Leave a comment

شہر قائد کتب میلہ، عارف شفیق کے اعزاز میں تقریب، رفاقت حیات کا افسانہ: اقبال خورشید

بے شک ادبی محاذ پر کراچی لاہور سے کچھ پیچھے رہ گیا ہے، مگر سبب یہ نہیں کہ ادھر لکھاری اور قاری کا رشتہ کم زور ہوا ہے یا یہ کہ شہر قائداہل علم سے خالی ہوگیا، بلکہ اس کا سبب وہ جبر ، قتل و غارت گیر ی کا وہ تلخ دور ہے ، جس نے ایک عرصے کراچی کو یرغمال بنائے رکھا۔

Main pic.jpg

قابل تعریف ہے وہ طبقہ، جس نے خوف کے سائے میں، فسادات اورہڑتالوں کے باوجود ادب کی شمع روشن رکھی۔اچھا، دو پہلو ایسے ہیں، جن پر شہر کی ادبی صورت حال کا تجزیہ کرنے سے قبل نظر ڈالنا ضروری۔ ایک امر یہ ہے کہ لاہور آج سے نہیں، تقسیم سے پہلے بھی ناشر و اشاعت کا بڑا مرکز تھا۔نئی ریاست کے نئے دارالحکومت کا ہجرت کرنے والے ادبیوں کی بڑی تعداد نے رخ کیا،یہاں نشستوں اور مشاعروں کا سلسلہ شروع کیا، جن کے خاطرخواہ نتائج سامنے آئے، مگر لاہور جس ادبی و ثقافتی ورثے کا حامل ، اس سے موازنہ دشوار تھا۔ پھر یہ تلخ حقیقت بھی پیش نظر رہے کہ آج کراچی ’’فاصلوں کا شہر ‘‘ہے۔موسم تلخ ،ٹریفک جام معمول ۔سفر اذیت ناک۔ آرٹس کونسل اور پریس کلب ادبی سرگرمیوں کے مراکز ہیں، اور سرجانی ، ملیر ، لانڈھی یا اورنگی ٹاؤن میں رہنے والوں کے لیے طویل سفر طے کرکے وہاں پہنچانا اور پھر رات گئے پلٹنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔یہ فاصلے بڑے ظالم ہیں۔ پھر ادبی تقریبات میں وقت کی پابندی کا رواج ذرا کم ہے۔اِن گوناگوں مسائل کے باوجوداگریہ سرگرمیاں جاری ہیں، تویہ امر اطمینان بخش ہے۔
کراچی کا ایک قابل ستائش، بلکہ قابل فخر پہلو شہر قائد کتب میلہ ہے۔ آرٹس کونسل کی تواتر سے ہونے والی اردو کانفرنس، آکسفورڈ کے لٹریچر فیسٹول اور سوک سینٹر کے سالانہ بک فیئر بے شک کراچی کی پہچان ہیں، مگر شہر قائد کتب میلہ کو یہ انفرادیت حاصل کہ اس کا سفر تین عشروں پر محیط ہے۔ جی ہاں، گذشتہ 31 برس سے ہر سال یکم رمضان کو یہ میلہ سجتا ہے، اور چاند رات تک جاری رہتا ہے۔ اردو کتابوں کی نشر واشاعت کے میدان میں شایدہی ایسی کوئی مثال ہو۔تین عشروں تک، بغیر کوئی وقفہ آئے یہ میلہ تیس روزجاری رہتا ہے۔ یاد رہے کہ ان برسوں میں کراچی نے انتہائی تلخ دن دیکھے، جب گھٹن کے باعث سانس لینا بھی دشوار تھا۔ اس میلے کے روح رواں فرید پبلشرز کے مالک، سیدفرید حسین ہیں۔ اُنھوں نے 86ء میں یہ سلسلہ شروع کیا تھا۔ سوچا تھا، کچھ برس شوق پورے کرلیں، مگر پھر یہ جنون بن گیا۔ اور خوشی کی بات یہ ہے کہ اب یہ جنون نئی نسل میں منتقل ہوچکا ہے۔ اب ان کے بیٹے یہ ذمے داری سنبھال رہے ہیں۔ فرید حسین سیاست میں قدم رکھ چکے ہیں، البتہ اس سے غافل نہیں ہوئے۔اس میلے میں ادبی تقریبات بھی منعقد کی جاتی ہیں۔ بزم فروغ ادب و فن (سندھ) اور فرید پبلشرز کے اشتراک سے ہونے والے اس میلے کی ایک انفرادیت یہ بھی ہے کہ یہ مسلسل بارہ سال ماہ محرم میں بھی منعقد ہوتا رہا۔بگڑتے حالات کی وجہ سے کچھ رخنہ آیا، اگر حالات سازگار رہے، تو انتظامیہ اسے دوبارہ کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ یہ انوکھی سرگرمی گلبرگ، ڈسٹرکٹ سینٹرل کے ایک شادی ہال میں انجام دی جاتی ہے۔
اس شہر کا ایک حوالہ عارف شفیق کی شاعری بھی ہے، جس سے کراچی کا کرب، المیہ اور امید جھلکتی ہے۔
غریب شہر تو فاقے سے مر گیا عارف
امیر شہر نے ہیرے سے خودکشی کر لی
اور
جو میرے گاؤں کے کھیتوں میں بھوک اگنے لگی
مرے کسانوں نے شہروں میں نوکری کر لی
کچھ روز ادھرکے ڈی اے آفیسر کلب، کراچی میں اُن کے اعزاز میں ایک تقریب منعقد ہوئی،جس کی صدارت معروف براڈ کاسٹر اور سماجی شخصیت، یاور مہدی نے کی، جنھوں نے عارف شفیق کو حقیقی عوامی شاعر قرار دیتے ہوئے کہا؛ عوامی شعری جالب کے بعد عارف شفیق کے حصے میں آئی۔ سینئر صحافی اور شاعر محمود شام نے اپنی تقریر کہا؛ عارف شفیق کی شاعری میں کراچی کی سسکیاں، پاکستان کا نوحہ سانس لیتا ہے۔پروفیسر انوار احمدزئی نے انھیں ہجرتوں کا شاعر اور شاعری کے دبستان میں کراچی کی علامت ٹھہرایا۔اس موقعے پر صاحب تقریب نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ؛ اُن کا پہلا مقدمہ ابن صفی نے لڑا تھا، اوائل میں رئیس امروہوی اور حکیم سعید نے اُن پر مضامین لکھے، انھوں نے اردو بولنے والوں کے جن مسائل کی ترجمانی کی، اسے پنجاب ، بلوچستان اور خیرپختون خوا کے ادبی حلقوں میں سراہا گیا۔البتہ ان کے اپنے شہروں کے شعرا نے خدمات کا کھلے دل سے اعتراف نہیں کیا۔عارف شفیق کا یہ شکوہ درست ہوسکتا ہے، مگر ان کے زبان زد خاص و عام ہونے والے اشعار کے بعد اب اُنھیں اس اعتراف کی ضرورت نہیں۔
کراچی کی ادبی سرگرمیوں میں اپنے تسلسل اور نوجوانوں کی شرکت کی وجہ سے حلقۂ ارباب ذوق کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ عید ہو، ہڑتال یا کشیدہ حالات؛ یہ ہفتہ وار پروگرام ملتوی نہیں ہوتا۔ اس کے صدررفاقت حیات اور سیکریٹری خالق داد امید ہیں۔ گذشتہ ہفتے حلقے کا اجلاس ڈیمپ کے کانفرنس روم میں ہوا۔ صدارت ہندکو زبان کے ادیب مہتاب شاہ نے کی۔رفاقت حیات نے اپنا طویل افسانہ ’’ سزائے شہرِ طلسم‘‘ تنقید کے لیے پیش کیا۔فرحت اللہ قریشی نے افسانے پر تنقید کا آغاز کرتے اسے ایک طویل افسانہ ٹھہرایا۔ البتہ رفیع اللہ میاں نے اختلاف کرتے ہوئے کہا؛افسانے کی طوالت کوئی مسئلہ نہیں، یہ ایک بچے کے نقطۂ نظر سے لکھا گیا اچھوتا افسانہ ہے۔یہ کسی بھی مقام پر بوجھل یا ثقیل نہیں ہوتا، اورآخر تک تجسس قائم رہتا ہے۔ سید کاشف رضا کے مطابق یہ افسانہ کلاسیک طرز تحریر کا حامل ہے،جزئیات نگاری کا بھرپور استعمال کر تے ہوئے کردار کی ذہنی فضا کو اجاگر کیا گیا ہے۔ افسانے کا مرکزی کردارطلسماتی اور جاسوسی کہانیوں کا رسیا ہے، جوکرفیو کو کوئی جادوئی کیفیت سمجھ لیتا ہے، لیکن جب کرفیو کی سفاکی سے سامنا ہوتا ہے، تو اس کے تخیل کی دنیا کو شدید چوٹ پہنچتی ہے۔اس موقعے خالق داد امید ، شعیب قریشی ، ظہیر عباس نے بھی اظہار خیال کیا۔ آخر میں صاحبِ صدر مہتاب شاہ نے افسانے پر ہونے والی بحث کو سمیٹتے ہوئے کہا کہ رفاقت حیات نے بڑے شہر میں بسنے والوں پر کرفیو کے دوران بیتی کیفیات پر عمدہ افسانہ لکھا ہے۔

Arif Shafiq, Rafaqt Hayat

Leave a comment

طاقت کا ڈیڈ لاک : اقبال خورشید

اگر حکومت خوداحتجاج کی راہ پر چل پڑی، ۹۰کی دہائی کے مانند ادارے آمنے سامنے آن کھڑے ہوئے، تو موجودہ حالات میں، جب ملک اندرونی و بیرونی خطرات سے دو چار، طاقت کا ڈیڈ لاک پیدا ہوجائے

main sahib

 

تپش بڑھتی جارہی ہے،سیاسی محاذ گرم ہوچکا ،کوئی غیرمتوقع واقعہ رونماہونا عین امکانی ہے۔

رانا ثنا اللہ کی جانب سے جے آئی ٹی کے خلاف تحریک کے ہراول دستے میں شامل ہونے کا عزم دراصل عندیہ ہے۔ گو طلال چوہدری نے تفتیشی ٹیم کو” قصائی کی دکان‘‘ کہنے پر معافی مانگ لی،مگر اُن تلخ الفاظ کی بازگشت اب بھی سنائی دیتی ہے۔ نہال ہاشمی سے متنازع تقریر پر، بطور سزا جو استعفیٰ طلب کیا گیا تھا، وہ استعفیٰ ہاشمی صاحب بڑی سہولت سے واپس لے چکے ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کا بیان ”ایک خاندان پر انصاف کی بندوق تان لینا درست نہیں!‘‘اندیشوں کو بڑھاوا دیتا ہے۔ حسین نواز کی تصویرکا بھی ذکر ضروری، جسے ن لیگ نے اپنے حق میں استعمال کرنے کی کامیاب کوشش کی۔ 

عمران خان، جو دھرنے سمیت اپنے بیش تیر سیاسی اقدامات میں ناکامی کے بعد اب فردوس عاشق اعوان اورنذر گوندل کی پی ٹی آئی میں شمولیت کی وجہ سے تنقید کی زد میں ہیں،فی الحال مطمئن دکھائی دیتے ہیں۔ طاہر القادری کو بھی پاکستان لوٹتے سمے اب انقلاب کے نعرے کی ضرورت نہیں ۔ دراصل لمحۂ حال میں یہ حکومت اور اپوزیشن کی جنگ نہیں۔ اور یہ امر صورت حال کو پُرپیچ بنا دیتا ہے۔ عدلیہ کی جانب سے حکمرانوںکا براہ راست احتساب اور وزیر اعظم کے صاحب زادوں سے پوچھ گچھ ایک روایت شکن اقدام ہے، جو فقط جمہوری دور میں ممکن۔ بے شک ماضی میں پیپلزپارٹی کے خلاف بھی کرپشن اور دیگر الزامات میں کڑی تحقیقات ہوئیں، بے نظیر بھٹو نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں(اُن کی پرانی تصاویر بھی موازنے کی خاطرآج کل سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں) آصف علی زرداری ایک طویل عرصے تک پابند سلاسل رہے، بھٹو صاحب کو پھانسی ہوئی۔اور یہ قربانیاں قابل تعریف ہیں، مگریہ اُس دورسے تعلق رکھتی ہیں، جب پی پی اپوزیشن میں تھی۔ اس کے برعکس حسین اور حسن نواز سے پوچھ گچھ اس زمانے میں ہورہی ہے، جب وفاق میں ن لیگ کی حکومت اورمیاں نواز شریف ملک کے وزیر اعظم ہیں۔ یہ بات جہاں حکومت کے حواریوں اور حامیوں کے لیے بے چینی کا باعث، وہی اس کی وجہ سے ایک ڈیڈ لاک بھی پیدا ہوگیا ہے۔ 

عدلیہ، فوج اور پارلیمنٹ؛ ان تین اداروں کا استحکام اور باہمی تعلق ترقی کے لیے ضروری۔ اور اگر ان کے رشتے میں تنائو در آئے، تو بگاڑ کا جنم ہوتا ہے۔آج یہی تنائو حکومتی وزرا کے بیانات سے جھلکتا ہے۔اور اس تنائو سے اپوزیشن فائدہ اٹھانے کی تیاری کر رہی ہے۔ بلاول بھٹو نے اپنے اِس اعلان کے لیے کہ” اگر تصادم ہوا، توپیپلزپارٹی آئینی اداروں کا ساتھ دے گئی‘‘ پنجاب کا چنائو کیا۔ سیالکوٹ میں کھڑے ہو کر عمران خان کی جانب سے اپنی اسٹریٹ پاور کا تذکرہ بھی بے سبب نہیں۔ روایتی طرز سیاست اختیار کرنے پر وہ اپنے منشور سے ضرور بھٹک گئے ہیں،مگر یہ بھی ایک ڈھب پر تیاری ہی ہے کہ یہاں الیکشن میں روایتی سیاسی نسخے ہی کارگر ۔ ق لیگ بھی دھیرے دھیرے خود کواکٹھا کر رہی ہے۔ گو پرویز مشرف کی فوری آمد متوقع نہیں، مگر وہ ہمیشہ توباہر نہیں رہیں گے۔ ان کے لیے گنجائش پیدا کی جاسکتی ہے۔

ویسے اگر اس سیاسی منظر سے ہم جے آئی ٹی کو خارج کر دیں، تو اپوزیشن کی یہ ساری سرگرمیاں، یہ بیانات، اعلانات، کسی بڑے اتحاد کا امکان۔۔۔ سب بے معنی ہیں۔ گو لوڈشیڈنگ کی وجہ سے حکومت کی مقبولیت میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن اگر فوری انتخابات کا اعلان کر دیا جائے، تب بھی پلہ ن لیگ ہی کا بھاری ہوگا۔ ہاں،وہ اکثریت نہیں ملے گی، جو 2013 میں ملی تھی۔ اوراگر الیکشن وقت پر ہوں، تب بھی ن لیگ کے امکانات روشن۔ البتہ وزیر اعظم کے صاحب زادوں کی مسلسل پیشی، حکومتی وزرا کے سخت بیانات اور اداروں کے درمیان بڑھتے تنائو کی وجہ سے امور حکومت میں تعطل یا خلل کا جوتصور ابھررہا ہے، موجودہ حالات میںوہ پریشان کن ہے کہ خطۂ عرب مزید تقسیم ہونے کو ہے،ایران تازہ تازہ ایک بڑے دہشت گرد حملے کا شکار بنا ہے،پاک افغان رشتے میں اعتماد کی کمی ہے،اوربھارت سے تعلقات استوار کرنے کی کوششوں کومزاحمت کا سامنا ہے۔ ایسے میںامور حکومت میں کسی بھی قسم کارخنہ ، چاہے اُس کے پیچھے نیک نیتی ہی کیوں نہ ہو،انتشار کا سبب بن سکتا ہے۔ 

روسی صدرولادیمیر پوتن کی سوانح عمری ”مردآہن‘‘ میں، جس کا ترجمہ ڈاکٹر نجم السحر بٹ نے براہ راست روسی سے کیا، ایک واقعہ درج ، جو سوویت یونین کے زوال پر روشنی ڈالتا ہے۔ یہ پوتن کی ”کے جی بی‘‘ کے شعبۂ سراغ رسانی سے وابستگی کا زمانہ تھا۔وہ بہ طور سینئر آپریشن آفیسر مشرقی جرمنی میں تعینات تھے۔وہاںحالات تیزی سے بدل رہے تھے۔ دیوار برلن گرائے جانے کا واقعہ قریب آتاجارہا تھا۔ پوتن نے اُن دنوں کو یوں یاد کیا:” قومی سلامتی کے ادارے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے لگے۔۔۔جرمن عوام ان کے زیر کنٹرول زندگی سے اکتا گئے تھے۔۔۔ سوویت یونین کے مانند وہاں تیس سال سے شخصی نظام حکومت قائم تھا۔‘‘جب جرمنوں نے وزارت امور قومی سلامتی کی عمارت پر دھاوا بولا، تو اس بلڈنگ کا بھی رخ کیا، جہاں پوتن اور ان کے ساتھی کئی اہم دستاویزات کے ساتھ موجود تھے۔ پوتن نے مظاہرین سے مذاکرات کرنے کی کوشش کی، مگر ہجوم کا رویہ جارحانہ تھا۔ جرمنی میںتعینات سوویت فوج کے دستے سے رابطہ کیا گیا ۔جواب ملا: ”ہم ماسکو سے ہدایت لیے بغیر کچھ نہیں کرسکتے، اور ماسکو خاموش ہے!‘‘ مجمع تو کچھ دیر بعد منتشرہوگیا، مگر پوتن کے بہ قول : ”ماسکو خاموش ہے، یہ الفاظ سن کر مجھے ایسا محسوس ہوا، جیسے ہمارا ملک ختم ہوگیا، یہ بات واضح ہوگئی کہ سوویت یونین بیمار ہے ، اور اس جان لیوا بیماری کا نام ہے: طاقت کا تعطل، حکومت کرنے کی طاقت کا تعطل۔‘‘

یاد رکھیں، تحریک انصاف کے کسی نئے دھرنے سے شارع دستور تو متاثر ہوسکتی ہے، آس پاس بسنے والوں کے معمولات زندگی میں بھی خلل آسکتا ہے، لیکن اگر حکومت خوداحتجاج کی راہ پر چل پڑی، کوئی تحریک شروع کر دی،90 کی دہائی کے مانند ادارے آمنے سامنے آن کھڑے ہوئے، تو موجودہ حالات میں، جب ملک اندرونی و بیرونی خطرات سے دو چار ، طاقت کا ڈیڈ لاک پیدا ہوجائے، جو سسٹم کے لیے مضر ثابت ہوگا۔ حکومت مخالفین تصادم کی آس لگائے بیٹھے ہیں، اپوزیشن بھی تیاریوں میں جٹی ہے، اس تنائو میںکوئی غیرمتوقع واقعہ رونماہونا عین امکانی ہے۔اورایسے میںنظریں وزیر اعظم پر ٹکی ہیں۔ میاں نواز شریف اپنے سیاسی تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے حالیہ برسوں میں کئی بحرانوں سے نکل چکے ہیں۔ وہ تحمل اور تدبیر کے ساتھ اس بحران سے نکلنے کا راستہ بھی تلاش کرسکتے ہیں۔ آستانہ میں ان کی پوتن سے بھی ملاقات ہوئی ہے۔ ممکن ہے، سی پیک میں دلچسپی رکھنے والے روسی صدر کے پاس کوئی کارآمد مشورہ ہو۔ 

 

Leave a comment

ڈائری میں محفوظ دوسیاست داں: اقبال خورشید

تب مکہ کی ہر گلی سے مسجد الحرام کے بلند مینار دکھائی دیتے تھے۔ مینار، جن کے ماتھے پر چاند تھا۔ تب مکے کی ہر سڑک خانہ کعبہ کی اور جاتی تھی۔

dairy

ڈائری میں محفوظ دوسیاست داں
نمک کا آدمی :اقبال خورشید

تب مکہ کی ہر گلی سے مسجد الحرام کے بلند مینار دکھائی دیتے تھے۔ مینار، جن کے ماتھے پر چاند تھا۔
تب مکے کی ہر سڑک خانہ کعبہ کی اور جاتی تھی۔ تب ان راستوں پر ایسے چھوٹے بڑے مکانات تھے، جو صدیوں پرانے معلوم ہوتے۔ ہاں، اُن پر رنگ کر دیا گیا تھا، تزئین و آرائش بھی کی گئی، مگران میں سانس لیتی قدیم فضا برقرا رتھی۔ اُن میںدور رسالت کے قریبی زمانوں کی نشانیاں دکھائی دیتیں۔ اور وہ نشانیاں بھی تھیں، جو عین اُس دور کی تھیں،جب غار حرا سے نور اترا تھا۔ اور کچھ ایسی نشانیاں بھی تھیں، جو اس دور سے بھی پہلے کی تھیں، جیسے مقام ابراہیم، صفا و مروہ کے پہاڑ، جن کے درمیان متلاشی سات چکر لگاتے ہیں، خانہ کعبہ، پھر حجر اسود۔
ابھی بلند و بالاعمارتیں تعمیر نہیں ہوئی تھیں، جو اُس کا حسن گہنانے والی تھیں۔ مسجد الحرام کے آس پاس، جہاں دوران حج لاکھوں افراد سما سکتے ہیں،کھانے پینے کی چھوٹی چھوٹی دکانیں تھیں،جن کے پہلو سے گزرتے ہوئے اشتہا انگیز مہک نتھوں کو بھر دیتی تھی۔ یہاں کام کرنے والے عام لوگ تھے۔ غریب افریقی ممالک سے آنے والے۔ یا پھر ہندوستانی، پاکستانی اوربنگالی۔ ایک سمت چھوٹے سے ٹھیے پر خوش ذائقہ شاورماتیار ہورہا ہے، جو اب ہمارے ہاں بھی عام ہوگیا ہے۔ ابلے ہوئے چنوں سے بنی ہمس، جس پر تیرتا زیتون کا تیل اُسے جنت سے اتری سوغات بنا دیتا۔ مونگ کی دال کے پکوڑے، جنھیں روٹی میں بھر دیا جاتا، اوپر سے سرکے میں ڈوبی سبزیاں سجا دی جاتیں۔ اور پھر سب سے انوکھی ،لوبیا اور مسور کی دال سے بنی فول، جو بڑی بڑی دیگوں میں تیار ہوتی۔ ساتھ سخت خوش ذائقہ روٹی، جسے بسکٹ کہا جاتا۔ ان انتہائی ارزاں نرخوں پر دستیاب کھانوں سے میرے بچپن کی حسین یادیں جڑی ہیں کہ میں اس شہر کی گلیوں میں گھومتے ہوئے بڑا ہوا، جہاں بیش تر ٹیکسی ڈرائیور پاکستانی تھے، جو حاجیوں کو زیارتوں پر لے جایاکرتے۔ جہاںراہ چلتے لوگ یوں اردو بولتے تھے، جیسے کراچی یا دہلی میں چلتے پھرتے ہوں۔ یہ دو عشروں پہلے کا مکہ ہے، جہاں ہونے والی غیرمتوقع بارشیں دل کو ناقابل بیان مسرت سے بھر دیا کرتیں۔ اب تو بہت سی بلند عمارتیں تعمیر ہوگئی ہیں۔ تب ہر گلی سے مسجد الحرام کے بلند مینار دکھائی دیتے تھے، جن کے ماتھے پر چاند تھا۔
ہم جدہ میں مقیم تھے۔ ایک گرم ساحلی شہر۔کراچی کے مانند تیز رفتار۔ ترقی کرتا ہوا۔ مگر کراچی کے برعکس انتہائی منظم۔صاف ستھرا۔ پرامن۔ جدہ اور مکہ میں 70 کلومیٹر کا فاصلہ تھا، جو ہم اکثر 83 ماڈل کی ایک سفید مزدا میں، لگ بھگ ایک گھنٹے میں طے کر لیا کرتے۔اور مکہ میں داخل ہو کر اشتہا انگیز مہک کو پھلانگتے ہوئے، سنگ مرمر کے فرش سے گزرتے ہوئے ان بلند دروازوں سے مسجد میں داخل ہوتے، جہاں سے خانہ کعبہ سامنے دکھائی دیتا تھا۔ ہمیں راستے ازبر تھے۔ بچے والدین سے الگ ہو کر خود ہی طواف کر لیاکرتے، خود ہی صفا ومروہ کے درمیان دوڑتے، ٹھنڈا زم زم پیتے، اور پھر ایک مقررہ وقت پر، ایک سبز ٹیوب لائٹ کے نیچے، جو حجر اسود کے عین سیدھ میں تھی، اکٹھے ہوجاتے۔ تب وہاں گم ہونے کا امکان نہیں تھا۔ سبز ٹیوب لائٹ موجود تھی۔ جانے اب وہ وہاں ہے یا نہیں۔ اگر اب اُسے ہٹا دیا گیاہو، اور میںوہاںجاﺅں، تو شاید خود کو گم کر بیٹھوں۔ اجنبیوں کی طرح بھٹکتا پھروں۔
جدہ کے ایمبیسی اسکول کی انتظامیہ کو ہمیشہ گنجائش کی کمی کا مسئلہ درپیش رہا۔ وہاں پاکستانیوں کی بھرمار تھی۔ یہ برصغیر سے اڑان بھرنے والے محنت کش ہی تھے، جنھوں نے اِس ریاست کے اداروں کو مستحکم کیا کہ مقامی اتنی محنت کے عادی نہیں تھے۔ ایمبیسی اسکول میں یوں تو پاکستان سے آنے والی کئی معروف ہستیاں مدعو کی جاتیں، مگر جو پذیرائی عالم چنا کی ہوئی، اُس کی مثال ملنا مشکل ہے کہ جب وہ دراز قد شخص پرنسپل کے کاندھے پر ہاتھ رکھے ہال میں داخل ہوا تھا، تو ایک سپراسٹار کے مانند اس کا استقبال ہوا ۔ وہاںکچھ ایسے سرکاری عہدے داروں، وزیروں سفیروں کو بھی مدعو کیا جاتا، جن میں طلبا کو قطعی دلچسپی نہیں ہوتی۔ ہاں، طارق جیکسن جیسا کوئی فنکار بھولے بھٹکے ادھر آجاتا، تو ہماراتجسس آسمان پر پہنچ جاتا، اور ہم ایک انوکھے تجربے سے دوچار ہوتے۔ آج پرانی ڈائری کے اوراق پلٹا ہوں، تو یاد آتا ہے کہ اسی اسکول میں ایک روز عمران خان کی آمد ہوئی تھی۔ وہ92 ورلڈ کپ کے فاتح تھے۔ ایک مصلح، جس نے اپنا سب کچھ شوکت خانم کے لیے وقف کر دیا تھا۔ تب وہ ایک ہیرو تھے۔ تب پی ٹی آئی کا کوئی وجود نہیں تھا۔ ہم کپتان سے محبت کرتے تھے۔ اور اس کی درخواست پر اپنی پاکٹ منی، جو اکثر ایک ریال پر مشتمل ہوتی تھی، چندے کے بکس میں ڈالنے کواتاولے ہورہے تھے۔ ہمیں قطعی علم نہیں تھا کہ یہ اسپتال کہاں تعمیر ہوگا، مگر سامنے کپتان تھا۔ وہ بے داغ تھاکہ تب اُس کے کاندھوں پر اُن الزامات کا بوجھ نہیں تھا، جو کئی برس بعد مخالفین اس پر اور وہ مخالفین پرلگانے والا تھا۔خان نے سفید شلوار قمیص پہن رکھی تھی۔ اور سادہ لہجے میں بات کرتا تھا۔ میں بھیڑ کو پھلانگتا ہوا قریب پہنچ گیا تھا۔ خان سے ہاتھ ملایا۔ اُس کا ہاتھ سخت تھا، مگر گرفت نرم تھی۔ بہت رش تھا۔ میں آٹو گراف نہیں لے سکا۔
البتہ الطاف حسین، جنھیں اب ”بانی تحریک“ کے خطاب پر گزارا کرنا پڑ رہا ہے،جب عمرے پر آئے تھے، تو میں آٹو گراف لینے میں کامیاب رہا۔ کراچی میں آپریشن شروع ہونے کو تھا۔جدہ کے نزدیک ایک فورم ہاﺅس میں تقریب منعقد کی گئی ۔ شرائط کڑی تھیں۔ اسپیکر کی آواز دھیمی رکھی گئی۔ نعروں کی ممانعت تھی۔ سامعین جذباتی ہو کر نعرے لگاتے، تو بھائی خود ہی ہاتھ اٹھا کر اُنھیں روکتے کہ ادھر سیاسی سرگرمیوں پر پابندی تھی۔ مگر نعرے وقفے وقفے سے لگتے رہتے کہ وہ کراچی کے ووٹر نہیں تھے، اورسیز پاکستانی تھے۔ آخر الطاف حسین کو کہنا پڑا: اگر اب کوئی نعرہ لگا، تو میں تقریر نہیں کروں گا۔ جب وہ خواتین سیکشن میں آئے، تو ہر کوئی اُنھیں عمرے کی مبادک باد دیتا، اورآٹو گراف بک آگے بڑھا دیتا۔ آخر ی دستخط جو انھوں نے اُس روز کیے، وہ میرے لیے تھے۔ اُنھوں نے علم حاصل کرنے کی نصیحت کی تھی۔(ہم کراچی کے ووٹرز نہیں تھے)وہ آٹو گراف کئی روز میرے پاس رہا۔ پھر جانے کہاں کھو گیا۔ اگلے روز جب میں نے اسکول کے اُن طلبا کو، جن کا تعلق پنجاب، بلوچستان اور سرحد سے تھا، بتایا کہ کل ہم الطاف حسین سے ملے تھے، تو وہ قطعی متاثر نہیں ہوئے کہ وہ نہیں جانتے تھے کہ میں کس کی بات کر رہا ہوں۔ ہاں، ایک نوجوان نے یہ ضرور کہا کہ میں جھوٹ بولتا ہوں، الطاف حسین حالی کا توبرسوں قبل انتقال ہوچکا ہے۔
مکہ کی سڑکوں، مکانوں میںسانس لیتا قدیم احساس، اشتہا انگیز مہک اور زم زم میرے بچپن کی حسین ترین یادیں ہیں۔میری ڈائری میں محفوظ ہیں۔ اوراُن ہی ڈائریوں میں عمران خان اور الطاف حسین بھی موجود ہیں۔ جو اُن شخصیات سے یکسر مختلف دکھائی دیتے ہیں، جو وہ آج ہیں ۔اور یہ بدلاﺅ ان فیصلوں کی دین ہے، جو اُنھوں نے اِن برسوں میں کیے۔ اور اُن میں سے بیشتر غلط تھے۔
اُن ہی زمانوں میں،جب ہم کمبل میں چھپ کر ناول پڑھا کرتے تھے، ایک اور سیاست داں سے ملاقات ہوئی تھی، اور ایک سے زائد بار ہوئی تھی کہ وہ وہاں جلاوطنی کی زندگی گزار رہا تھا۔ اور کسی کو امید نہیں تھی کہ وہ ایک بار پھر ملک کا وزیر اعظم بن سکتا ہے۔ مگر ایسا ہوا، اور اِس کا سبب میاں نواز شریف کے فیصلے بنے۔
اُن ملاقاتوں کا احوال پھر کبھی سہی۔

Leave a comment

روشن مستقبل کا دعویٰ فقط دھوکا؟ اقبال خورشید

ہر وہ لیڈر، جو آپ کو روشن مستقبل کی نوید سنا رہا ہے،یا تو آپ کو دھوکا دے رہا ہے، یا پھر خود غلط فہمی کا شکار ہے۔

 new

اوراِس معاملے کا تعلق پاناما اور ڈان لیکس سے نہیں ۔حکومتی پالیسیوں اور اپوزیشن کے احتجاج سے بھی نہیں۔ میاں نواز شریف،عمران خان اور آصف علی زرداری کے حالیہ بیانات سے بھی نہیں، کلبھوشن کیس سے بھی نہیں،یہاں تک کہ قومی اقتصادی کونسل کے تازہ تازہ منظور کر دہ ”پاکستانی تاریخ کے سب سے بڑے ترقی بجٹ “سے بھی۔اس کا تعلق تواُن سات عشروں سے ہے، جن میں ہم منزل سے بے خبرصحراﺅں میں بھٹکتے رہے۔ اِسی بے سمتی کے باعث آج ریاست کی تابناکی کے دعوے کھوکھلے معلوم ہوتے ہیں۔ گرد اتنی ہے،بھانت بھانت کی بولیاںہیں کہ سچ، جو سورج سا عیاں ہے، دکھائی نہیں دیتا۔اور اسی دھند کے باعث جو صاحبان، لیڈران رقت آمیز لہجوں میں، یا صوفیوں کے ڈھب پر روشن مستقبل کی نوید سنا رہے ہےں، اُن سب کو ایک لاٹھی سے ہانکنا سراسرزیادتی ہوگی۔ ہمیںکچھ کوبہ ہرحال رعایت دینی چاہے۔ ممکن ہے، وہ نیک نیتی سے ایسا کر رہے ہو،جسے کسی زمانے میں ممتاز مفتی،اشفاق احمد اور بانوقدسیہ جیسے قلم کار کیا کرتے تھے، مگر یہ طے ہے کہ روشن مستقبل کے دعووں کے آگے گرد کی دیوار ہے۔
جیسے عرض کیا، ہماری اس اِس قنوطیت کا تعلق لوڈشیڈنگ جیسے عارضی مسئلے سے نہیں، گو اس نے شہریوں کی زندگی اجیرن کررکھی ہے۔ اس کا ناتا قلت آب سے بھی نہیں، گو پانی انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔ اس کا سمبندھ بے روزگاری سے بھی نہیں، گو روزگار انسان کا بنیادی حق ہے۔ یہاں تک کہ اس کا رشتہ دہشت گردی سے بھی نہیں، جس کی وجہ سے ہماری ماﺅں کے دلوں میں خوف گھر کر گیا۔ دوسری طرف ملک میں بچھائی جانے والی سڑکیں، سی پیک منصوبہ، عالمی اداروں کے پرکشش معاہدے ، سرکار کے دعوے، تجزیہ کاروں کی پیش گوئیاں؛ سب مل کر بھی اِس قنوطیت کو توڑ نے میں ناکام ہیں۔
پہلے بھی لکھا تھا، پانچ بنیادی مسائل ہیں:ناخواندگی، ناانصافی، بے روزگاری، عدم تحفظ اورشعبہ¿ صحت کی زبوں حالی۔ جب تک یہ حل نہیں ہوں گے، جمہوریت اور میگا پراجیکٹس سے روشن مستقبل کی آس تو لگائی جاسکتی ہے، مگر حقیقی ترقی کا حصول،جس کے ثمرات آج امریکا اور یورپ میں نظر آتے ہیں،دشوار ہے۔ان پانچ مسائل کو حل کرنا صنعتی و تعمیراتی منصوبوں اور ٹیسٹ کرکٹ میں نمبر ون ٹیم بننے سے زیادہ اہم ہے۔ اچھا، اِن پانچ دشوار گزار گھاٹیوں کے علاوہ ایک خلیج اور ہے۔ اصل چیلنج وہی۔ یہ مسلسل تقسیم در تقسیم ہونے کا عمل ہے۔ گروہوں میں، طبقات میں فرقوں میں بٹنے کا عمل۔ ایک دوسرے سے دور ہونے کا عمل۔ ایک سندھی ہے، تو دوسرامہاجر۔ ایک امیر ہے، تو دوسرا غریب، ایک دیوبندی ہے، تو دوسرا بریلوی، ایک اسلامسٹ ہے، تو دوسرا لبرل۔
اس تقسیم کے پیچھے غیروں کی سازش بھی ہو گی۔ بے شک بھارت سن 47ءسے ہمیں کمزور کرنے کے درپے ہے۔ پڑوسی اسلامی ممالک کے اپنے مسائل ، اپنی پالیسیاں ہیں، جو انھیں وقفے وقفے سے ہمارے خلاف لا کھڑا کرتی ہیں۔اس وقت بھی افغانستان اور ایران سے ہمارے تعلقات میں تلخی ہے۔امریکا کبھی ہمارا دوست نہیں رہا۔ آقا بننا اس کا مطمح نظر تھا اور ہے تو بے شک اس تقسیم کو بڑھاوا دینے میں غیروں کی سازشیں بھی شامل ہوں گے، مگر اپنوں کی کوتاہیوں کی فہرست بھی طویل۔ آمریت ہو یا جمہوریت، سب نے اپنے مفادات کے لیے اس خلیج کو بڑھایا ہے۔
تقسیم کے لیے تذبذب سب سے موثر ہتھیار ہے، جوماضی کے مانند آج بھی بھرپور طریقے سے برتا جارہا ہے۔دور جانے کی ضرورت نہیں، تازہ واقعات میں اُس ابہام کی جھلک دیکھ لیجیے، جو اس ریاستی بیانیہ کی راہ میں چٹان بنا کھڑا ہے، جسے رائج کرنے کی خواہش تو بار بار دہرائی گئی، مگر اس کے نفاذ کے لیے سنجیدہ اقدامات دکھائی نہیں دیتے۔ مذہبی جامعات کی تقریبات میں علما سے نئے بیانیہ کی تشکیل کی درخواست کرنا کافی نہیں، نصاب میں انقلابی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ نصاب، جو ابہام کو جنم دینے کا اصل آلہ ہے۔ نصابی کتابوں میں، سوشل اسٹڈی اور پاکستان اسٹڈی کی کتابوں میں تاریخ نہیں من پسند تاریخ درج ہے۔
بات دُور نکل جائے گی، جس تذبذب کا ہم شکار ہیں، اسے سمجھنے پرکھنے کے لیے ملالہ یوسف زئی کا کیس سامنے ہے۔ملالہ سے متعلق رائے عامہ بری طرح منقسم ہے۔ تقسیم میں کوئی مضائقہ نہیں، مگر جب تقسیم اتنی شدید ہو کہ غداری اور کفر کے فتویٰ داغے جانے لگیں، تو معاملہ حساس ہوجاتا ہے۔ ملالہ کے حامی اور مخالفین دو انتہاﺅں پر کھڑے ہیں۔ اور یہی صورت حال دیگر کیسز میں دکھائی دیتی ہے۔ ہود بھائی کا معاملہ دیکھ لیجیے۔ کشتوں کے پشتے لگ گئے۔ ادھر قندیل بلوچ پر فلم بننے کی خبر آئی، ادھر سوشل میڈیا پر گھمسان کا رن پڑا۔ ایک دوسرے کے بخیے ادھیڑ دیے گئے۔ مشال خان کیس ہی کو لیجیے۔ جس شخص پر توہین کا الزام عائد کر دیا جائے، وہ اگر مظلوم ہو، تب بھی اس کے حق میں آوازیں کم ہی اٹھتی ہیں۔ ابتدا میں اس محاذ پر بھی خاموشی تھی۔ خیبرپختون خوا کی حکومت کو کریڈٹ جاتا ہے، جس نے پہلے پہل واضح موقف اختیار کیا، پھر وفاقی حکومت نے مذمت کی، کورٹ نے نوٹس لیا، یوں تذبذب کچھ گھٹا، مگر ختم نہیں ہوا۔ او رہونے بھی نہیں دیا جائے گا۔ اسی تذبذب کا ہم تب شکار ہوتے ہیں، جب اقلیتوں کی عبادت گاہوں پر خودکش حملہ ہوتا ہے۔ اکثریت فیصلہ کرنے سے قاصر رہتی ہے کہ اُسے کیا ردعمل ظاہر کرنا چاہیے۔ جب بھٹے پر کام کرنے والے مسیحی جوڑے کو جلادیا جاتا ہے، تب بھی عوام کچھ الجھ جاتے ہیں۔ جب لعل شہباز قلندر کے مزار پر دھماکا ہوتا ہے، تب بھی شہری متذبذب نظر آتے ہیں۔ وہ مذمت کرتے ہیں، مگر کھل کر مذمت نہیں کرتے۔ مذمت میں اگر، مگر چوں کہ چنانچہ کی بھرمار ہوتی ہے۔
مذکورہ کیسوں کی نوعیت تو خصوصی ہے،یہاںتو عمومی معاملات میں بھی تذبذب کا عفریت پھنکار رہا ہے۔ ہم سائنس سے متعلق اب بھی کنفیوژ ہیں۔ پروفیسر اور ریسرچ اسکالر ہونے کے دعوے دار، بڑے اطمینان سے جنات سے بجلی پیدا کرنے اور کشش ثقل کو رد کرنے میںاپنی توانائیاں صرف کر رہے ہیں۔ لڑکیوں کی تعلیم سے متعلق بھی ہمارا موقف واضح نہیں۔یہی معاملہ دولت کا ہے۔ ایک جانب ہمیں اس کی چاہ ، دوسری طرف ہم اُسے تمام برائیوں کی جڑ ٹھہراتے ہیں۔ ایک سمت جمہوریت کو بہترین نظام قرار دیا جاتا ہے، دوسری جانب ہم تمام سیاست دانوں کوکرپٹ ٹھہراتے ہیں۔دنیا اور آخر ت سے متعلق بھی ہم متذبذب ہیں۔
کہاں تک سناﺅں، کہانی یہ طویل ہے۔ قصہ¿ مختصر؛ہر وہ شخص، جو روشن مستقبل کی نوید سنا رہا ہے،یا تو آپ کو دھوکا دے رہا ہے، یا پھر خود غلط فہمی کا شکار ہے۔کیوں کہ جب تک ہم بہ طورقوم تذبذب سے آزاد نہیں ہوں گے، وہ ریاستی بیانیہ تشکیل نہیںپاسکے گا، جو راہ ترقی کی نشان دہی کرتا ہے۔ اور جب تک یہ نشان دہی نہیں ہوگی، ہم ناخواندگی، ناانصافی، بے روزگاری، عدم تحفظ اور شعبہ صحت کی زبوں حالی جیسی گھاٹیاں عبور نہیں کرسکیں گے۔ اور جب تک یہ گھاٹیاں عبور نہیں ہوں گے ریاست کی تابناکی کا ہر دعویٰ حقیقت کی کسوٹی پر خام نکلے گا۔

Leave a comment

اردو آج پنجاب کی وجہ سے زندہ ہے : نامور شاعر انور شعورکی کہانی

کوئی شاعرفیض کے اثر سے نہیں بچ سکا،اب”سب رنگ“ کی تجدید ممکن نہیں

نامور شاعر انور شعورکی کہانی
اقبال خورشید
عکاسی: محمد مہدی

یہ عشق کا” ابتدائیہ “ہے۔
یہ پانچ عشروں پرانا کراچی ہے۔ شور اور دھول سے پاک شہر۔زندگی کو ابھی پر نہیں لگے تھے۔ایک گیارہ بارہ سالہ لڑکا، جو شعر کہنے لگا تھا، ایک شام ناظم آباد کے مشہور علاقے گول مارکیٹ سے گزر رہا تھا۔ اسے سڑک پر ایک پرانا اخبار پڑا دکھائی دیا۔جانے کیا سوچ کر اٹھا لیا۔ اُس میں ایک نظم چھپی تھی۔ پہلا مصرع تھا: ”یہ داغ داغ اجالا، یہ شب گزیدہ سحر!“ نظم نے اتنا اثر کیاکہ ایک ہی بار پڑھ کر یاد کر لی۔شاعر کا نام فیض احمد فیض درج تھا یہ انور شعور کی فیض سے عشق کی ابتدا تھی۔بعد میں اُن کا کلام ڈھونڈ ڈھونڈ کر پڑھا۔60 کی دہائی میں فیض صاحب کراچی آئے، تو ملاقات ہوئی۔ یادیںکھنگالتے ہوئے کہتے ہیں،”جیسے معشوق کو دیکھنے کی کوشش کرتے ہےں، ویسی کوشش میں کیا کرتا تھا۔جگہ جگہ، وقت بے وقت انھیں دیکھنے پہنچ جاتا۔دور دور سے دیکھ کر خوش ہوتا۔“
غزل انور شعور کا بنیادی حوالہ ہے۔ اور اُن کی شہرت کو یہی حوالہ کافی ہے کہ لہجہ جدید، اسلوب منفرد،رواں دواں مکالماتی ڈھنگ ، سنجیدگی بھی، شگفتگی بھی۔ خیال نثر جیسی سہولت سے نظم ہوجاتا ہے۔اِسی باعث ناقدین نے ان کی غزل کومکمل غزل ٹھہرایا۔ چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:
چمن میں آپ کی طرح گلاب ایک بھی نہیں
حضور ایک بھی نہیں، جناب ایک بھی نہیں
مباحثوں کا ماحصل فقط خلش، فقط خلل
سوال ہی سوال ہیں جواب ایک بھی نہیں
ہماری سرگزشت میں ہزار واقعات ہیں
مگر جو دیکھتے رہے وہ خواب ایک بھی نہیں
تو غزل ہی کا حوالہ کافی ہے، مگر عصری شعور اور فنی گرفت نے قطعہ نگاری میں بھی اُنھیں منفرد مقام بخشا۔ اردو کے ایک بڑے اخبار میں ان کے قطعات برسوں سے شایع ہورہے ہیں، جنھیںاگر اکٹھا کیا جائے، تو پاکستان کی گذشتہ دو عشروں کی تاریخ مرتب ہوجائے۔ اُنھوں نے رئیس امروہوی کے انتقال کے بعد یہ سلسلہ شروع کیا تھا۔مشکل مرحلہ تھا، مگر کامیاب رہے۔ اس کامیابی کا ایک سبب تو شکیل عادل زادہ ٹھہرے، دوسری وجہ یہ رہی کہ انور شعور نے رئیس امروہوی کے کام کو بہت قریب سے دیکھا اور سمجھا ۔ فن قطعہ نگاری پر رئیس صاحب کو سنا بھی بہت تھا۔ اُن کے اپنے الفاظ میں: ”بس سمجھ لیجیے، رئیس امروہوی ہی کا فیض چل رہا ہے۔“بعد میں اُن کی کاوش کو قتیل شفائی اور منیرنیازی جیسے شعرا نے بھی سراہا۔یوں تو ہمارے ممدوح نے کالم بھی لکھے، افسانہ نگاری کا بھی تجربہ کیا،مگر غزل کا اثرسب پر غالب رہا۔
دوران گفتگو اردو ادب کی بات نکلی، تو پنجاب کا کردار بھی زیر بحث آیا۔ کہنے لگے، تقسیم کے بعد ادب کا سارا کام غیر اہل زبان نے کیا ہے۔”شاعری ، افسانے، تنقید ؛سب شعبو ں میں ان کا کردار واضح ہے۔ اردو اگر آج زندہ ہے، تو پنجاب کی وجہ سے زندہ ہے۔ پنجاب نے اسے اپنا لیا ہے۔ “جب پوچھا، اہل زبان کیوں پیچھے رہ گئے، تو بولے،”اہل زبان اپنی روایات میں رہے۔ یہاںاور ہندوستان میں جو غزل کہی جاتی ہے،اس میں تازگی نہیں ہے۔ لاہور کا ذہین جدید ہے۔ پنجاب میں اردو اخبارات نکالے گئے۔اردو کے لیے اپنی مادری زبان کی قربانی دی گئی۔اردو کے تین اسکول ہیں، دکنی، لکھنوی اور دہلوی اسکول۔ اِس فہرست میں پنجاب کو بھی ہونا چاہیے۔ وہ ایک مدت سے اردو کا سب سے بڑا اشاعتی مرکز ہے۔“اردو کو رومن اسکرپٹ میں لکھنے کے حامی نہیں۔ کہنا ہے، رسم الخط زبان کا لباس نہیں، بلکہ اُس کی کھال ہے۔ اگر رسم الخط ختم ہوگیا، تو اردوبھی ختم ہوجائے گی۔
یہاں کچھ دیر ٹھہر کر اُن کے حالات زندگی پر نظر ڈال لی جائے:
پورا نام: انوار حسین خاں ہے۔ یوسف زئی پٹھان ہیں۔ 11 اپریل 1943 کومدھیہ پردیش کے ایک گاﺅں سیونی میںپیدا ہوئے۔ ان کے والد ،اشفاق حسین خاں محکمہ¿ پولیس کا حصہ تھے۔ اصول پسند اور سخت مزاج آدمی تھے۔ مہر النسا ان کی پہلی بیگم تھیں، جن سے تین بچے ہوئے۔ انور شعور ان میں دوسرے تھے۔قیام پاکستان کے بعد یہ گھرانا ممبئی سے ہوتا ہوا کراچی پہنچا۔ بوہرہ پیر کے علاقے میں رہائش اختیار کی۔ پھر ناظم آباد کا رخ کیا۔ یافت کے لیے ان کے والد نے مختلف ملازمتیں کیں۔ شعور کی آنکھ کھولنے کے بعد ماں کو بیماری سے جوجھتے پایا۔ کمربستر سے لگ گئی تھی۔ ایک دن یونہی، خاموشی سے وہ رخصت ہوگئیں۔ اس واقعے نے زندگی پر ان مٹ نقوش چھوڑے۔ ماضی کھنگالتے ہوئے کہتے ہیں، والدہ مطالعے کی شائق تھیں۔ وہ ”آنہ لائبریری“ سے ان کے لیے کتابیں لایا کرتے تھے۔ گھر میں ”عصمت“، ”بنات“اور بچوں کے رسائل پابندی سے آتے۔ اسی وسیلے مطالعے کی لت پڑی۔
شاعری کی سمت آنے کی کہانی مسجد سے شروع ہوتی ہے۔ جی ہاں۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ وہ والد کے ساتھ باقاعدگی سے مسجد جایا کرتے تھے۔اسی سرگرمی نے نعت خوانی کا شوق پیدا کیا۔ صابری مسجد، رنچھوڑ لائن میں مولانا افسر صابری بچوں کو قرآن پاک پڑھاتے تھے۔ انورشعور کو مولانا کی سرپرستی میسر آئی۔ یوں انور افسری ہوگئے ۔استاد نے شاعری کے محاسن و معائب گھول کر پلا دیے۔ مشاعرے میں جو پہلی نعت پڑھی، وہ مولانا ہی نے لکھ کر دی تھی۔ وہی انورشعور کی پہلی مطبوعہ تخلیق ٹھہری۔ اب بچوں کے رسائل میں تخلیقات شایع ہونے لگیں۔
سرکش تو تھے، طبیعت سفر پر اُکساتی تھی، والدہ کی موت کا بھی غم تھا۔ پھر ایک واقعے نے مہمیز کا کام کیا۔ ہوا کچھ یوں کہ نعت خوانی کی مشق نے یافت کا امکان پیدا کردیا تھا،اورمحافل کیوں کہ شام ڈھلے ہوتی تھیں، اِس لیے دیر سے گھر لوٹتے، اور جرم کی سزا پاتے۔پھر نصابی کتابوں سے بھی رغبت نہیں تھی۔اسکول سے بھاگنا معمول تھا۔ صبح کتابیں گھر سے لے کرنکلنے والے انورکبھی کنچے کھیلتے نظر آتے، کبھی نیٹی جیٹی کے پانیوں میں تیراکی کرتے دکھائی دیتے۔تنگ آکر والد نے ایک شام خوب پیٹا۔ بس جناب، اُسی دن اُنھوں نے گھر چھوڑ دیا۔ ریل میں بیٹھ کر حیدرآباد چلے گئے۔ جیب خالی تھی، مگر آوارگی کا ساتھ تھا۔کچھ وقت کوئٹہ میں گزرا۔ پھر کراچی پلٹ آئے۔ والد سے رابطہ ہوگیا، مگر گھر نہیں گئے۔
پھر ایک معروف تاجر، سیٹھ علی اکبر کی سرپرستی میسر آئی۔ان ہی کی رہائش گاہ مسکن، ان کی لائبریری ٹھکانا ٹھہری۔ان کے مشورے پر میر انیس کو مکمل پڑھا۔اس وقت تک اُن کے استاد مولانا افسر صابری انتقال کر چکے تھے۔ تابش دہلوی سے اور سراج الدین ظفر سے اصلاح لینے کے بعد اب مشق سخن اور ادبی حلقوں میں اٹھنے بیٹھنے کے لیے خاصا وقت میسر تھا۔کبھی ریڈیو پر دکھائی دیتے، کبھی کافی ہاﺅس میں۔دھیرے دھیرے نعت خوانی چھوڑ دی۔ٹھکانے بدلتے رہے۔ کبھی ایک کمرے کا مکان، کبھی کسی عمارت کی چھت پر بنی جھونپڑی۔ ریڈیو اور اخبارات کے لیے لکھنے سے تھوڑی بہت آمدنی ہوجاتی تھی۔”عالمی ڈائجسٹ“ میں ”یہاں پگڑی اچھلتی ہے“ کے عنوان سے سماجی اور ادبی تقریبات کا احوال لکھا کرتے تھے۔البتہ غزل کو مکمل طور پر اختیار کرنے کے بعد نثر سے دور ہوگئے۔اس کا سبب، ہنستے ہوئے، اپنی کاہلی کو ٹھہراتے ہیں۔
64ءمیں ”انجمن ترقی اردو“ میں دوسو روپے ماہوار پر ملازم ہوگئے۔ مشفق خواجہ نے مخطوطات نقل کرنے کی ذمے داری ا±نھیں سونپ دی ۔ ماہنامہ ”اردو زبان“ بھی ایڈٹ کرتے رہے۔ ابتدا میں وہ ترنم میں پڑھا کرتے تھے۔اس سلسلے کو ترک کروانے میں مشفق خواجہ کا کردار کلیدی رہا۔ جنھوں نے بڑے طریقے سے سمجھایا،مشاعرے بازی اور شاعری، دو الگ الگ چیزیں ہیں۔اُن کی بات دل کو لگی۔ ترنم میں پڑھنا چھوڑا، مشاعروں سے بھی دور ہوگئے۔انجمن ترقی اردو سے ایک ہفت روزہ کا رخ کیا،جو نیا نیا نکلا تھا۔ ایک برس بعد پلٹ کر پھر انجمن کی سمت آگئے۔ وہاں سے ”سب رنگ“ کی اور چل دیے۔ بس، وہاں ٹک گئے۔ تیس برس ادھر کام کیا۔وہ سلسلہ تواب ختم ہوگیا، مگر قطعہ نویسی اور مشق سخن جاری ہے۔ زیادہ وقت پڑھنے لکھنے میں صرف ہوتا ہے۔
مقبولیت نے مخالفین بھی پیدا کیے ہوں گے۔ البتہ پذیرائی کے معاملے میں اُنھیںکوئی شکوہ نہیں۔کہتے ہیں،”لوگوں کو ناقدری کی شکایت ہوتی ہے، مجھے ایسی کوئی شکایت نہیں۔ خدا کا شکر ہے، ابتدا ہی سے میری بہت پذیرائی ہوئی۔ مخالفین مجھ پر کوئی اور الزام تو لگا سکتے ہیں، لیکن یہ کوئی نہیں کہتا کہ انور شعور شاعر برا ہے!“
گو وقت کے ساتھ غزل کے مخالفین بڑھتے جارہے ہیں، اعتراض ہے کہ یہ عصری تقاضوں کی متحمل نہیں ہوسکتی، مگر انور شعور کی رائے مختلف۔ کہتے ہیں، یہ صنف تو دقیق سے دقیق نکتے کا وزن سہہ سکتی ہے۔غالب اور اقبال کو دیکھیں۔ کون سا موضوع ہے، جو انھوں نے نہیں برتا۔البتہ نظم کے وہ خلاف نہیں۔ نثری نظم کی اہمیت بھی تسلیم کرتے ہیں۔خواہش مند ہیں کہ نوجوان اِس صنف کی جانب سنجیدگی سے توجہ دیں۔دکھ ہے کہ اب استادی شاگردی کا رواج ختم ہوگیا، جس کی وجہ سے آج بے استاد شعرا، سخت محنت اور لگن کے باوجود، اچھا شعر نہیں کہہ پاتے۔
من پسند شعرا کی فہرست طویل ہے۔ آغاز سراج دکنی سے ہوتا ہے۔ پھر ولی، میر، غالب، انیس، اقبال، حسرت، حالی اور داغ کا ذکر آتا ہے۔ آگے بڑھتے ہیں، تو مجاز، فیض، ناصر کاظمی، احمد مشتاق، منیرنیازی، ساحر لدھیانوی اور سیف الدین سیف سے ملاقات ہوتی ہے۔اردو اور عالمی ادب، دونوں ہی توجہ سے پڑھے۔ فکشن میں کرشن چندر، منٹو اور بیدی سمیت بہتوںنے متاثر کیا۔ ناول میں ”اداس نسلیں“ اور ”آنگن“ خصوصیت سے اچھے لگے۔
نظریاتی طور پر پروگریسو ہیں۔ یقین رکھتے ہیں کہ لکھنے والے کا ایک نظریہ ضرور ہونا چاہیے۔جدید اور علامتی افسانوں پر بات نکلی، تو کہنے لگے، لوگوں نے لکھے، مگر نہ توہ قاری کو سمجھ میں آئے، نہ ہی مقبول ہوئے۔ اُن کے مطا بق ماضی کے برعکس اب سیاست اتنی خراب ہوگئی ہے کہ جب آپ بطور ادیب صاحب اقتدار کے خلاف بات کریں گے، تو وہ آپ کو تقریر کرنے کے جرم میں نہیں پکڑیں گے، جیب کاٹنے کے جرم میں پکڑیں گے۔ اسی وجہ سے ادیب پس پردہ چلے گئے ہیں۔
کھانے میں انھیں کباب پسند۔ جاڑے کا موسم بھاتا ہے۔لباس کے معاملے میں سادگی پسند ہیں۔ نورجہاں، لتا اور مہدی حسن کی آواز انھیں اچھی لگی۔ دلیپ کمار اور نرگس کی صلاحیتوں کے معترف ہیں۔ فلموں میں”آن“ اور ”میلہ“ پسند آئیں۔70 ءمیں اُن کی شادی ہوئی۔ خدا نے ایک بیٹے، تین بیٹیوں سے نوازا۔ سب ہی کی شادی ہوچکی ہے۔زندگی سے مطمئن ہیں۔”ہمیشہ خوش رہنے کی کوشش کرتا ہوں۔محبت کرنے والا آدمی ہوں۔ آنسو میںاندر ہی اندر بہا لیتا ہوں۔“ جب پوچھا، ماضی کی کس یاد نے سب سے گہرا نقش چھوڑا، تواس دن کا ذکر کیا، جب قائد اعظم کا انتقال ہوا تھا۔ بقول ان کے، ”ایسا معلوم ہوتا تھا، جیسے شہر کا ہر مکان خالی ہو، ہر شخص سڑک پر آگیا ہو۔ چاروں جانب سر ہی سر تھے۔“

”””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””’

٭میرے مجموعے اور میری کاہلی
دوران ملاقات متعدد بار خود کو کاہل گردانا۔ شایداِسی وجہ سے قارئین کو مجموعے کے لیے طویل انتظار کرنا پڑا۔شناخت تو 70 کی دہائی ہی میںبنا چکے تھے۔”اچھا خاصا بیٹھے بیٹھے گم ہوجاتا ہوں/اب میں اکثر میں نہیں رہتا تم ہوجاتا ہوں“اور”یہ مت پوچھو کہ کیسا آدمی ہوں/کرو گے یاد، ایسا آدمی ہوں“اِن جیسے کئی اشعار زبان زد خاص و عام تھے۔البتہ مجموعہ کہیں 95ءمیں جا کر شایع ہوا۔ عنوان تھا:اندوختہ۔ مانگ اتنی تھی کہ کچھ ہی ماہ میں دوسرا ایڈیشن آگیا۔ تیسرا ایڈیشن آرٹس کونسل آف پاکستان نے شایع کیا۔”مشق سخن“ دوسرا مجموعہ تھا، جو 99ءمیں چھپا۔ 2006 میں ”می رقصم“ کی اشاعت ہوئی، جسے اکیڈمی ادبیات نے علامہ اقبال ایوارڈ سے نوازا۔ان کی کلیات بھی شایع ہوچکی ہے۔ جب ہم نے پوچھا، کیا قطعات کو کتابی صورت دینے کا ارادہ ہے، تو ہنس کر کہنے لگے، یہ ذرا مشکل اور وقت طلب کام ہے۔

٭میں، شکیل عادل زادہ اور سب رنگ
اردو رسائل کی تاریخ میں ”سب رنگ“ ایک معتبر نام ہے۔70ءمیں جب شکیل عادل زادہ نے اِس کی داغ بیل ڈالی، تو انور شعور پرچے کے معاون مدیر ہوگئے۔ ہر تحریر پر اتنی محنت کرتے کہ وہ اُن کی ہوجاتی۔2000 تک یہ ذمے داری نبھائی۔چند کہانیاں بھی لکھیں۔ ”سب رنگ“ کا زمانہ خوش گوار یاد کی صورت ذہن میں محفوظ ہے۔ اس کی بڑی وجہ شکیل عادل زادہ ٹھہرے۔ان کے ساتھ گزرے وقت کوزندگی کا حاصل قرار دیتے ہیں۔اُدھر رہتے ہوئے زبان کی دُرستی کی بھرپور کوششیں کیں۔ املا بدلا، الفاظ کو توڑ کر لکھنے کا چلن ڈالا۔ آج جب اُس مشق کی بابت پوچھا، توبولے،”بعد میں جب میں نے رشید حسن خان سمیت دیگر ماہر لسانیات کو پڑھا،تو اندازہ ہوا کہ ہم بہت سے چیزیں ’سب رنگ‘ میں غلط کررہے تھے۔ میں نے تورجوع کرلیا تھا۔ بزرگوں نے سوچ سمجھ کر جواملا طے کیاتھا، اُسے چھیڑنا نہیں چاہیے۔ اب’ بیزار‘ مرکب نہیں ہے، یہ ’بے زار‘ نہیں ہے۔ اسی طرح ’ہموار‘ کو بھی الگ (ہم وار) نہیں کرچاہیے۔ (ہنستے ہوئے) اوریہ کام ہم کرچکے ہیں، اورنادم ہیں۔“
”سب رنگ“ کی تجدید کی بازگشت ایک عرصے سے سنائی دے رہی ہے، مگر وہ اس بابت زیادہ پرامید نہیں۔ کہتے ہیں، جس طرح شکیل عادل زادہ دوبارہ چالیس سال کے نہیں ہوسکتے، اسی طرح اب” سب رنگ“ کی تجدید ممکن نہیں۔” اور ضروری بھی نہیں ہے۔ نئے لوگوں کو موقع دینا چاہیے، میدان سے ہٹ بھی جانا چاہیے۔“

٭ فیض صاحب ، فراز سگریٹ کا گل بھی آپ کی طرح جھاڑتاہے
فیض صاحب کو وہ ایک ایسے شخص کے طور پر یاد کرتے ہیں، جس کی خاموشی بھی بولتی تھی۔ ان کی فنی پختگی کے قائل۔ اثرات کے معاملے میں اُنھیں ساحر پر ترجیح دیتے ہیں۔بقول ان کے، ”فیض کا تواتنا اثر تھا کہ ان کے بعد جتنے بھی شاعر آئے، کوئی اُن کے اثر سے نہیں بچ سکا ۔ انھوں نے خود بھی کہا ہے: ہم نے جو طرز فغاں کی ہے قفس میں ایجاد/فیض گلشن میں وہی طرز بیاں ٹھہری ہے!“احمد فراز کا ذکر ہوا، تو بولے،”ان پر تو بہت زیادہ اثر تھا۔ اسی پرساقی فاروقی نے فیض سے کہا تھا۔ فیض صاحب، یہ فراز سگریٹ کا گل بھی آپ کی طرح جھاڑتا ہے۔“فیض صاحب کے سامنے مشاعرے بھی پڑھے۔اِس تجربے کی بابت کہتے ہیں، ”یوں تو فیض صاحب اسٹیج پر بے نیاز سے بیٹھے رہتے تھے، مگر لوگ بتاتے ہیں کہ جب میں پڑھتاتھا،تو توجہ سے سناکرتے ۔ داد باقاعدہ دیتے ۔ جو حوصلہ افزائی میری کی ہے، اس سے اندازہ ہوا کہ وہ میری شاعری پسند کرتے تھے۔“

٭ ابھی تو جون صاحب کا زمانہ چل رہا ہے
کراچی کی شاعری پر ان مٹ نقوش چھوڑنے والے جون ایلیا کی مقبولیت پر بھی بات ہوئی۔کہنے لگے،”مقبولیت کی کئی وجو ہات ہوتی ہیں۔ اس میں جون صاحب کی شخصیت کا بھی دخل تھا۔وہ بہت اچھے خطیب تھے۔ اچھا بولنے والامقبول ہوتا ہے۔جیسے اچھی دھن ہو، الفاظ کمزور ہوں، تب بھی دھن مقبول ہوجاتی ہے۔کچھ لوگ حلیے سے بھی متاثر ہوتے تھے، اور پھرلوگ ان کے کلام سے بھی متاثر ہوئے۔حالاں کہ میں اُن سے کوئی بہت خوش نہیں ہوں، نہ ہی وہ کسی کو خوش رکھ سکتے تھے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ُاس زمانے میں اردودنیا میںاُن کا بڑا نام تھا، اور اب بھی اُن کا نام برقرار ہے۔ اور یہ دیکھ کر بڑی خوشی ہوتی ہے۔آگے کیاہوگا، یہ نہیں پتا۔ فیصلے تو وقت کرتا ہے، مگر ابھی تواُن ہی کا زمانہ چل رہا ہے۔اگرچہ اُن کے بعض ساتھی انتقال ہوتے ہی ذہنوں سے محوہوگئے۔ “

02

????????????????????????????????????

Leave a comment

الیکشن میں کامیابی اسمبلی کے بجائے جیل لے گئی تھی: سابق امیر جماعت اسلامی، سید منور حسن

دہلی کے پرانے قلعے میں پناہ لی، لٹے پٹے کراچی آئے
پاکستانی عدلیہ پہلے کبھی پاناما کیس جیسی آزمائش سے نہیں گزری
سیاسی اتحاد کی باتیں قبل از وقت ہیں، اگلے انتخابات میں جماعت اسلامی ”اسلامک فرنٹ“ جیسا تجربہ کرسکتی ہے
سینئر سیاست داں اور سابق امیر جماعت اسلامی، سید منور حسن کے حالات و خیالات
اقبال خورشید
عکاسی: محمد مہدی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1

اس کہانی کا آغاز 50 کی دہائی سے ہوتا ہے۔
یہ کراچی کا گورنمنٹ کالج ناظم آباد ہے۔ہم نصابی سرگرمیوں میںپیش پیش رہنے والے طلبا میںایک ایسا نوجوان بھی ہے، جو نہ صرف کرکٹ اور بیڈمنٹن کا زبردست کھلاڑی ہے، بلکہ قرا¿ت،مباحثے اور گائیکی کے مقابلوں میں بھی پہلا انعام حاصل کر چکا ہے۔صلاحیتیں دیکھتے ہوئے جمعیت نے اُسے کالج یونین کے انتخابات میں اپنا امیدوار بنانے کا فیصلہ کیا، مگرکچھ عرصے بعد اُسے لاابالی اور غیرسنجیدہ قرار دے کر نامزدگی منسوخ کر دی۔نوجوان جمعیت کے اس رویے سے اتنا مایوس ہوا کہ اس نے کالج میں لیفٹ کی تنظیم نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈڑیشن (این ایس ایف) بنانے کا عہد کیا، اور پھر یہ کرکے دکھایا۔
یہ اُن صاحب کی کہانی کا ابتدائیہ ہے، جو مستقبل میں جماعت اسلامی کے امیر بننے والے تھے،ملکی سیاست پر ان مٹ نقوش چھوڑنے والے تھے۔ مگر اس سے قبل کہ سید منور حسن کی زندگی کے دیگر گوشوں پر بات ہو، مناسب ہے کہ ہم 50 کی دہائی میں لوٹ چلیں کہ کہانی کا وہ ہی ٹکڑا سب سے اہم ہے۔
اب ہوا یہ کہ ملک میں مارشل لا لگ گیا۔ این ایس ایف انڈر گراﺅنڈ ہوگئی، اورچپ چاپ” اسٹوڈنٹس سرکل“ کے تحت کام کرنے لگی۔ سید منور حسن اس سرکل کے صدرہوگئے۔اس کے ڈرامیٹک کلب کی سرگرمیوں میں بھی پیش پیش رہتے۔ اسی زمانے میں تنظیم نے فیصلہ کیا کہ جمعیت کے باصلاحیت ارکان کو این ایس ایف کا حصہ بنایا جائے۔ یعنی رائٹ والوں کو لیفٹسٹ بنادیا جائے۔ منور حسن اس مشن پر نکل پڑے۔ مباحثے ہوتے۔ لٹریچر کا تبادلہ کیا جاتا۔انھیں خبر نہیں تھی کہ دوسرا گروپ بھی اسی مشن پر نکلا ہے۔ جس جمعیت نے کچھ عرصے قبل انھیں لاابالی قرار دیا تھا، اب ان کی معترف ہوگئی تھی۔ جمعیت کے ایک رکن آصف صدیقی سے خاصی ملاقات رہتی تھی۔ انھوں نے ایک کتاب ”دعوت اسلامی اور اُس کے مطالبات“ پڑھنے کے لیے دی۔ اس کتاب نے سب تلپٹ کر دیا۔ذہنی اور فکری تبدیلیوں کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوگیا۔ سوچ بچار کے لیے نوشہرہ چلے گئے۔ ادھرسترہ بار اِس کتاب کا مطالعہ کیا۔ کراچی واپس آنے کے بعد بائیں بازو سے الگ ہوئے، اور 60ءمیں جمعیت کا حصہ بن گئے۔
آگے جو ہوا، وہ تاریخ کا حصہ ہے۔انھوں نے اسلامی جمعیت طلبا کی رکنیت سے جماعت اسلامی کی امارت تک کا سفر طے کیا۔اس دوران کتنے ہی اہم موڑ آئے۔ان کی شعلہ بیانی اور دو ٹوک موقف نے مخالفین کوتو زچ کیاہی،حامیوں کے لیے بھی کچھ پریشانیاں پیدا کیں۔ البتہ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ٹاک شوز میں غصہ ور معلوم ہونے والے یہ صاحب عام ملاقات میں بڑے ہی شائستہ ثابت ہوتے ہیں۔ طبیعت میں شگفتگی بھی ہے۔ کبھی کہتے ہیں، بھئی یہ آپ کا سوال ہے، یا سوال نامہ۔کبھی وہ واقعہ سناتے ہیں، جب ایک صاحب نے پیر الٰہی بخش کا تعارف کرواتے ہوئے کہہ دیا: ”اِن سے ملیں، یہ ہیں پیر الٰہی بخش کالونی!“
عائشہ منزل کے نزدیک واقع اسلامک ریسرچ اکیڈمی میں اُن سے ملاقات ہوئی۔60 کی دہائی میں جب مولانا مودودی کی خواہش پر یہ اکیڈمی قائم ہوئی، تو منور صاحب ہی اس کے اولین ریسرچ اسسٹنٹ تھے۔ یہاں مختلف عہدوں پر فائز رہے۔ گرتی صحت کے باوجوداب بھی باقاعدگی سے آتے ہیں۔ یہیں برسوں قبل اُن سے ہماری پہلی ملاقات ہوئی تھی۔ اُس وقت پروفیسر غفور احمد حیات تھے۔ابتداً جس کمرے میںانٹرویو ہوناطے پایا، اس کی میز کتابوں اور فائلوں سے بھری ہوئی تھی۔ کسی نے مشورہ دیا کہ پروفیسر غفور کے کمرے میں بیٹھا جائے۔ منور صاحب نے اتفاق کیا، ہمیں دیکھ کر مسکرائے: ” اچھا ہے، وہاں صفائی کے نمبر بھی مل جائیں گے۔“
اس بار ملے، تو پہلے موجودہ مصروفیات زیر بحث آئیں۔ کہنے لگے، جماعت اسلامی کا کارکن گھر تو نہیں بیٹھ سکتا، اور کارکن بھی وہ، جو ادھر ڈوبے ادھر نکلے، ادھر ڈوبے، ادھر نکلے۔” صحت نے میرا ساتھ نہیں دیا۔ اسی وجہ سے میں نے اسٹیپ ڈاﺅن کیا تھا۔مجھے پارکنسن (ایک اعصابی مرض) کی بیماری ہوگئی ہے۔یہ یادداشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ کمزوری ہوجاتی ہے، نیند بے تحاشہ آتی ہے۔ کام کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ البتہ جب میں اس بیماری کے دیگر مریضوںکو دیکھتا ہوں، تو خود کو اُن سے بہتر پاتا ہے۔ اللہ کا شکر ہے، چل پھر رہا ہوں۔“
یہاں کچھ دیر ٹھہر کر اُن کے حالات زندگی پر نظر ڈال لی جائے:
سید منور حسن 5 اگست 1941 کو قرول باغ، دہلی میں پیدا ہوئے۔فسادات کا زمانہ یاد ہے۔ اُن کے خاندان نے پرانے قلعے میں پناہ لی۔ ادھر بے سروسامانی کی حالت میں ایک ماہ رہے۔ پھربذریعہ ٹرین پاکستان پہنچے۔ جیکب لائنز مسکن بنا۔اُن کی والدہ اصغری بیگم مسلم لیگ کی سرگرم رکن تھیں۔ والد،سید اخلاق حسن شعبہ¿ تدریس سے وابستہ تھے، جو پاکستان آنے کے بعد سندھ مدرسة الاسلام سے جڑ گئے تھے۔ہجرت کے ہولناک تجربے کی وجہ سے والد کو چپ لگ تھی۔ لٹے پٹے کراچی آئے تھے۔ خاصے مسائل رہے۔ چار برس میں پندرہ مکان تبدیل کیے۔پھرناظم آباد میں اپنا مکان بنایا۔ایک بہن چار بھائیوں میں وہ سب سے چھوٹے تھے۔ گھر کی خواتین سے ہجرت کی کہانیاں سنتے ہوئے بڑے ہوئے۔ اس تجربے نے شرارتوں سے دور رکھا۔زیادہ پڑھاکو نہیں تھے،مگر امتحانات اچھے نمبروں سے پاس کر لیتے۔گورنمنٹ سیکنڈری اسکول، ناظم آباد سے 56ءمیںمیٹرک، گورنمنٹ کالج ناظم آباد سے 60ءمیں گریجویشن کیا۔ایک برس لا کالج میں رہے۔ پھرجامعہ کراچی کے شعبہ¿ عمرانیات پہنچے۔63ءمیں ماسٹرز کیا۔بعد میں اسلامک اسٹڈیز میں بھی ماسٹرز کی سند حاصل کی۔ یونیورسٹی پہنچنے تک این ایس ایف چھوڑ کر جمعیت کا حصہ بن چکے تھے۔62ءمیں مولانا مودودی سے بھی ملاقات ہوگئی ۔ جامعہ کراچی میں خاصے سرگرم ہے۔یونیورسٹی کے ناظم منتخب ہوئے۔ پھر کراچی کی سطح پر یہ عہدہ سنبھالا۔اِس دوران مشرقی پاکستان کے دورے کیے۔ایوب مخالف تحریکوںمیں حصہ لیا۔”کنونشن لیگ“کے پہلے جلسے کو ناکام بنانے کی ذمے داری اُنھیں ہی سونپی گئی تھی۔ 64ءمیں وہ ملکی سطح پر جمعیت کے ناظم اعلیٰ منتخب ہوئے۔پہلی گرفتار ی بھی اسی برس ہوئی۔اب وہ ہمیں”اینٹی تاشقند موومنٹ“ میں نظر آتے ہیں۔ 65ءمیں شہر بدری کا تجربہ بھی کر لیا۔ 67ءمیں جماعت اسلامی کے رکن بن گئے۔
73ءمیں اپوزیشن جماعتیں ”یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ“(یو ڈی ایف) کی پرچم تلے اکٹھی ہوئیں،جس کے صدر پیرپگارا تھے۔ اُسے منظم کرنے میں منور صاحب کابھی کردار رہا۔ 77ءکے انتخابات میں یہ جماعت ”پاکستان نیشنل الائنس“ میں تبدیل ہوگئی، جس کے ٹکٹ پر سید منور حسن ملیر سے کھڑے ہوئے۔ ریکارڈ ووٹ لیے، مگر الیکشن میں کامیابی اسمبلی کے بجائے جیل لے گئی کہ دھاندلی کے خلاف تحریک شروع ہوگئی تھی۔ کچھ عرصے بعد مارشل لا لگ گیا۔88ءمیں وہ امیر جماعت اسلامی، کراچی مقرر ہوئے۔ 93ءمیں سیکریٹری جنرل کے عہدے پر فائز ہوئے۔ اپریل 2009 میں امیر جماعت اسلامی کا عہدہ سنبھالا۔مارچ 2014میں سراج الحق صاحب کے منتخب ہونے تک ذمے داریاں نبھائیں۔جماعت کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا،جب موجودہ امیر پر ارکان نے عدم اعتماد کا اظہار کیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس کا سبب اُن کی پالیسیاں بنیں۔ البتہ جماعت کے عہدے داروں کا موقف ہے کہ وہ اپنی صحت کی وجہ سے پہلے ہی معذرت کر چکے تھے، مگر مجلس شوریٰ کے اصرار پر الیکشن میں حصہ لیا۔
ہم نے کہا، کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ آپ کے دور امارت میں جماعت کو نقصان پہنچا۔ بولے،”جماعت اسلامی ایک نظریاتی پارٹی ہے۔ آپ مجھ سے توناراض ہوسکتے ہیں، جماعت اسلامی سے ناراض نہیں ہوسکتے۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ میںنے جماعت کو خراب کر دیا۔ اب جماعت اسلامی اتنی تو گئی گزری نہیں ہے کہ میری کوششوں سے خراب ہوجائے۔بہت سے لوگ، جو اب جماعت کا حصہ نہیں، مگر خیرخواہ ہیں، مجھ سے ملتے ہیں، کھل کر اختلاف کرتے ہیں۔ اور میں اُنھیں یہ حق دیتا ہوں۔“
حالات زندگی کے بعد سیاسی فیصلوں پر بات نکلی:
کلیدی عہدوں پر فائز رہے،کئی اہم فیصلے کیے، کیا کسی پر افسوس ہے؟ اِس سوال کے جواب میں کہتے ہیں،” فیصلے خلا میں نہیں ہوتے، معروضی حالات کاتجزیہ کرکے فیصلے ہوتے ہیں۔اور تجزیوں میں اختلاف ہوسکتا ہے۔“ اسی تناظر میںجماعت کا ضیاءالحق کی کابینہ میں شرکت کا فیصلہ زیر بحث آیا۔اُن کے مطابق اس کابینہ میں جماعت اسلامی نہیں،’ ’پی این اے“ شریک ہوئی تھی۔ اگرچہ ان سمیت چند ارکان اِس کے خلاف تھے، تاہم مرکزی فیصلے کو تسلیم کیا گیا۔بولے،”ایجنڈا یہ تھا کہ حکومت سے الیکشن کی تاریخ کا اعلان کروایا جائے۔ 78ءمیں الیکشن کے انعقاد کا اعلان کر دیا گیا،تو’ پی این اے‘ حکومت سے باہر آگئی۔“متحدہ مجلس عمل کے قیام کو انھوں نے ہمیشہ مثبت فیصلہ گردانا، مگر جب 2013 کے الیکشن میںمولانا فضل الرحمان کی جانب سے متحدہ مجلس عمل کا نام برتا گیا، تو اسے غیراخلاقی ٹھہرایا۔
92-93 میں جماعت اسلامی کے ہم نواءگروپس کی جانب سے ”پاکستان اسلامک فرنٹ“ کے قیام کا خیال پیش کیا۔ اِس ضمن میں منور صاحب کا کردار مرکزی رہا۔مقصد جماعت کا منشور تبدیل کیے بغیر ممبر شپ کے مرحلے کو سہل بنانا تھا۔اس کی اٹھان تو خوب تھی، مگر قبل ازوقت انتخابات نے اسے غیرموثر کر دیا۔ہم پوچھاکیے، کیا اس تجربے کو دہرایا جاسکتا ہے؟ کہنے لگے،”اس کا امکان ہے۔ ہماری تیاری اس دائرے میں بھی ہے۔ 93ءمیں دو برس پہلے الیکشن ہوگئے تھے،ہم پوری طرح تیارنہیں تھے۔پھر اس وقت جماعت کے لوگ اس کے عہدے دار بن گئے تھے۔ یہ ہمارا مقصد نہیں تھا۔ہمارا مقصد تویہ تھا کہ زندگی کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے ان افراد کو آگے بڑھایا جائے، جو جماعت کے منشور سے اتفاق کرتے ہوں۔اور ایسے لوگ اب بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ “
سراج الحق کی جانب سے مولانا فضل الرحمان کو متحدہ مجلس عمل کے قیام کے اختیارات سونپے کا معاملہ زیر بحث آیا، تو کہنے لگے، متحدہ مجلس عمل سمیت کسی بھی سیاسی اتحاد کی باتیں ابھی قبل از وقت ہیں ۔جب الیکشن قریب آئیں گے، تو گرما گرمی ہوگی، تب اندازہ ہوگا کہ کس نے کتنا ہم ورک کیا ہے۔جب پوچھا کہ کیا سراج الحق صاحب آپ سے مشورے کرتے ہیں، تو جواب اثبات میں دیا۔ کہنے لگے،غیررسمی گفتگو بھی ہوتی رہتی ہے، پھر مجلس شوریٰ کے اجلاس میں بھی بات ہوتی ہے۔ سمجھتے ہیں کہ وہ صحیح سمت جارہے ہیں۔” خیبر پختون خوا میں پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کی حکومت ہے۔ اس دوران غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کی گئی، غلطیاں بھی ہوئیں، مگر عمران خان کو کریڈٹ جاتا ہے کہ اُنھوں نے ان غلط فہمیوں کو بڑھنے نہیں دیا۔“
پاناما کیس پربھی با ت ہوئی۔ بہ قول ان کے، پاکستانی عدلیہ آج سے پہلے کبھی پامانا کیس جیسی آزمائش سے نہیں گزری۔ ”ہم نے انھیں بڑی مشکل میں ڈال دیا ہے۔ البتہ عدالت نے بڑی کامیابی سے آگ کو ٹھنڈا کیا، اور لوگ کہنے لگے کہ جو بھی فیصلہ آئے گا،ہمیں قبول ہوگا۔ البتہ مجھے لگتا ہے کہ اِسے من و عن قبول نہیں کیا جائے گا۔ لوگ سڑک پر آنے کی تیاری کریں گے۔ اور یہ فیصلہ ملک کے لیے اچھا نہیں ہوگا۔“
زندگی کے دیگر گوشے بھی زیر بحث آئے:
وہ دن ذہن میں محفوظ، جب جمشید روڈ سے قائد اعظم کا جنازہ گزرا تھا۔ان کے بہ قول،”مجھے اچھی طرح یاد ہے،ہر شخص کا چہرہ آنسوﺅں سے تر تھا۔“سقوط ڈھاکا سے متعلق موقف ہے کہ مشرقی پاکستان کو علیحدگی کے اندھیروں میں دھکیلاگیا۔ ایوب دور میںوہاںاحساس محرومی بڑھی، پھر جو جماعت انتخابات جیتی، اسے اقتدار دینے کے بجائے فوج کشی کر دی گی۔
74ءمیں اُن کی شادی ہوئی۔ ان کی بیگم عائشہ منور بھی جماعت کے پلیٹ فورم سے سیاست میں متحرک رہیں۔ خواتین ونگ کو منظم کرنے میں فعال کردار ادا کیا۔ نو برس جماعت اسلامی کی خواتین ونگ کی سیکریٹری جنرل رہیں۔خدا نے ایک بیٹے، ایک بیٹی سے نوازا۔ منور حسن رسول اﷲ ﷺ کوآئیڈیل شخصیت قرار دیتے ہیں۔ حیات طیبہ پر لکھی جانے والی کتب مطالعے میں رہتی ہیں۔کسی زمانے میں کتابیں”کور ٹو کور“ پڑھا کرتے تھے۔ اب اتنا وقت میسر نہیں۔ اخبارات باقاعدگی سے پڑھتے ہیں، ٹی وی کم دیکھتے ہیں، مگر دیکھتے ضرور ہیں۔شلوار قمیص کو آرام دہ پاتے ہیں۔ کھانے میں پسند ناپسند کا جھنجھٹ نہیں۔ غالب اور اقبال کا کلام مطالعے میں رہتا ہے۔ نثر میں مولانا مودودی کے مداح ہیں۔کبھی اے آر خاتون کے ناول دلچسپی سے پڑھا کرتے تھے، جن سے دہلی کا تمدن جھلکتا تھا۔اسلامی جمعیت طلبا کا رکن بننا اُن کی زندگی کا سب سے خوش گوار لمحہ تھا۔ مولانا مودودی کی وفات سے کرب ناک یادیں جڑی ہیں۔

2

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

٭ اسلامی دنیا میں قیادت کا شدید بحران ہے
امت مسلمہ کے اتحاد کی خواہش تو ظاہر کی جاتی ہے، مگر ہرگزرتے دن کے ساتھ فرقہ ورانہ تقسیم بڑھ رہی ہے، عرب دنیا تقسیم ہوچکی ہے۔ اس موضوع پر ان کی رائے جاننا چاہی، تو کہنے لگے،”عوام الناس بے قصور ہیں۔ انھیں تو میں جس طرف گائیڈ کروں گا، وہ اسی طرف جائیں گے۔ یعنی قصور میرا اور مجھے جیسے لوگوں کا ہے، یعنی قیادت کا ہے۔ مسلم دنیا میں اِس وقت قیادت کا شدید بحران ہے۔اختلافات لسانی ہوں، جغرافیائی یامذہبی، اس کا سبب حکمرانوں کی پالیسیاں ہیں۔“ مستقبل میں اُنھیں بگاڑ میں اضافے کا خدشہ ہے۔ اسلامی فوج سے متعلق پائے جانے والے ابہام سے شاکی ہیں۔

٭کل کا میچ کون جیتا؟
کرکٹ میں اُنھیں خاصی دلچسپی ہے۔جب ہم ملے، پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی ون ڈے سیریز جاری تھی۔ رات گئے دوسرے ون ڈے کا نتیجہ آیا تھا۔ منور صاحب وہ میچ پورا نہیں دیکھ سکے تھے۔ جب ہم نے بتایا کہ پاکستان74 رنز سے جیت گیا، تو بولے،”ہاں، جتنا دیکھا تھا، اس سے یہی محسوس ہورہا تھا۔“ بابر اعظم کی سنچری کی تعریف کی۔ ہم نے سوچا، موقعے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کے پسندیدہ کھلاڑیوں کے بارے میں پوچھ لیں۔ انھوں نے عبدالحفیظ کاردار کا نام لیا، جن کی قیادت میں پہلی بارپاکستانی ٹیم ویسٹ انڈیز گئی تھی۔ اس سیریز کی یادیں ذہن میں محفوظ۔ ”پانچویں ٹیسٹ میں کاردار نے پہلے ہی کہہ دیاتھا کہ ہم یہ میچ جیتیں گے، اور جیت کر دکھایا۔ اسی طرح پہلی دفعہ ٹیم انگلینڈ گئی، تو وہاں پاکستان نے ٹیسٹ جیتا۔ اب تو فکسنگ کا سلسلہ شروع ہوگیاہے، اس میں ایڈمنسٹریشن کا تو قصور ہے، مگر اس کے لیے کھلاڑیوں کی اخلاقی تربیت بھی ضروری ہے۔ اس پر توجہ نہیں دی جاتی۔اگر آدمی ایک ڈسپلن سے گزرے، تو اس میں نظم و ضبط پیدا ہوتا ہے۔“

٭پاکستانی لیفٹ پر ایک بھاری قرض ہے!
نظریاتی جدوجہد کے زمانے کی یادیں ذہن میں محفوظ ہیں، جب لیفٹ اور رائٹ ؛ دونوں گروپس میں باکردار اور مطالعے کے شائق لوگ ہوا کرتے تھے۔ دن بھر یونیورسٹی میں جھگڑا رہتا۔ شام میں سب ساتھ بیٹھ کر چائے پیتے۔ ”جب تک ملکی اور بین الاقوامی سطح پر نظریاتی کشمکش تھی، باکردار اور مخلص لوگ سامنے آئے۔ یہ زمانہ 50 اور 60 کی دہائی کا ہے۔ اور چھوٹے دائرے میں 70 کی دہائی کا۔گذشتہ چار عشروں میں نظریاتی پارٹیوں میں بہت ٹوٹ پھوٹ ہوئی۔ سوویت یونین ٹوٹا۔ پاکستانی لیفٹ پر یہ بھاری قرض ہے کہ لوگوں کو سوویت یونین ٹوٹنے کے اسباب بتائے۔آخر کمیونسٹ پارٹی نے اپنے خلاف قراردار منظور کر لی، ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی،آخر کیوں؟“ منورصاحب کے مطابق فقط خود کو لبرل کہہ دینا کافی نہیں۔پاکستان کے لبرل طبقات نے اپنے افکار، نظریات اور قیادت سے متعلق واضح موقف پیش نہیں کیا،جس کی وجہ سے ابہام رہا، اورنظریاتی کشمکش جنم نہیں لے سکی۔

٭کیا ایم کیو ایم میں مائنس ون ہوگیا ہے؟
ملکی حالات زیر بحث آئے، تو کہنے لگے، ” آج سے پہلے ملک پر کبھی اتنا نازک وقت نہیں آیا ۔ کوئی خم ٹھونک کر نہیں کہہ سکتا کہ حالات کہاں جارہے ہیں۔ اب توکراچی میں بیٹھا شخص بھی یہ نہیں بتا سکتا کہ اصلی ایم کیو ایم کون سی ہے؟یہی معاملہ دیگر جگہوں پر ہے۔ یعنی ملک میں غیریقینی صورتحال ہے۔Political Moves نتیجہ خیز نہیںر ہیں، فقط نعرے بازی ہے۔لیڈر شپ کا معاملہ مکھی پر مکھی مارنا نہیں۔ یہ کہنا تو بڑاآسان ہے کہ آپ نے حالات خراب کیے ۔ قیادت کی ذمے داری تویہ ہے کہ مسائل سے نکلنے کے راستے دکھائے، امید پیدا کرے۔“اگلا سوال ایم کیو ایم ہی سے متعلق تھا۔ پوچھا، کیامائنس ون ہوچکا ہے؟ کہنے لگے،” اس کے لیے دیکھناپڑے گا کہ اسٹیبلشمنٹ کس طرح اپنی ٹیم اتارتا ہے۔ کس طرح اِن گروپس کو ہینڈل کرتا ہے۔ صولت مرزا کو آپ نے پھانسی دے دی، ٹھیک ہے۔ مگر جن لوگوں نے اس سے یہ کام کروایا تھا، انھیں چھوڑ دیا۔ اس طرح کے اقدامات سے لوگوں میں مایوسی پیدا ہوتی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کو اب تک اندازہ نہیں ہوا کہ کن باتوں سے عوام خوش ہوتے ہیں، کن سے ناراض۔“

٭ آپ بہت سخت گیر ہوگئے تھے
عام خیال ہے کہ امیر جماعت اسلامی بننے کے بعد، بالخصوص آخر کے دنوں میں وہ بہت سخت گیر ہوگئے تھے۔ جب اس بابت سوال کیا، تو ہنسنے لگے۔”بھئی، اس پر تو صرف ہنسا جاسکتا ہے۔میں نے زندگی میں کبھی سمجھوتا نہیں کیا۔جب کبھی بات کی، صحیح کو صحیح، غلط کو غلط کہا۔سب سے بڑا مسئلہ تو بہ ظاہر وہ تھا، جس پر آئی ایس پی آر نے پریس ریلیز جاری کی۔دیکھیں، اس معاملے پر کسی نے مجھ سے تو بات کی نہیں ۔ آئی ایس پی آر کو مجھ سے بات کرنی چاہیے تھی۔ اگر میں نے اتنی بڑی غلطی کی تھی، جو وہ بتا رہے تھے، تب تو اور ضروری ہوجاتا ہے۔“
جب ہم نے پوچھا کہ کیا وہ پاکستانی فوجیوں کو شہید نہیںسمجھتے، تو بولے، ”میرے بیان میں کہیں یہ نہیں تھا ۔ میں نے یہ کہا تھا کہ اہل علم اور علمائے کرام کو فتویٰ دینا چاہیے۔ میں نہیں سمجھتا کہ کسی نے شرارتاً اس بات کو اچھالا۔شاید ناسمجھی کی وجہ سے ایسا ہوگیا۔“

Leave a comment

Taking about Mirza Athar Baig’s novel, Ghulam Bagh