلی جانے والی سیریز میں کام یابی حاصل کر لی تھی۔اُس میچ میں امپائرنگ کافی متنازع رہی تھی۔ گواسکر دو بار آﺅٹ ہوئے، لیکن اُنھیں آﺅٹ نہیں دیا گیا۔ اسی باعث جب سلیم یوسف نے کیچ پکڑا ،تو پاکستانی کھلاڑیوں نے فوراً اسٹمپس اکھاڑ لیے، یہ سوچ کر کہ کہیں امپائر یہ نہ کہہ دے کہ آﺅٹ نہیں ہےویسے یہ امر بھی دل چسپ ہے کہ 86ءمیں شارجہ کپ کے فائنل میںجب پاکستان نے میاں داد کے چھکے کی بدولت ہندوستان کو تاریخی شکست دی، تب بھی توصیف احمد کے ”سنگل“ نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔یعنی ہندوستان کے لیے توصیف احمد ہمیشہ پریشانی کا باعث رہے۔
وہ بڑے ملن ساراور خوش مزاج آدمی ہیں۔ ملیں، تو لگتا ہے، کسی دوست سے ملاقات ہوگئی۔ سیدھے ہاتھ کے اِس بالر نے 80ءسے 93ءتک کے عرصے میں پاکستان کی نمایندگی کی، اور 34 ٹیسٹ میچز میں 93 وکٹیں اور 70ون ڈے میچز میں 55 وکٹیں حاصل کیں۔ اقبال قاسم اور عبدالقادر جیسے اسپنرز کی موجودی میں ٹیم میں جگہ بنانا اُن کی بڑی کام یابی تھی۔ اُن کی زندگی دل چسپ واقعات سے پُر ہے، جو آج بھی شائقین کرکٹ کے ذہنوں میں محفوظ ہیں۔آئےں، اب اس کھلاڑی کی کہانی سنتے ہیں۔

٭ایک میڈیم پیسر آف اسپنر کیسے بن گیا؟
توصیف احمد نے آنکھ تو کراچی کے علاقے جیکب لائن میں کھولی، تاریخ تھی 10مئی 1958 ، مگر زندگی کا بڑا حصہ شاہ فیصل کالونی میں گزرا۔ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے ہیں۔ کم سنی میںوالدہ کے سائے سے محروم ہوگئے۔اب پرورش والد اور بھابھی نے کی ۔والد اُن کے کمپاﺅنڈر تھے، نام تھا مسعود احمد۔ کم سن توصیف کافی شرمیلے اور کم گو تھے۔کرکٹ کے رسیا ، مگر کھیلنے کی اجازت نہیں تھی۔والد اس معاملے میںبڑے سخت تھے۔ ایک واقعہ سن لیجیے۔ محلے میں سب گلی ڈنڈا کھیل رہے تھے۔ گلی کچھ دور جاگری۔ انھوں نے فیلڈر کے ڈھب پر اٹھا کر ”تھرو“ کی، تو سیدھی وہاں سے گزرتے دودھ والے کے چہرے پر جا لگی۔ آدمی زخمی ہوگیا۔ وہ وہاں سے بھاگ نکلے، مگردودھ والا گھر پہنچ گیا۔ والد سے شکایت کی۔ اُنھوں نے اپنے بیٹے کا ہاتھ پکڑ کر کہا: ”اِسے لے جا کر پولیس کے حوالے کر دو۔“ بعد میں جب والد نے دودھ والے کی مرہم پٹی کی، تو اس کا غصہ ٹھنڈا ہوا۔کرکٹ کے شوق کی وجہ سے پڑھائی خاصی متاثر ہوئی۔ بڑے بھائی بھی کرکٹ کھیلتے تھے۔ وہ کسی میچ کا حصہ بنتے، تو توصیف کو فیلڈنگ کا موقع ملا جاتا۔ آہستہ آہستہ یہ پھرتیلا فیلڈر نمایاں ہونے لگا۔ یہ امر دل چسپ ہے کہ اُس دور میں وہ آف اسپنر نہیں، میڈیم پیسر تھے۔ جب اس بابت پوچھا، تو بولے،” میرا رن اپ طویل ضرور تھا، مگر گرپ آف اسپنر والی تھی۔ ہاتھ میں ٹرن بھی تھا، پھرسینئرز نے مشورہ دیا،تو آف اسپن کی طرف آگیا، لیکن تیز رفتاری ایکشن کی حد تک قائم رہی۔“

٭پہلا ٹیسٹ ہی پہلا فرسٹ کلاس میچ تھا
کلب کرکٹ کی اہمیت کے وہ قائل۔ اپنے سفر کا آغاز ”پنجاب کرکٹ کلب“ سے کیا تھا۔ پھر ”پاک جیم خانہ“ کا حصہ بن گئے۔79ءمیں فرسٹ کلاس کرکٹر طاہر حسن نے اُنھیں دیکھا، تو بڑے متاثر ہوئے، اور پی ڈبلیو ڈی سے 275 روپے ماہ وار پر کھیلنے کی پیش کش کر دی۔ والد تھوڑے ناراض تھے۔ ان کا خیال تھا، اس کھیل سے روزگار نہیں جڑا، مگر انھیں خود پر اعتماد تھا۔ اسی برس انڈر 19 کے ٹرائلز میں قسمت آزمائی،وہاں تو انتخاب نہیں ہوا، مگر پی ڈبلیو ڈی سے کھیلتے ہوئے فقط تین میچز میں 23 وکٹیں لے اڑے۔ اس کارکردگی کی بدولت جاوید صادق نامی نے ایک صاحب کی نظروں میں آگئے۔ اُنھوں نے ایک انگریزی روزنامے میں مضمون لکھا، جس میں پاکستان کے لیے ایک اچھے آف اسپنر کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے پی ڈبلیو ڈی سے کھیلنے والے ایک باصلاحیت کھلاڑی کی نشان دہی کردی۔ان دنوں آسٹریلیا کی ٹیم دورے پر آئی ہوئی تھی۔ پاکستانی ٹیم کے مینیجر مشتاق محمد تھے۔ جاوید صادق کی اُن سے اچھی سلام دعا تھی۔ کراچی میں کیمپ لگا ،تو اُنھوں نے توصیف احمد کو کیمپ جوائن کرنے کو کہا۔
توصیف متذبذب تھے۔ اور کیوں نہ ہوں، باقاعدہ بلاوا نہیں آیا تھا۔ پہلے دن نہیں گئے، تو دوسرے دن جاوید صادق خودلے کر پہنچ گئے۔وہ دن بھی عجیب تھا۔ جن کرکٹرز کی تصویریں اخبار سے کاٹ کر کاپی میں چسپاں کیا کرتے تھے، وہ سامنے تھے۔ ماضی میں انھوں نے کبھی میچ دیکھنے کے ارادے سے اسٹیڈیم میں پاﺅں نہیں رکھا تھا کہ اس بہانے قومی ہیروز کو قریب سے دیکھ لیتے۔ اب تو عمران خان، جاوید میاں داد اور ظہیر عباس جیسے کھلاڑی روبرو تھے۔ وہاںماجد خان سے بھی ملے، جن سے وہ بہت متاثر تھے۔ بعد میں اہل خانہ اور دوستوں کو اُن ملاقاتوں کا احوال سنایا۔ کبھی سوچا نہیں تھا کہ انھیں منتخب کیا جائے گا، مگر قسمت کی دیوی مہربان تھی۔ دو دن ٹیم کے ساتھ نیٹ پریکٹس کی۔ تیسرے دن ایک غیر رسمی میچ ہوا، اور چوتھے دن اُنھوں نے اپنے کیریر کا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا۔
جی ہاں ، ان کے کیریر کا پہلا ٹیسٹ میچ ہی اُن کی زندگی کا پہلا فرسٹ کلاس میچ تھا۔ دنیائے کرکٹ میں ایسا بہت کم ہوا ہے۔ بعد میں وسیم اکرم بھی اچانک ٹیسٹ کرکٹ کا حصہ بنے، مگر توصیف احمد کے برعکس وہ ایک تین روزہ میچ کھیل چکے تھے۔

٭کیا ٹیم مینیجر نے رشوت لی تھی؟
توقع کے عین مطابق اُن کے انتخاب کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ کسی نے افواہ اڑا دی کہ توصیف کے والدکا برطانیہ میں جما ہوا کاروبار ہے، اور مشتاق محمد نے اُنھیں سلیکٹ کرنے کے لیے رشوت لی ہے۔ چند صحافی خبر کی کھوج میں جب ان کے والد سے ملے، تو سامنا ایک غریب کمپاﺅنڈر سے ہوا، جو اس پورے معاملے کی وجہ سے سخت غصے میں تھا۔
چلیں یہ تو طے ہوگیا کہ ٹیم مینیجر نے رشوت نہیں لی تھی، اب نوجوان توصیف احمد کا حال جانتے ہیں کہ اپنے سلیکشن پر ان پر کیا گزری؟کہتے ہیں،”مجھے منتخب ہونے کی قطعی امید نہیں تھی۔ میرے پاس تو جوتے، پیڈز اور ہیلمٹ وغیرہ بھی نہیں تھا۔ عجلت میں ’کٹ بیگ‘ تیارکیا۔ میچ والے دن اپنے سائز سے ایک نمبر چھوٹا جوتا پہنا ہوا تھا،اس کی وجہ سے ایڑھی سے خون رسنے لگا۔“ اہل محلہ کے لیے بھی یہ تجربہ انوکھا تھا۔ سب اُنھیں اظہر کی عرفیت سے جانتے تھے۔ جب اخبار میںاُن کی تصویر کے ساتھ توصیف احمد لکھا دیکھا، تو گھر پہنچ گئے کہ یہ توصیف احمد کون ہے؟ خیر، وہ ایک خوش گوار لمحہ تھا۔پہلے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں چار وکٹیں لے کر توصیف نے ناقدین کو حیران کر دیا۔ اگلی اننگز میں تین کھلاڑی آﺅٹ کیے۔یعنی سات وکٹیں لے اڑے۔وہ ایک خواب تھا۔ تمام سینئرز نے حوصلہ افزائی کی۔ اُس میچ میں اقبال قاسم نے گیارہ وکٹیں لی تھیں۔ وہ مین آف دی میچ ضرور تھے، تاہم اُنھوں نے ہر موقعے پر نوجوان توصیف احمد کو آگے رکھا۔ وہ مستقبل میں بھی اُن کے کیریر میں کلید ی کردار ادا کرنے والے تھے۔

٭بھائی، یہ صرف پاکستانی پچز کا بولر ہے!
آغاز شان دار تھا، مگر اس کے ساتھ ایک ٹھپا بھی ان پر لگ گیا۔ لوگ کہنے لگے، توصیف صرف پاکستانی پچز کا بولر ہے۔ یہاں آنے والی ٹیموں کے خلاف تو انھیں آزمایا جاتا، مگرسلیکٹرز غیرملکی ٹور پر ساتھ لے کر جانے سے اجتناب برتتے۔ اس کا انھیں صدمہ تھا۔ مشکل کے ان دنوں میں اقبال قاسم حوصلہ افزائی کیا کرتے۔
اس اثنا میں ون ڈے کیریر کا آغاز ہوچکا تھا۔ 82ءمیں شارجہ گئے، مگر انٹرنیشنل ٹیسٹ ٹور کے لیے پورے پانچ برس انتظار کرنا پڑا۔ 85ءمیں پاکستان کے دورے پر آئی سری لنکن ٹیم کے خلاف کراچی میں پانچ وکٹیں لیں، تو اُنھیں مزید نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہا۔ سری لنکا جانے والی ٹیم کا وہ حصہ تھے۔وہاں کینڈی ٹیسٹ میں انھوں نے نو کھلاڑیوں کو ٹھکانے لگا کر میچ جتوایا، اور ثابت کر دیا کہ وہ میچ ونر ہیں۔

٭ کیریر کا افسوس ناک اختتام
گو ان میں بہت کرکٹ باقی تھی، مگر قسمت کو کچھ اور منظور تھا۔ 80ءمیں کیریر کا آغاز کرنے والے اس کھلاڑی کو ون ڈے کرکٹ میں آخر ی بار 90ءمیں، آسٹریلیا کے خلاف آزمایا گیا۔ ٹیسٹ کیریر تین سال مزید چلا، مگر اُس کا انجام بھی کرب ناک ہوا۔ 93ءمیں زمبابوے کے خلاف وہ آخری بار میدان میں اترے۔وہ دکھ بھرا لمحہ تھا۔ بتاتے ہیں، انھیں اپنے انتخاب کی امید نہیں تھی،ذہنی طور پر تیار نہیں تھے،لیکن میچ سے ایک روز قبل بلاوا آگیا، پھر صحیح طرح سے استعمال بھی نہیں کیا گیا۔ایسے میں بھلا وہ کیا پرفارم کرتے۔ اِس میچ کے بعد انھیں پھرموقع نہیں دیا گیا۔ عمران خان اور جاوید میاں داد کی کپتانی میں شان دار پرفارمینس دینے والے توصیف کے لیے سلیم ملک کا دور کپتانی کٹھن ثابت ہوا،مگر وہ بڑے ظرف والے آدمی ہیں، ہمارے پوچھنے پر کسی کا نام لینے سے اجتناب برتا۔
فرسٹ کلاس کیریر بھی متاثر کن تھا۔176 میچز میں 22.02 کی اوسط سے 697 وکٹیں حاصل کیں۔ حبیب بینک کے خلاف 52 رنز کے عوض 8 وکٹوں کا حصول بہترین کارکردگی رہی۔البتہ اس کے اختتام سے بھی اچھی یادیں نہیں جڑیں۔بتاتے ہیں، ہارون رشید نے انھیں یو بی ایل کا حصہ بنایا تھا۔ اٹھارہ سال تک اُس ڈیپارٹمنٹ سے منسلک رہے۔ تین سال کپتانی کی۔کئی کامیابیاں سمیٹیں، مگر 98ءمیں اُنھیں بہ حالت مجبوری گولڈن ہینڈ شیک لینا پڑا۔ حالیہ کہ تین چار سال مزید کھیل سکتے تھے۔ ان جیسے سیلف میڈ آدمی کے لیے وہ مشکل لمحہ تھا۔ اُس موقعے پر سابق ٹیسٹ کرکٹر جلال الدین نے کسٹمز کی جانب سے کھیلنے کی پیش کش کی۔آفر قبول تو کر لی، بہ طور کپتان ایک سیزن کھیلا بھی، تاہم وہ اِس نظام سے دل برداشتہ ہو چکے تھے، اس لیے جلد ہی الگ ہوگئے۔

٭شارجہ کا زمانہ اور موجودہ مصروفیات
2001 میں توصیف احمد کی زندگی میں ایک موڑ آیا۔ شارجہ کی ایک نجی کوچنگ اکیڈمی کی جانب سے اُنھیں کوچنگ کی پیش کش ہوئی ۔ چند سال تک وزٹ ویزے پر آتے جاتے رہے، پھر خاندان سمیت شفٹ ہوگئے۔ کچھ عرصے بعد پی سی بی کی نیشنل کرکٹ اکیڈمی سے بہ طور ”ٹیلنٹ ہنٹ آفیسر“ منسلک ہوگئے۔ زندگی میں پھر ترتیب آگئی۔ ایک عرصے حیدرآباد ریجن کی دیکھ ریکھ کی۔ پھر کراچی کی ٹیم کے کوچ بنے۔ پاکستان اے ٹیم کے کوچ رہے۔ ان کی کوچنگ میں ٹیم نے انگلینڈ سے سیریز جیتی۔ اِس وقت وہ سلیکشن کمیٹی کے رکن ہیں، جس کے سربراہ انضمام الحق ہیں۔
جب اس تناظر میں ہم نے مصباح اور یونس کی ریٹائرمنٹ سے پیدا ہونے والے خلا کی بابت پوچھا، توکہنے لگے،” مصباح اور یونس کی فٹنس کمال کی تھی، وہ پریشر برداشت کرنا جانتے تھے،دونوں بہت اچھے کھلاڑی تھے، دونوں نے بہت محنت کی۔ نئے کھلاڑیوںکو بھی فٹنس پر توجہ دینی ہوگی، اور محنت کرنی ہوگی، تب ہی ان کا خلا پر ہوگا۔“سرفراز احمد میں ان کے مطابق بہت قابلیت ہے۔تسلیم کرتے ہیں کہ ہمارے ہاں ”بیک اپ“ کی کچھ کمی ہے۔آسٹریلیا کے ماڈل کو قابل تعریف ٹھہراتے ہیں۔ہر فارمیٹ کے لیے الگ کپتان کے مفروضے کے قائل نہیں۔ماضی اور حال کا موازنہ کرتے ہوئے ڈیپارٹمنٹل کرکٹ کی زبوں حالی پر بات نکلی، تو بولے، دراصل اب کلب کرکٹ ختم ہوگئی ہے۔ پہلے سب کلب کرکٹ کھیلتے تھے۔ یونس خان اور راشد لطیف کی مثال سامنے ہے۔سرفراز بھی کلب کرکٹ سے آئے۔ اب لوگ محنت سے جی چرانے لگے ہیں۔ سب ”شارٹ کٹ“ کی تلاش میں ہیں۔

٭ شادی کی سال گرہ ہمیشہ بھول جاتا ہوں
صبح کا آغاز چائے کے کپ اور اخبار کے ساتھ ہوتا ہے۔فلموں میں زیادہ دل چسپی نہیں۔ ہاں، محمد علی اور ندیم کی اداکاری سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔مہدی حسن کی آواز پسند۔عام طور سے پینٹ شرٹ پہنتے ہیں۔ کھانے میں دال چاول سے رغبت۔ ٹی وی دیکھتے ہوئے توجہ نیوز چینلزپر مرکوز رہتی ہے۔ 88ءمیں اُن کی شادی ہوئی۔ایک بیٹی اور ایک بیٹا ہے۔ کرکٹ کا شوق بیٹے میں بھی منتقل ہوا۔شفیق والد ہیں۔ بچوں کو ڈانٹنے کی نوبت کم ہی آئی۔ کہتے ہیں،”کبھی کبھار بچے میری نرم مزاجی کا فائدہ بھی اٹھا لیتے تھے۔ اگر کبھی غصہ کیا بھی، تو بچے ہنسنے لگتے ۔“ اُنھیں تاریخیں یاد نہیں رہتیں۔ بیگم کو شادی کی سال گرہ بھول جانے کا ہمیشہ گلہ رہا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭

toseef

٭ مجھے جاوید بھائی دکھائی ہی نہیں دیے
توصیف احمد کی کہانی 86ءمیں ہونے والے شارجہ کپ کے فائنل کے بنا ادھوری ہے۔پاکستان اور ہندوستان کی ٹیمیں مدمقابل تھیں۔ کانٹ دار میچ ہوا، جس کاہر لمحہ ذہن میں محفوظ۔ وہ قصہ کچھ یوں بیان کیا،”بہ ظاہر ہم میچ ہار چکے تھے،مگر جاوید بھائی آخر کے اوورز میں بڑے شاٹس کھیلنے لگے۔ ایک بیٹسمین آﺅٹ ہوگیا۔ اب تین گیندوں پر پانچ رنز چاہیے تھے۔میں پیڈز کیے بیٹھا تھا، مگر عمران بھائی نے ذوالقرنین کو بھیجا۔ میں نے سکون کا سانس لیا، مگرلیکن پہلی ہی گیند پر وہ آﺅٹ ہوگئے۔ جب میں میدان میں اترا، تب دو گیندوں پر پانچ رنز درکار تھے، اور دباﺅ کا یہ عالم تھا کہ وکٹ پر پہنچنے تک مجھے جاوید بھائی دکھائی ہی نہیں دیے۔ خیر، اُنھوں نے پوچھا ’کیا کرو گے؟‘ میں نے جواب دیا ’میں بس بھاگ جاﺅ ںگا۔‘ دراصل میں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ چاہے سے گیند کیپر کے ہاتھوں میں چلی جائے، میں کریز چھوڑ دوں گا۔“ اگلی گیند توصیف احمد کے بلے سے ٹکراکرتیزی سے اظہرالدین کے ہاتھوں میں پہنچ گئی، مگر اس وقت تک انھوں نے رن مکمل کر لیا تھا۔ اگلی گیند پر میاں داد نے ایک تاریخ ساز شاٹ کھیل کر اُس لمحے کو امر کر دیا۔
اُس میچ سے ایک اور مزے دار قصہ جڑا ہے۔ جیت کے بعد شایقین میدان میں داخل ہوگئے، جنھیں باہر نکالنے کے لیے سیکیورٹی گارڈز نے ڈنڈوں کا سہار الیا۔ کہا جاتا ہے کہ توصیف احمد، جو بھاگتے بھاگتے گر گئے تھے، وہ بھی ڈنڈے کی زد میں آئے۔ کیمرے کی آنکھ نے وہ منظر محفوظ کر لیا،جس میں ایک سیکیورٹی گارڈ اُن پر اپنا ڈنڈا تانے کھڑا ہے۔ لائیو نشریات کے دوران یہ منظر ہزاروں افراد نے دیکھا۔ جب توصیف صاحب سے پوچھا،تو انھوں نے تھوڑی مختلف کہانی سنائی۔”جاوید بھائی تو نکل گئے، لیکن میں کسی سے ٹکرا کر گر گیا۔ ذاکر خان مجھے اٹھانے کے لیے جھکے۔ اُسی پل ایک پولیس مین نے ڈنڈا اٹھایا، اور وہی منظر لوگوں نے ٹی وی پر دیکھا، لیکن اگر ڈنڈا پڑا ہوتا تو کیا مجھے درد محسوس نہیں ہوتا؟ حقیقتاً ایسا نہیں ہوا تھا۔ اُس کا ہاتھ اٹھا ضرور تھا، اور ٹی وی پر میں نے بھی وہ منظر دیکھا، لیکن میں اور ذاکر دونوں محفوظ رہے۔“

٭پراسرار پچ، غیرمتوقع سلیکشن اوربیدی کا مشورہ
(بنگلورٹیسٹ کی ڈرامائی کہانی)
توصیف احمد کا کیریر دل چسپ واقعات سے پر ہے، مگر اُن میں سے کوئی بنگلور ٹیسٹ جتنا ڈرامائی نہیں۔ 86-87 میں ہندوستان کا دورہ کرنے والی ٹیم کے لیے اُنھیں منتخب کیا گیا۔ ابتدائی تین ٹیسٹ میچز کھیلے، پھر بیمار پڑ گئے۔ چوتھے میچ میں اعجاز فقیہہ کو اُن کی جگہ کھیلا گیا، جن کی کارکردگی متاثر کن رہی۔ بنگلور کی پچ کے بارے میں عام رائے یہی تھی کہ یہ فاسٹ بولرز کو سپورٹ کرے گی۔یعنی ان کا چانس نہ ہونے کے برابر تھا۔مگرپھر تبدیلی کی ہوائیں چلنے لگیں۔ اعجاز فقیہہ زخمی ہوگئے۔اقبال قاسم ایک روز پہلے توصیف احمد کے سامنے کہہ چکے تھے کہ پچ شایدٹرن کرے ، اختتامی لمحات میں ٹیم مینجمنٹ نے بھی اندازہ لگا لیا، اور اقبال قاسم اور توصیف احمد کو ٹیم میں شامل کر لیا گیا۔
پچ نے واقعی اسپنرز کو سپورٹ کیا۔ مہندر سنگھ نے پاکستانی بلے بازوں کو خوب پریشان کیا۔ اب پاکستانی کیمپ نے اقبال قاسم اور توصیف احمد سے امیدیں باندھ لیں۔ وہ دونوں روم میٹ تھے، اور خاصا دباﺅ محسوس کر رہے تھے۔اُس وقت ٹیسٹ میچ چھے روزہ ہوتا تھا۔ ایک دن آرام کا وقفہ ہوتا ۔ ہولی کا تہوار تھا۔ ایک تقریب میں ہندوستان کے معروف اسپنر بشن سنگھ بیدی سے ملاقات ہوئی۔ اُن سے مشورہ مانگا،تو بولے:” لائن اینڈ لینتھ رکھو۔بس، ایک ہی جگہ گیند کیے جاﺅ۔“ صرف دس منٹ کی ملاقات تھی، مگرانھوں نے مشورے پر عمل کیا۔اقبال قاسم اور توصیف احمد ہندوستانی بلے بازوں پر قہر بن کر ٹوٹے۔ توصیف نے پہلی اننگز میںپانچ اور دوسری اننگز میں چار انڈین کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔اس سنسنی خیز مقابلے میں آخری وکٹ بھی توصیف احمد نے لی۔ بعد میں جب ایک ہندوستانی رپورٹر کے سامنے اُنھوں نے کہا کہ بولنگ کے لیے بش سنگھ بیدی سے ٹپس لیے تھے، تو کہرام مچ گیا۔ بیدی پر ہندوستانی میڈیا نے ملک دشمنی کا الزام عائد کر دیا۔اس الزام کا بیدی نے ایسا کراراجواب دیا کہ سب کے منہ بند ہوگئے۔وہ بولے:”انھوں (توصیف احمد)نے دس منٹ بات کی، اور سمجھ گئے، یہاں والوں کومیں برسوں سے سمجھا رہا ہوں،مگر وہ سمجھ ہی نہیں
رہے۔“

 

Leave a comment

شہر قائد کتب میلہ، عارف شفیق کے اعزاز میں تقریب، رفاقت حیات کا افسانہ: اقبال خورشید

بے شک ادبی محاذ پر کراچی لاہور سے کچھ پیچھے رہ گیا ہے، مگر سبب یہ نہیں کہ ادھر لکھاری اور قاری کا رشتہ کم زور ہوا ہے یا یہ کہ شہر قائداہل علم سے خالی ہوگیا، بلکہ اس کا سبب وہ جبر ، قتل و غارت گیر ی کا وہ تلخ دور ہے ، جس نے ایک عرصے کراچی کو یرغمال بنائے رکھا۔

Main pic.jpg

قابل تعریف ہے وہ طبقہ، جس نے خوف کے سائے میں، فسادات اورہڑتالوں کے باوجود ادب کی شمع روشن رکھی۔اچھا، دو پہلو ایسے ہیں، جن پر شہر کی ادبی صورت حال کا تجزیہ کرنے سے قبل نظر ڈالنا ضروری۔ ایک امر یہ ہے کہ لاہور آج سے نہیں، تقسیم سے پہلے بھی ناشر و اشاعت کا بڑا مرکز تھا۔نئی ریاست کے نئے دارالحکومت کا ہجرت کرنے والے ادبیوں کی بڑی تعداد نے رخ کیا،یہاں نشستوں اور مشاعروں کا سلسلہ شروع کیا، جن کے خاطرخواہ نتائج سامنے آئے، مگر لاہور جس ادبی و ثقافتی ورثے کا حامل ، اس سے موازنہ دشوار تھا۔ پھر یہ تلخ حقیقت بھی پیش نظر رہے کہ آج کراچی ’’فاصلوں کا شہر ‘‘ہے۔موسم تلخ ،ٹریفک جام معمول ۔سفر اذیت ناک۔ آرٹس کونسل اور پریس کلب ادبی سرگرمیوں کے مراکز ہیں، اور سرجانی ، ملیر ، لانڈھی یا اورنگی ٹاؤن میں رہنے والوں کے لیے طویل سفر طے کرکے وہاں پہنچانا اور پھر رات گئے پلٹنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔یہ فاصلے بڑے ظالم ہیں۔ پھر ادبی تقریبات میں وقت کی پابندی کا رواج ذرا کم ہے۔اِن گوناگوں مسائل کے باوجوداگریہ سرگرمیاں جاری ہیں، تویہ امر اطمینان بخش ہے۔
کراچی کا ایک قابل ستائش، بلکہ قابل فخر پہلو شہر قائد کتب میلہ ہے۔ آرٹس کونسل کی تواتر سے ہونے والی اردو کانفرنس، آکسفورڈ کے لٹریچر فیسٹول اور سوک سینٹر کے سالانہ بک فیئر بے شک کراچی کی پہچان ہیں، مگر شہر قائد کتب میلہ کو یہ انفرادیت حاصل کہ اس کا سفر تین عشروں پر محیط ہے۔ جی ہاں، گذشتہ 31 برس سے ہر سال یکم رمضان کو یہ میلہ سجتا ہے، اور چاند رات تک جاری رہتا ہے۔ اردو کتابوں کی نشر واشاعت کے میدان میں شایدہی ایسی کوئی مثال ہو۔تین عشروں تک، بغیر کوئی وقفہ آئے یہ میلہ تیس روزجاری رہتا ہے۔ یاد رہے کہ ان برسوں میں کراچی نے انتہائی تلخ دن دیکھے، جب گھٹن کے باعث سانس لینا بھی دشوار تھا۔ اس میلے کے روح رواں فرید پبلشرز کے مالک، سیدفرید حسین ہیں۔ اُنھوں نے 86ء میں یہ سلسلہ شروع کیا تھا۔ سوچا تھا، کچھ برس شوق پورے کرلیں، مگر پھر یہ جنون بن گیا۔ اور خوشی کی بات یہ ہے کہ اب یہ جنون نئی نسل میں منتقل ہوچکا ہے۔ اب ان کے بیٹے یہ ذمے داری سنبھال رہے ہیں۔ فرید حسین سیاست میں قدم رکھ چکے ہیں، البتہ اس سے غافل نہیں ہوئے۔اس میلے میں ادبی تقریبات بھی منعقد کی جاتی ہیں۔ بزم فروغ ادب و فن (سندھ) اور فرید پبلشرز کے اشتراک سے ہونے والے اس میلے کی ایک انفرادیت یہ بھی ہے کہ یہ مسلسل بارہ سال ماہ محرم میں بھی منعقد ہوتا رہا۔بگڑتے حالات کی وجہ سے کچھ رخنہ آیا، اگر حالات سازگار رہے، تو انتظامیہ اسے دوبارہ کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ یہ انوکھی سرگرمی گلبرگ، ڈسٹرکٹ سینٹرل کے ایک شادی ہال میں انجام دی جاتی ہے۔
اس شہر کا ایک حوالہ عارف شفیق کی شاعری بھی ہے، جس سے کراچی کا کرب، المیہ اور امید جھلکتی ہے۔
غریب شہر تو فاقے سے مر گیا عارف
امیر شہر نے ہیرے سے خودکشی کر لی
اور
جو میرے گاؤں کے کھیتوں میں بھوک اگنے لگی
مرے کسانوں نے شہروں میں نوکری کر لی
کچھ روز ادھرکے ڈی اے آفیسر کلب، کراچی میں اُن کے اعزاز میں ایک تقریب منعقد ہوئی،جس کی صدارت معروف براڈ کاسٹر اور سماجی شخصیت، یاور مہدی نے کی، جنھوں نے عارف شفیق کو حقیقی عوامی شاعر قرار دیتے ہوئے کہا؛ عوامی شعری جالب کے بعد عارف شفیق کے حصے میں آئی۔ سینئر صحافی اور شاعر محمود شام نے اپنی تقریر کہا؛ عارف شفیق کی شاعری میں کراچی کی سسکیاں، پاکستان کا نوحہ سانس لیتا ہے۔پروفیسر انوار احمدزئی نے انھیں ہجرتوں کا شاعر اور شاعری کے دبستان میں کراچی کی علامت ٹھہرایا۔اس موقعے پر صاحب تقریب نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ؛ اُن کا پہلا مقدمہ ابن صفی نے لڑا تھا، اوائل میں رئیس امروہوی اور حکیم سعید نے اُن پر مضامین لکھے، انھوں نے اردو بولنے والوں کے جن مسائل کی ترجمانی کی، اسے پنجاب ، بلوچستان اور خیرپختون خوا کے ادبی حلقوں میں سراہا گیا۔البتہ ان کے اپنے شہروں کے شعرا نے خدمات کا کھلے دل سے اعتراف نہیں کیا۔عارف شفیق کا یہ شکوہ درست ہوسکتا ہے، مگر ان کے زبان زد خاص و عام ہونے والے اشعار کے بعد اب اُنھیں اس اعتراف کی ضرورت نہیں۔
کراچی کی ادبی سرگرمیوں میں اپنے تسلسل اور نوجوانوں کی شرکت کی وجہ سے حلقۂ ارباب ذوق کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ عید ہو، ہڑتال یا کشیدہ حالات؛ یہ ہفتہ وار پروگرام ملتوی نہیں ہوتا۔ اس کے صدررفاقت حیات اور سیکریٹری خالق داد امید ہیں۔ گذشتہ ہفتے حلقے کا اجلاس ڈیمپ کے کانفرنس روم میں ہوا۔ صدارت ہندکو زبان کے ادیب مہتاب شاہ نے کی۔رفاقت حیات نے اپنا طویل افسانہ ’’ سزائے شہرِ طلسم‘‘ تنقید کے لیے پیش کیا۔فرحت اللہ قریشی نے افسانے پر تنقید کا آغاز کرتے اسے ایک طویل افسانہ ٹھہرایا۔ البتہ رفیع اللہ میاں نے اختلاف کرتے ہوئے کہا؛افسانے کی طوالت کوئی مسئلہ نہیں، یہ ایک بچے کے نقطۂ نظر سے لکھا گیا اچھوتا افسانہ ہے۔یہ کسی بھی مقام پر بوجھل یا ثقیل نہیں ہوتا، اورآخر تک تجسس قائم رہتا ہے۔ سید کاشف رضا کے مطابق یہ افسانہ کلاسیک طرز تحریر کا حامل ہے،جزئیات نگاری کا بھرپور استعمال کر تے ہوئے کردار کی ذہنی فضا کو اجاگر کیا گیا ہے۔ افسانے کا مرکزی کردارطلسماتی اور جاسوسی کہانیوں کا رسیا ہے، جوکرفیو کو کوئی جادوئی کیفیت سمجھ لیتا ہے، لیکن جب کرفیو کی سفاکی سے سامنا ہوتا ہے، تو اس کے تخیل کی دنیا کو شدید چوٹ پہنچتی ہے۔اس موقعے خالق داد امید ، شعیب قریشی ، ظہیر عباس نے بھی اظہار خیال کیا۔ آخر میں صاحبِ صدر مہتاب شاہ نے افسانے پر ہونے والی بحث کو سمیٹتے ہوئے کہا کہ رفاقت حیات نے بڑے شہر میں بسنے والوں پر کرفیو کے دوران بیتی کیفیات پر عمدہ افسانہ لکھا ہے۔

Arif Shafiq, Rafaqt Hayat

Leave a comment

طاقت کا ڈیڈ لاک : اقبال خورشید

اگر حکومت خوداحتجاج کی راہ پر چل پڑی، ۹۰کی دہائی کے مانند ادارے آمنے سامنے آن کھڑے ہوئے، تو موجودہ حالات میں، جب ملک اندرونی و بیرونی خطرات سے دو چار، طاقت کا ڈیڈ لاک پیدا ہوجائے

main sahib

 

تپش بڑھتی جارہی ہے،سیاسی محاذ گرم ہوچکا ،کوئی غیرمتوقع واقعہ رونماہونا عین امکانی ہے۔

رانا ثنا اللہ کی جانب سے جے آئی ٹی کے خلاف تحریک کے ہراول دستے میں شامل ہونے کا عزم دراصل عندیہ ہے۔ گو طلال چوہدری نے تفتیشی ٹیم کو” قصائی کی دکان‘‘ کہنے پر معافی مانگ لی،مگر اُن تلخ الفاظ کی بازگشت اب بھی سنائی دیتی ہے۔ نہال ہاشمی سے متنازع تقریر پر، بطور سزا جو استعفیٰ طلب کیا گیا تھا، وہ استعفیٰ ہاشمی صاحب بڑی سہولت سے واپس لے چکے ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کا بیان ”ایک خاندان پر انصاف کی بندوق تان لینا درست نہیں!‘‘اندیشوں کو بڑھاوا دیتا ہے۔ حسین نواز کی تصویرکا بھی ذکر ضروری، جسے ن لیگ نے اپنے حق میں استعمال کرنے کی کامیاب کوشش کی۔ 

عمران خان، جو دھرنے سمیت اپنے بیش تیر سیاسی اقدامات میں ناکامی کے بعد اب فردوس عاشق اعوان اورنذر گوندل کی پی ٹی آئی میں شمولیت کی وجہ سے تنقید کی زد میں ہیں،فی الحال مطمئن دکھائی دیتے ہیں۔ طاہر القادری کو بھی پاکستان لوٹتے سمے اب انقلاب کے نعرے کی ضرورت نہیں ۔ دراصل لمحۂ حال میں یہ حکومت اور اپوزیشن کی جنگ نہیں۔ اور یہ امر صورت حال کو پُرپیچ بنا دیتا ہے۔ عدلیہ کی جانب سے حکمرانوںکا براہ راست احتساب اور وزیر اعظم کے صاحب زادوں سے پوچھ گچھ ایک روایت شکن اقدام ہے، جو فقط جمہوری دور میں ممکن۔ بے شک ماضی میں پیپلزپارٹی کے خلاف بھی کرپشن اور دیگر الزامات میں کڑی تحقیقات ہوئیں، بے نظیر بھٹو نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں(اُن کی پرانی تصاویر بھی موازنے کی خاطرآج کل سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں) آصف علی زرداری ایک طویل عرصے تک پابند سلاسل رہے، بھٹو صاحب کو پھانسی ہوئی۔اور یہ قربانیاں قابل تعریف ہیں، مگریہ اُس دورسے تعلق رکھتی ہیں، جب پی پی اپوزیشن میں تھی۔ اس کے برعکس حسین اور حسن نواز سے پوچھ گچھ اس زمانے میں ہورہی ہے، جب وفاق میں ن لیگ کی حکومت اورمیاں نواز شریف ملک کے وزیر اعظم ہیں۔ یہ بات جہاں حکومت کے حواریوں اور حامیوں کے لیے بے چینی کا باعث، وہی اس کی وجہ سے ایک ڈیڈ لاک بھی پیدا ہوگیا ہے۔ 

عدلیہ، فوج اور پارلیمنٹ؛ ان تین اداروں کا استحکام اور باہمی تعلق ترقی کے لیے ضروری۔ اور اگر ان کے رشتے میں تنائو در آئے، تو بگاڑ کا جنم ہوتا ہے۔آج یہی تنائو حکومتی وزرا کے بیانات سے جھلکتا ہے۔اور اس تنائو سے اپوزیشن فائدہ اٹھانے کی تیاری کر رہی ہے۔ بلاول بھٹو نے اپنے اِس اعلان کے لیے کہ” اگر تصادم ہوا، توپیپلزپارٹی آئینی اداروں کا ساتھ دے گئی‘‘ پنجاب کا چنائو کیا۔ سیالکوٹ میں کھڑے ہو کر عمران خان کی جانب سے اپنی اسٹریٹ پاور کا تذکرہ بھی بے سبب نہیں۔ روایتی طرز سیاست اختیار کرنے پر وہ اپنے منشور سے ضرور بھٹک گئے ہیں،مگر یہ بھی ایک ڈھب پر تیاری ہی ہے کہ یہاں الیکشن میں روایتی سیاسی نسخے ہی کارگر ۔ ق لیگ بھی دھیرے دھیرے خود کواکٹھا کر رہی ہے۔ گو پرویز مشرف کی فوری آمد متوقع نہیں، مگر وہ ہمیشہ توباہر نہیں رہیں گے۔ ان کے لیے گنجائش پیدا کی جاسکتی ہے۔

ویسے اگر اس سیاسی منظر سے ہم جے آئی ٹی کو خارج کر دیں، تو اپوزیشن کی یہ ساری سرگرمیاں، یہ بیانات، اعلانات، کسی بڑے اتحاد کا امکان۔۔۔ سب بے معنی ہیں۔ گو لوڈشیڈنگ کی وجہ سے حکومت کی مقبولیت میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن اگر فوری انتخابات کا اعلان کر دیا جائے، تب بھی پلہ ن لیگ ہی کا بھاری ہوگا۔ ہاں،وہ اکثریت نہیں ملے گی، جو 2013 میں ملی تھی۔ اوراگر الیکشن وقت پر ہوں، تب بھی ن لیگ کے امکانات روشن۔ البتہ وزیر اعظم کے صاحب زادوں کی مسلسل پیشی، حکومتی وزرا کے سخت بیانات اور اداروں کے درمیان بڑھتے تنائو کی وجہ سے امور حکومت میں تعطل یا خلل کا جوتصور ابھررہا ہے، موجودہ حالات میںوہ پریشان کن ہے کہ خطۂ عرب مزید تقسیم ہونے کو ہے،ایران تازہ تازہ ایک بڑے دہشت گرد حملے کا شکار بنا ہے،پاک افغان رشتے میں اعتماد کی کمی ہے،اوربھارت سے تعلقات استوار کرنے کی کوششوں کومزاحمت کا سامنا ہے۔ ایسے میںامور حکومت میں کسی بھی قسم کارخنہ ، چاہے اُس کے پیچھے نیک نیتی ہی کیوں نہ ہو،انتشار کا سبب بن سکتا ہے۔ 

روسی صدرولادیمیر پوتن کی سوانح عمری ”مردآہن‘‘ میں، جس کا ترجمہ ڈاکٹر نجم السحر بٹ نے براہ راست روسی سے کیا، ایک واقعہ درج ، جو سوویت یونین کے زوال پر روشنی ڈالتا ہے۔ یہ پوتن کی ”کے جی بی‘‘ کے شعبۂ سراغ رسانی سے وابستگی کا زمانہ تھا۔وہ بہ طور سینئر آپریشن آفیسر مشرقی جرمنی میں تعینات تھے۔وہاںحالات تیزی سے بدل رہے تھے۔ دیوار برلن گرائے جانے کا واقعہ قریب آتاجارہا تھا۔ پوتن نے اُن دنوں کو یوں یاد کیا:” قومی سلامتی کے ادارے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے لگے۔۔۔جرمن عوام ان کے زیر کنٹرول زندگی سے اکتا گئے تھے۔۔۔ سوویت یونین کے مانند وہاں تیس سال سے شخصی نظام حکومت قائم تھا۔‘‘جب جرمنوں نے وزارت امور قومی سلامتی کی عمارت پر دھاوا بولا، تو اس بلڈنگ کا بھی رخ کیا، جہاں پوتن اور ان کے ساتھی کئی اہم دستاویزات کے ساتھ موجود تھے۔ پوتن نے مظاہرین سے مذاکرات کرنے کی کوشش کی، مگر ہجوم کا رویہ جارحانہ تھا۔ جرمنی میںتعینات سوویت فوج کے دستے سے رابطہ کیا گیا ۔جواب ملا: ”ہم ماسکو سے ہدایت لیے بغیر کچھ نہیں کرسکتے، اور ماسکو خاموش ہے!‘‘ مجمع تو کچھ دیر بعد منتشرہوگیا، مگر پوتن کے بہ قول : ”ماسکو خاموش ہے، یہ الفاظ سن کر مجھے ایسا محسوس ہوا، جیسے ہمارا ملک ختم ہوگیا، یہ بات واضح ہوگئی کہ سوویت یونین بیمار ہے ، اور اس جان لیوا بیماری کا نام ہے: طاقت کا تعطل، حکومت کرنے کی طاقت کا تعطل۔‘‘

یاد رکھیں، تحریک انصاف کے کسی نئے دھرنے سے شارع دستور تو متاثر ہوسکتی ہے، آس پاس بسنے والوں کے معمولات زندگی میں بھی خلل آسکتا ہے، لیکن اگر حکومت خوداحتجاج کی راہ پر چل پڑی، کوئی تحریک شروع کر دی،90 کی دہائی کے مانند ادارے آمنے سامنے آن کھڑے ہوئے، تو موجودہ حالات میں، جب ملک اندرونی و بیرونی خطرات سے دو چار ، طاقت کا ڈیڈ لاک پیدا ہوجائے، جو سسٹم کے لیے مضر ثابت ہوگا۔ حکومت مخالفین تصادم کی آس لگائے بیٹھے ہیں، اپوزیشن بھی تیاریوں میں جٹی ہے، اس تنائو میںکوئی غیرمتوقع واقعہ رونماہونا عین امکانی ہے۔اورایسے میںنظریں وزیر اعظم پر ٹکی ہیں۔ میاں نواز شریف اپنے سیاسی تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے حالیہ برسوں میں کئی بحرانوں سے نکل چکے ہیں۔ وہ تحمل اور تدبیر کے ساتھ اس بحران سے نکلنے کا راستہ بھی تلاش کرسکتے ہیں۔ آستانہ میں ان کی پوتن سے بھی ملاقات ہوئی ہے۔ ممکن ہے، سی پیک میں دلچسپی رکھنے والے روسی صدر کے پاس کوئی کارآمد مشورہ ہو۔ 

 

Leave a comment

ڈائری میں محفوظ دوسیاست داں: اقبال خورشید

تب مکہ کی ہر گلی سے مسجد الحرام کے بلند مینار دکھائی دیتے تھے۔ مینار، جن کے ماتھے پر چاند تھا۔ تب مکے کی ہر سڑک خانہ کعبہ کی اور جاتی تھی۔

dairy

ڈائری میں محفوظ دوسیاست داں
نمک کا آدمی :اقبال خورشید

تب مکہ کی ہر گلی سے مسجد الحرام کے بلند مینار دکھائی دیتے تھے۔ مینار، جن کے ماتھے پر چاند تھا۔
تب مکے کی ہر سڑک خانہ کعبہ کی اور جاتی تھی۔ تب ان راستوں پر ایسے چھوٹے بڑے مکانات تھے، جو صدیوں پرانے معلوم ہوتے۔ ہاں، اُن پر رنگ کر دیا گیا تھا، تزئین و آرائش بھی کی گئی، مگران میں سانس لیتی قدیم فضا برقرا رتھی۔ اُن میںدور رسالت کے قریبی زمانوں کی نشانیاں دکھائی دیتیں۔ اور وہ نشانیاں بھی تھیں، جو عین اُس دور کی تھیں،جب غار حرا سے نور اترا تھا۔ اور کچھ ایسی نشانیاں بھی تھیں، جو اس دور سے بھی پہلے کی تھیں، جیسے مقام ابراہیم، صفا و مروہ کے پہاڑ، جن کے درمیان متلاشی سات چکر لگاتے ہیں، خانہ کعبہ، پھر حجر اسود۔
ابھی بلند و بالاعمارتیں تعمیر نہیں ہوئی تھیں، جو اُس کا حسن گہنانے والی تھیں۔ مسجد الحرام کے آس پاس، جہاں دوران حج لاکھوں افراد سما سکتے ہیں،کھانے پینے کی چھوٹی چھوٹی دکانیں تھیں،جن کے پہلو سے گزرتے ہوئے اشتہا انگیز مہک نتھوں کو بھر دیتی تھی۔ یہاں کام کرنے والے عام لوگ تھے۔ غریب افریقی ممالک سے آنے والے۔ یا پھر ہندوستانی، پاکستانی اوربنگالی۔ ایک سمت چھوٹے سے ٹھیے پر خوش ذائقہ شاورماتیار ہورہا ہے، جو اب ہمارے ہاں بھی عام ہوگیا ہے۔ ابلے ہوئے چنوں سے بنی ہمس، جس پر تیرتا زیتون کا تیل اُسے جنت سے اتری سوغات بنا دیتا۔ مونگ کی دال کے پکوڑے، جنھیں روٹی میں بھر دیا جاتا، اوپر سے سرکے میں ڈوبی سبزیاں سجا دی جاتیں۔ اور پھر سب سے انوکھی ،لوبیا اور مسور کی دال سے بنی فول، جو بڑی بڑی دیگوں میں تیار ہوتی۔ ساتھ سخت خوش ذائقہ روٹی، جسے بسکٹ کہا جاتا۔ ان انتہائی ارزاں نرخوں پر دستیاب کھانوں سے میرے بچپن کی حسین یادیں جڑی ہیں کہ میں اس شہر کی گلیوں میں گھومتے ہوئے بڑا ہوا، جہاں بیش تر ٹیکسی ڈرائیور پاکستانی تھے، جو حاجیوں کو زیارتوں پر لے جایاکرتے۔ جہاںراہ چلتے لوگ یوں اردو بولتے تھے، جیسے کراچی یا دہلی میں چلتے پھرتے ہوں۔ یہ دو عشروں پہلے کا مکہ ہے، جہاں ہونے والی غیرمتوقع بارشیں دل کو ناقابل بیان مسرت سے بھر دیا کرتیں۔ اب تو بہت سی بلند عمارتیں تعمیر ہوگئی ہیں۔ تب ہر گلی سے مسجد الحرام کے بلند مینار دکھائی دیتے تھے، جن کے ماتھے پر چاند تھا۔
ہم جدہ میں مقیم تھے۔ ایک گرم ساحلی شہر۔کراچی کے مانند تیز رفتار۔ ترقی کرتا ہوا۔ مگر کراچی کے برعکس انتہائی منظم۔صاف ستھرا۔ پرامن۔ جدہ اور مکہ میں 70 کلومیٹر کا فاصلہ تھا، جو ہم اکثر 83 ماڈل کی ایک سفید مزدا میں، لگ بھگ ایک گھنٹے میں طے کر لیا کرتے۔اور مکہ میں داخل ہو کر اشتہا انگیز مہک کو پھلانگتے ہوئے، سنگ مرمر کے فرش سے گزرتے ہوئے ان بلند دروازوں سے مسجد میں داخل ہوتے، جہاں سے خانہ کعبہ سامنے دکھائی دیتا تھا۔ ہمیں راستے ازبر تھے۔ بچے والدین سے الگ ہو کر خود ہی طواف کر لیاکرتے، خود ہی صفا ومروہ کے درمیان دوڑتے، ٹھنڈا زم زم پیتے، اور پھر ایک مقررہ وقت پر، ایک سبز ٹیوب لائٹ کے نیچے، جو حجر اسود کے عین سیدھ میں تھی، اکٹھے ہوجاتے۔ تب وہاں گم ہونے کا امکان نہیں تھا۔ سبز ٹیوب لائٹ موجود تھی۔ جانے اب وہ وہاں ہے یا نہیں۔ اگر اب اُسے ہٹا دیا گیاہو، اور میںوہاںجاﺅں، تو شاید خود کو گم کر بیٹھوں۔ اجنبیوں کی طرح بھٹکتا پھروں۔
جدہ کے ایمبیسی اسکول کی انتظامیہ کو ہمیشہ گنجائش کی کمی کا مسئلہ درپیش رہا۔ وہاں پاکستانیوں کی بھرمار تھی۔ یہ برصغیر سے اڑان بھرنے والے محنت کش ہی تھے، جنھوں نے اِس ریاست کے اداروں کو مستحکم کیا کہ مقامی اتنی محنت کے عادی نہیں تھے۔ ایمبیسی اسکول میں یوں تو پاکستان سے آنے والی کئی معروف ہستیاں مدعو کی جاتیں، مگر جو پذیرائی عالم چنا کی ہوئی، اُس کی مثال ملنا مشکل ہے کہ جب وہ دراز قد شخص پرنسپل کے کاندھے پر ہاتھ رکھے ہال میں داخل ہوا تھا، تو ایک سپراسٹار کے مانند اس کا استقبال ہوا ۔ وہاںکچھ ایسے سرکاری عہدے داروں، وزیروں سفیروں کو بھی مدعو کیا جاتا، جن میں طلبا کو قطعی دلچسپی نہیں ہوتی۔ ہاں، طارق جیکسن جیسا کوئی فنکار بھولے بھٹکے ادھر آجاتا، تو ہماراتجسس آسمان پر پہنچ جاتا، اور ہم ایک انوکھے تجربے سے دوچار ہوتے۔ آج پرانی ڈائری کے اوراق پلٹا ہوں، تو یاد آتا ہے کہ اسی اسکول میں ایک روز عمران خان کی آمد ہوئی تھی۔ وہ92 ورلڈ کپ کے فاتح تھے۔ ایک مصلح، جس نے اپنا سب کچھ شوکت خانم کے لیے وقف کر دیا تھا۔ تب وہ ایک ہیرو تھے۔ تب پی ٹی آئی کا کوئی وجود نہیں تھا۔ ہم کپتان سے محبت کرتے تھے۔ اور اس کی درخواست پر اپنی پاکٹ منی، جو اکثر ایک ریال پر مشتمل ہوتی تھی، چندے کے بکس میں ڈالنے کواتاولے ہورہے تھے۔ ہمیں قطعی علم نہیں تھا کہ یہ اسپتال کہاں تعمیر ہوگا، مگر سامنے کپتان تھا۔ وہ بے داغ تھاکہ تب اُس کے کاندھوں پر اُن الزامات کا بوجھ نہیں تھا، جو کئی برس بعد مخالفین اس پر اور وہ مخالفین پرلگانے والا تھا۔خان نے سفید شلوار قمیص پہن رکھی تھی۔ اور سادہ لہجے میں بات کرتا تھا۔ میں بھیڑ کو پھلانگتا ہوا قریب پہنچ گیا تھا۔ خان سے ہاتھ ملایا۔ اُس کا ہاتھ سخت تھا، مگر گرفت نرم تھی۔ بہت رش تھا۔ میں آٹو گراف نہیں لے سکا۔
البتہ الطاف حسین، جنھیں اب ”بانی تحریک“ کے خطاب پر گزارا کرنا پڑ رہا ہے،جب عمرے پر آئے تھے، تو میں آٹو گراف لینے میں کامیاب رہا۔ کراچی میں آپریشن شروع ہونے کو تھا۔جدہ کے نزدیک ایک فورم ہاﺅس میں تقریب منعقد کی گئی ۔ شرائط کڑی تھیں۔ اسپیکر کی آواز دھیمی رکھی گئی۔ نعروں کی ممانعت تھی۔ سامعین جذباتی ہو کر نعرے لگاتے، تو بھائی خود ہی ہاتھ اٹھا کر اُنھیں روکتے کہ ادھر سیاسی سرگرمیوں پر پابندی تھی۔ مگر نعرے وقفے وقفے سے لگتے رہتے کہ وہ کراچی کے ووٹر نہیں تھے، اورسیز پاکستانی تھے۔ آخر الطاف حسین کو کہنا پڑا: اگر اب کوئی نعرہ لگا، تو میں تقریر نہیں کروں گا۔ جب وہ خواتین سیکشن میں آئے، تو ہر کوئی اُنھیں عمرے کی مبادک باد دیتا، اورآٹو گراف بک آگے بڑھا دیتا۔ آخر ی دستخط جو انھوں نے اُس روز کیے، وہ میرے لیے تھے۔ اُنھوں نے علم حاصل کرنے کی نصیحت کی تھی۔(ہم کراچی کے ووٹرز نہیں تھے)وہ آٹو گراف کئی روز میرے پاس رہا۔ پھر جانے کہاں کھو گیا۔ اگلے روز جب میں نے اسکول کے اُن طلبا کو، جن کا تعلق پنجاب، بلوچستان اور سرحد سے تھا، بتایا کہ کل ہم الطاف حسین سے ملے تھے، تو وہ قطعی متاثر نہیں ہوئے کہ وہ نہیں جانتے تھے کہ میں کس کی بات کر رہا ہوں۔ ہاں، ایک نوجوان نے یہ ضرور کہا کہ میں جھوٹ بولتا ہوں، الطاف حسین حالی کا توبرسوں قبل انتقال ہوچکا ہے۔
مکہ کی سڑکوں، مکانوں میںسانس لیتا قدیم احساس، اشتہا انگیز مہک اور زم زم میرے بچپن کی حسین ترین یادیں ہیں۔میری ڈائری میں محفوظ ہیں۔ اوراُن ہی ڈائریوں میں عمران خان اور الطاف حسین بھی موجود ہیں۔ جو اُن شخصیات سے یکسر مختلف دکھائی دیتے ہیں، جو وہ آج ہیں ۔اور یہ بدلاﺅ ان فیصلوں کی دین ہے، جو اُنھوں نے اِن برسوں میں کیے۔ اور اُن میں سے بیشتر غلط تھے۔
اُن ہی زمانوں میں،جب ہم کمبل میں چھپ کر ناول پڑھا کرتے تھے، ایک اور سیاست داں سے ملاقات ہوئی تھی، اور ایک سے زائد بار ہوئی تھی کہ وہ وہاں جلاوطنی کی زندگی گزار رہا تھا۔ اور کسی کو امید نہیں تھی کہ وہ ایک بار پھر ملک کا وزیر اعظم بن سکتا ہے۔ مگر ایسا ہوا، اور اِس کا سبب میاں نواز شریف کے فیصلے بنے۔
اُن ملاقاتوں کا احوال پھر کبھی سہی۔

Leave a comment

روشن مستقبل کا دعویٰ فقط دھوکا؟ اقبال خورشید

ہر وہ لیڈر، جو آپ کو روشن مستقبل کی نوید سنا رہا ہے،یا تو آپ کو دھوکا دے رہا ہے، یا پھر خود غلط فہمی کا شکار ہے۔

 new

اوراِس معاملے کا تعلق پاناما اور ڈان لیکس سے نہیں ۔حکومتی پالیسیوں اور اپوزیشن کے احتجاج سے بھی نہیں۔ میاں نواز شریف،عمران خان اور آصف علی زرداری کے حالیہ بیانات سے بھی نہیں، کلبھوشن کیس سے بھی نہیں،یہاں تک کہ قومی اقتصادی کونسل کے تازہ تازہ منظور کر دہ ”پاکستانی تاریخ کے سب سے بڑے ترقی بجٹ “سے بھی۔اس کا تعلق تواُن سات عشروں سے ہے، جن میں ہم منزل سے بے خبرصحراﺅں میں بھٹکتے رہے۔ اِسی بے سمتی کے باعث آج ریاست کی تابناکی کے دعوے کھوکھلے معلوم ہوتے ہیں۔ گرد اتنی ہے،بھانت بھانت کی بولیاںہیں کہ سچ، جو سورج سا عیاں ہے، دکھائی نہیں دیتا۔اور اسی دھند کے باعث جو صاحبان، لیڈران رقت آمیز لہجوں میں، یا صوفیوں کے ڈھب پر روشن مستقبل کی نوید سنا رہے ہےں، اُن سب کو ایک لاٹھی سے ہانکنا سراسرزیادتی ہوگی۔ ہمیںکچھ کوبہ ہرحال رعایت دینی چاہے۔ ممکن ہے، وہ نیک نیتی سے ایسا کر رہے ہو،جسے کسی زمانے میں ممتاز مفتی،اشفاق احمد اور بانوقدسیہ جیسے قلم کار کیا کرتے تھے، مگر یہ طے ہے کہ روشن مستقبل کے دعووں کے آگے گرد کی دیوار ہے۔
جیسے عرض کیا، ہماری اس اِس قنوطیت کا تعلق لوڈشیڈنگ جیسے عارضی مسئلے سے نہیں، گو اس نے شہریوں کی زندگی اجیرن کررکھی ہے۔ اس کا ناتا قلت آب سے بھی نہیں، گو پانی انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔ اس کا سمبندھ بے روزگاری سے بھی نہیں، گو روزگار انسان کا بنیادی حق ہے۔ یہاں تک کہ اس کا رشتہ دہشت گردی سے بھی نہیں، جس کی وجہ سے ہماری ماﺅں کے دلوں میں خوف گھر کر گیا۔ دوسری طرف ملک میں بچھائی جانے والی سڑکیں، سی پیک منصوبہ، عالمی اداروں کے پرکشش معاہدے ، سرکار کے دعوے، تجزیہ کاروں کی پیش گوئیاں؛ سب مل کر بھی اِس قنوطیت کو توڑ نے میں ناکام ہیں۔
پہلے بھی لکھا تھا، پانچ بنیادی مسائل ہیں:ناخواندگی، ناانصافی، بے روزگاری، عدم تحفظ اورشعبہ¿ صحت کی زبوں حالی۔ جب تک یہ حل نہیں ہوں گے، جمہوریت اور میگا پراجیکٹس سے روشن مستقبل کی آس تو لگائی جاسکتی ہے، مگر حقیقی ترقی کا حصول،جس کے ثمرات آج امریکا اور یورپ میں نظر آتے ہیں،دشوار ہے۔ان پانچ مسائل کو حل کرنا صنعتی و تعمیراتی منصوبوں اور ٹیسٹ کرکٹ میں نمبر ون ٹیم بننے سے زیادہ اہم ہے۔ اچھا، اِن پانچ دشوار گزار گھاٹیوں کے علاوہ ایک خلیج اور ہے۔ اصل چیلنج وہی۔ یہ مسلسل تقسیم در تقسیم ہونے کا عمل ہے۔ گروہوں میں، طبقات میں فرقوں میں بٹنے کا عمل۔ ایک دوسرے سے دور ہونے کا عمل۔ ایک سندھی ہے، تو دوسرامہاجر۔ ایک امیر ہے، تو دوسرا غریب، ایک دیوبندی ہے، تو دوسرا بریلوی، ایک اسلامسٹ ہے، تو دوسرا لبرل۔
اس تقسیم کے پیچھے غیروں کی سازش بھی ہو گی۔ بے شک بھارت سن 47ءسے ہمیں کمزور کرنے کے درپے ہے۔ پڑوسی اسلامی ممالک کے اپنے مسائل ، اپنی پالیسیاں ہیں، جو انھیں وقفے وقفے سے ہمارے خلاف لا کھڑا کرتی ہیں۔اس وقت بھی افغانستان اور ایران سے ہمارے تعلقات میں تلخی ہے۔امریکا کبھی ہمارا دوست نہیں رہا۔ آقا بننا اس کا مطمح نظر تھا اور ہے تو بے شک اس تقسیم کو بڑھاوا دینے میں غیروں کی سازشیں بھی شامل ہوں گے، مگر اپنوں کی کوتاہیوں کی فہرست بھی طویل۔ آمریت ہو یا جمہوریت، سب نے اپنے مفادات کے لیے اس خلیج کو بڑھایا ہے۔
تقسیم کے لیے تذبذب سب سے موثر ہتھیار ہے، جوماضی کے مانند آج بھی بھرپور طریقے سے برتا جارہا ہے۔دور جانے کی ضرورت نہیں، تازہ واقعات میں اُس ابہام کی جھلک دیکھ لیجیے، جو اس ریاستی بیانیہ کی راہ میں چٹان بنا کھڑا ہے، جسے رائج کرنے کی خواہش تو بار بار دہرائی گئی، مگر اس کے نفاذ کے لیے سنجیدہ اقدامات دکھائی نہیں دیتے۔ مذہبی جامعات کی تقریبات میں علما سے نئے بیانیہ کی تشکیل کی درخواست کرنا کافی نہیں، نصاب میں انقلابی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ نصاب، جو ابہام کو جنم دینے کا اصل آلہ ہے۔ نصابی کتابوں میں، سوشل اسٹڈی اور پاکستان اسٹڈی کی کتابوں میں تاریخ نہیں من پسند تاریخ درج ہے۔
بات دُور نکل جائے گی، جس تذبذب کا ہم شکار ہیں، اسے سمجھنے پرکھنے کے لیے ملالہ یوسف زئی کا کیس سامنے ہے۔ملالہ سے متعلق رائے عامہ بری طرح منقسم ہے۔ تقسیم میں کوئی مضائقہ نہیں، مگر جب تقسیم اتنی شدید ہو کہ غداری اور کفر کے فتویٰ داغے جانے لگیں، تو معاملہ حساس ہوجاتا ہے۔ ملالہ کے حامی اور مخالفین دو انتہاﺅں پر کھڑے ہیں۔ اور یہی صورت حال دیگر کیسز میں دکھائی دیتی ہے۔ ہود بھائی کا معاملہ دیکھ لیجیے۔ کشتوں کے پشتے لگ گئے۔ ادھر قندیل بلوچ پر فلم بننے کی خبر آئی، ادھر سوشل میڈیا پر گھمسان کا رن پڑا۔ ایک دوسرے کے بخیے ادھیڑ دیے گئے۔ مشال خان کیس ہی کو لیجیے۔ جس شخص پر توہین کا الزام عائد کر دیا جائے، وہ اگر مظلوم ہو، تب بھی اس کے حق میں آوازیں کم ہی اٹھتی ہیں۔ ابتدا میں اس محاذ پر بھی خاموشی تھی۔ خیبرپختون خوا کی حکومت کو کریڈٹ جاتا ہے، جس نے پہلے پہل واضح موقف اختیار کیا، پھر وفاقی حکومت نے مذمت کی، کورٹ نے نوٹس لیا، یوں تذبذب کچھ گھٹا، مگر ختم نہیں ہوا۔ او رہونے بھی نہیں دیا جائے گا۔ اسی تذبذب کا ہم تب شکار ہوتے ہیں، جب اقلیتوں کی عبادت گاہوں پر خودکش حملہ ہوتا ہے۔ اکثریت فیصلہ کرنے سے قاصر رہتی ہے کہ اُسے کیا ردعمل ظاہر کرنا چاہیے۔ جب بھٹے پر کام کرنے والے مسیحی جوڑے کو جلادیا جاتا ہے، تب بھی عوام کچھ الجھ جاتے ہیں۔ جب لعل شہباز قلندر کے مزار پر دھماکا ہوتا ہے، تب بھی شہری متذبذب نظر آتے ہیں۔ وہ مذمت کرتے ہیں، مگر کھل کر مذمت نہیں کرتے۔ مذمت میں اگر، مگر چوں کہ چنانچہ کی بھرمار ہوتی ہے۔
مذکورہ کیسوں کی نوعیت تو خصوصی ہے،یہاںتو عمومی معاملات میں بھی تذبذب کا عفریت پھنکار رہا ہے۔ ہم سائنس سے متعلق اب بھی کنفیوژ ہیں۔ پروفیسر اور ریسرچ اسکالر ہونے کے دعوے دار، بڑے اطمینان سے جنات سے بجلی پیدا کرنے اور کشش ثقل کو رد کرنے میںاپنی توانائیاں صرف کر رہے ہیں۔ لڑکیوں کی تعلیم سے متعلق بھی ہمارا موقف واضح نہیں۔یہی معاملہ دولت کا ہے۔ ایک جانب ہمیں اس کی چاہ ، دوسری طرف ہم اُسے تمام برائیوں کی جڑ ٹھہراتے ہیں۔ ایک سمت جمہوریت کو بہترین نظام قرار دیا جاتا ہے، دوسری جانب ہم تمام سیاست دانوں کوکرپٹ ٹھہراتے ہیں۔دنیا اور آخر ت سے متعلق بھی ہم متذبذب ہیں۔
کہاں تک سناﺅں، کہانی یہ طویل ہے۔ قصہ¿ مختصر؛ہر وہ شخص، جو روشن مستقبل کی نوید سنا رہا ہے،یا تو آپ کو دھوکا دے رہا ہے، یا پھر خود غلط فہمی کا شکار ہے۔کیوں کہ جب تک ہم بہ طورقوم تذبذب سے آزاد نہیں ہوں گے، وہ ریاستی بیانیہ تشکیل نہیںپاسکے گا، جو راہ ترقی کی نشان دہی کرتا ہے۔ اور جب تک یہ نشان دہی نہیں ہوگی، ہم ناخواندگی، ناانصافی، بے روزگاری، عدم تحفظ اور شعبہ صحت کی زبوں حالی جیسی گھاٹیاں عبور نہیں کرسکیں گے۔ اور جب تک یہ گھاٹیاں عبور نہیں ہوں گے ریاست کی تابناکی کا ہر دعویٰ حقیقت کی کسوٹی پر خام نکلے گا۔