Leave a comment

اردو کی معیشت اور”سیک “سیمینار: اقبال خورشید

ہم نے اردو کی معیشت اور ادیبوں کے المیہ پر بات کی۔ یہ غیرمقبول موقف اختیار کیا کہ فی الحال اردو کو دفتری زبان کے طور پر نافذکرنا ممکن نہیں،یہ ضد چھوڑدی جائے۔عالم گیریت کے بعداردو سے جڑے یافت کے امکانات دن بہ دن گھٹ رہے ہیں۔

seek

انسان کچھ کرنے کی ٹھان لے، ارادہ باندھ لے، تو رکاوٹیں ڈھنے لگتی ہیں، مشکلیں آسان ہوجاتی ہیں۔
ہفتے کے روز کراچی کی ایک پنج ستارہ ہوٹل میں” سیک سیمینار“ کے تحت جو کہکشاں سجی، وہ اس بات کا ثبوت کہ جذبہ ہو، انسان چاہے،دو قدم اٹھائے، تو منزل خود سامنے آجاتی ہے۔ اس روز سوشل میڈیا اور صحافت سے جڑے کتنے ہی ستارے آنگن میں تھے۔دیگر فیسٹولز اور کانفرنسوں کے برعکس لوگ ہزار روپے کا ٹکٹ خرید کر انھیں سننے آئے۔ الگ الگ شہروں سے تھے، الگ الگ نظریات کی نمایندگی کرتے تھے، مگر اُس روز دوپہر سے رات گئے تک چلنے والے اس سیمینارمیںموجود رہے، سب کوتوجہ سے سنا، داد دی، سوالات اٹھائے، اور سیلفیاں لیں۔
”سیک“ ایک نوجوان ثاقب ملک کے ارادے، لگن اور محنت کا ثمر ہے۔لاہور سے تعلق ۔ مزاح پر ان کی خوب گرفت۔ معروف کالم نگاروں کی باکمال پیروڈی لکھتے ہیں۔ کچھ برس قبل فیصلہ کیا کہ سوشل میڈیا پر سرگرم شخصیات کو، جو مختلف افکار کی حامل، جنھیںپڑھنے والوںکی بڑی تعداد موجود، ایک چھت تلے اکٹھا کیا جائے، تاکہ وہ ایک دوسرے سے ملیں، مکالمہ ہوا۔یعنی ایک ایسا پلیٹ فورم بنانے کا ارادے رکھتے تھے، جہاں لبرل اور اسلامسٹ، سب مل بیٹھیں۔ ایک کام یاب سیمینار اسلام آباد میں کیا، ایک لاہورمیں۔ اب روشنیوں کے شہر کی سمت متوجہ ہوئے۔ ادھر ٹکٹ خرید کر سیمینار میں شرکت کا رواج نہیں، مگر اُن کی کوششوں سے یہ مرحلہ بھی طے ہوا۔ دوست ان کے کام آئے۔ اور یوں ایک خوبصورت شام سجی۔سامعین نے دھیان لگا کر شکیل عادل زادہ، اعجاز منگی، عامر ہاشم خاکوانی، مبشر علی زیدی، محمد طاہر،جمیل خان، رعایت اللہ فاروقی، فیض اللہ خان،ڈاکٹر اسحاق عالم، خرم سہیل، رانا محمد آصف اور عاطف حسین کو سنا۔ تالیاں بجائیں، اختلاف کیا۔
ہم نے اردو کی معیشت اور ادیبوں کے المیہ پر بات کی۔ یہ غیرمقبول موقف اختیار کیا کہ فی الحال اردو کو دفتری زبان کے طور پر نافذکرنا ممکن نہیں،یہ ضد چھوڑدی جائے۔عالم گیریت کے بعداردو سے جڑے یافت کے امکانات دن بہ دن گھٹ رہے ہیں۔ یہ علوم کی زبان نہیں۔ کاروبار، ٹیکنالوجی ، اسپورٹس انٹرٹینمنٹ؛ ہر جگہ اِس کی اہمیت گھٹ رہی ہے۔ صحافت جیسے پیشے میں بھی انگریزی کو فوقیت حاصل۔ تو بہتر ہے، انگریزی سے دور ہونے، لڑنے جھگڑنے کے بجائے اس کی عالمی حیثیت تسلیم کریں، اپنے بچوں کو انگریزی کی طرف راغب کریںیہ بات بھی ہوئی کہ اردو کیوں بے حیثیت ہوئی؟ کیوں اِس خطے کے باسیوں میں احساس کمتری کا جنم ہوا؟اور مسئلے کا حل کیا ہے؟ ہم نے یہی تجویز دی کہ اردو اور انگریزی؛ دونوں زبانوں کو بوسیدہ نصابی کتابوں سے نکل کر، جدید تقاضوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے عملی انداز میں پڑھایا جائے۔ باقاعدہ پریکٹیکل ہوں۔ اساتذہ اور طلبا کو سماج میں اہمیت دی جائے۔ اشرافیہ کی فکر تبدیل ہو۔ والدین کے رویے بدلیں۔
اسی سے یہ سوال جڑا تھا کہ کیوں ہمارا ادیب حقیقی شہ پارہ تخلیق نہیں کر سکا؟ کیا اس میں صلاحیت کی کمی ہے؟ اب یہ بات تو تسلیم شدہ ہے کہ عالمی منظر میں اردو ادب حاشیہ پر بھی نہیں کہ ہمارے ادیبوں کے فن پارے عالمی ادبی فہرستوں میں جگہ نہیں پاسکے۔ البتہ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ان میں صلاحیت اور لگن کی کمی ہے۔اگر ایسا ہوتا، تو کیا نامساعد حالات، بے قیمتی اور گرانی میں ادب تخلیق کرپاتے؟ انھوں نے جم کر وکٹر ہیوگو، ڈکنز، مارک ٹوئن، ٹالسٹائی، دوستو فسکی، جین آسٹن اور او ہنری کو پڑھا۔ ان کے اسلوب کو سمجھا، حالات زیست اور افکار سے واقفیت حاصل کی، اور اُن کا ترجمہ کرکے ان زمینوں تک رسائی حاصل کرلی، جہاں عظیم فن پاروں کے بیج گرے تھے۔ خودبھی نابغہ¿ روزگار تھے، انھیں جنگ، غلامی، سیاسی تحاریک، ہجرت اور غربت سمیت ادب کے تمام اہم موضوعات میسر تھے، پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ منٹو، بیدی، احمد ندیم قاسمی، قرة العین حیدر، انتظار حسین، انور سجاد، عبداللہ حسین، اسد محمد خاں، نیر مسعود، حسن منظر، مستنصر حسین تارڑ حقیقی فن پارہ تخلیق نہ کرسکے ہوں؟
بے شک انھوں نے اچھا ادب تخلیق کیا، مگر اردو کی کمزور معیشت آڑے آگئی۔ ناخواندگی اور غربت سے جوجھتے عوام، اشرافیہ کی اردو سے دوری، حکومتی غفلت ان عوامل کی وجہ سے ادیب کبھی رائے عامہ کے نمایندے نہیں بن سکے۔پھر ایک المیہ اور رہا۔ ہمارے ادیبوں کی تخلیقات کا عالمی زبان، یعنی انگریزی میں ترجمہ نہیں ہوا۔ ہوا بھی، تو شاید وہ اتنا معیاری نہیں تھا۔ ضرور ت اس امر کی ہے کہ ہماری تخلیقات کا بھی دیگر زبانوں میں ترجمہ ہو، تاکہ ہم اپنی حیثیت کا تعین کرسکیں۔یقینی طور پر ہم ”جنگ اور امن“، ”اے ٹیل آف ٹو سٹیز“، ”موبی ڈک“ اور ”تنہائی کے سو سال“کی عظمت سے کوسوں دور ہیں، مگراتنے بودا نہیں کہ یک سر نظراندا ز کر دیے جائیں۔ اردو ادب میں وہ عنصر ہے، جو انگریزی میں ڈھلنے کے بعد قارئین کو متوجہ کرسکتا ہے۔ اس موقف کو ثابت کرنے کے لیے یہی دلیل کافی کہ بپسی سدھوا، محسن حامد، محمد حنیف، کاملہ شمسی اور فاطمہ بھٹو نے اسی خطے کی کہانیاں انگریزی میں بیان کرکے عالمی شہرت اورمتعدد اعزازت حاصل کیے۔جن صاحبان نے پاکستانی ادیبوں کا انگریزی ادب پڑھا ہے، وہ خوب جانتے ہیں کہ ان میں سے بیش تر کہانیاں اگر اردو میں بیان کی جاتیں، تو شایدہی کوئی اُن کی سمت متوجہ ہوتا۔ الغرض اردو ادیبوں میں صلاحت تھی، مگر اردو کی کمزور معیشت اور معروضی حالات نے اُن کا کینوس محدود کردیا۔
جناب شکیل عادل زادہ نے بھی اپنی گفتگو میں اردو کی کمزور معیشت کا ذکر کیا، انگریزی کے بڑھتے اثرات پر بات کی، اور یہ خدشہ ظاہر کیا کہ مستقبل میں شاید یہ فقط بولی رہ جائے۔ یہ بھی کہا کہ اردو میں ستر فیصد الفاظ ہندی سے آئے ہیں، گرامر ہندی کی ہے، مگر آج جب کوئی آشیرواد یا ترنت کا لفظ بولتا ہے، تو یارلوگ ناک بھوں چڑھانے لگتے ہیں۔ وہاں اُن سے ”سب رنگ“ کی تجدید اور ”بازی گر“ کی تکمیل سے متعلق بھی بات ہوئی۔
یوں تو سب ہی نے بھرپور گفتگو کی، مگر مسیحی برادری کی پاکستانی سماج سے بیگانی ختم کرنے کے لیے کوشاں سماجی کارکن،اعظم معراج کی تقریر نے گہرا اثر چھوڑا کہ وہ دل سے نکلی تھی، اور دلوں میں اتر گئی۔” سبز و سفید ہلالی پرچم“، ”دھرتی جائے کیوں پرائے“ اور” شناخت نامہ “جیسی کتابوںکے اس مصنف کا دل خلوص سے بھرا ہے۔ عمار یاسر زیدی کے سیشن کا تذکرہ از حد ضروری، جنھوں نے ایم کیو ایم کے ماضی حال اور مستقبل پرایک بھرپور مضمون پڑھا۔ان کے سامنے کاٹ دار سوالات کی قطار لگی تھی، جنھیں عمار زیدی نے خوب سنبھالا۔ یہ سیشن سیمینار کا حاصل رہا۔ بعد میں جب ”کیا کراچی بدل رہا ہے“ کے موضوع پر پینل ڈسکشن ہوئی، تب بھی ایم کیو ایم غالب رہی۔ اور یہ حیرت انگیز نہیں۔ ایم کیو ایم کے بغیر کراچی کا تذکرہ ادھورا ہے۔ اگر فیصلہ سازوںاور ایم کیو ایم نے اپنے مفادکے بجائے عوام کے مفادات پیش نظر رکھتے ہوتے، تو آج کراچی اِس خطے کے ماتھے کا جھومر ہوتا۔
ڈنر کے بعد سیمینار سے لوٹا، تو دن بھر کی بھاگ دوڑ کے باوجود تھکن کا شائبہ بھی نہ تھا۔ ایک بھرپور دن تمام ہوا ۔سیک سے جڑی کتنی ہی حسین یادیں چھوڑ گیا۔

Leave a comment

تکون، محمد جمیل اختر اور تاثر

مجھے اِس ناولٹ کی تکنیک نے بے حد متاثر کیا ہے ،مجھےمعلوم نہیں اِس سے پہلے کسی ناول میں اس تکنیک کر برتا گیا ہے یا نہیں لیکن یہ شاندار تکنیک تھی جس سے تین کرداروں ، عورت ، مرد اور جنگجو کی کہانی بیان کی گئی ہے

jameel-and-tikon

تکون کی چوتھی جہت

اقبال خورشید صاحب کا یہ ناولٹ کچھ روز پہلے پڑھا۔۔۔ بہت کم دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ آپ کوئی کہانی پڑھنا شروع کریں اور وہ اپنے پہلے ہی پیراگراف سے آپ کا ہاتھ تھام لے اور اِس سے بھی کم کہانیاں آخر تک قاری کا ہاتھ تھامے رکھتی ہیں ، اور شاذونادر ہی ایسی کہانیاں ہوتی ہیں جو اختتام کے بعد بھی قاری کا پیچھا نہیں چھوڑتیں ۔۔۔۔۔
’’ تکون کی چوتھی جہت ‘‘ آخرالذکر کہانی ہے۔۔۔۔
مجھے اِس ناولٹ کی تکنیک نے بے حد متاثر کیا ہے ،مجھےمعلوم نہیں اِس سے پہلے کسی ناول میں اس تکنیک کر برتا گیا ہے یا نہیں لیکن یہ شاندار تکنیک تھی جس سے تین کرداروں ، عورت ، مرد اور جنگجو کی کہانی بیان کی گئی ہے۔۔۔ بیانیہ بہت ہی خوبصورت ہے ۔۔۔
ذیل میں ناولٹ سے چند لائینز لکھ رہا ہوں ، پڑھتا ہوں تو حیران ہوتا ہوں۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شام ویران تھی ۔ شہر بارش کی قید میں تھا۔ سمندر سڑکوں پر آگیا۔ نشیبی علاقے ڈوب گئے ۔ چھتیں ڈھتی گئیں۔۔۔
اُس روز، میں نے آخری باراُس کی آواز سنی تھی۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔……………….

میں اپنے مقام پر تھا اور وہ اپنے مقام پر۔۔۔۔ مجھ سے چند قدم دور۔۔۔ ایک شخص کی بانہوں میں جس کے ہاتھ میں گُل دستہ نہیں تھا۔۔ فقط ایک پھول تھا۔۔۔۔
یہ وہ شخص تھا جس سے وہ محبت کرتی تھی۔۔۔۔
اور یہ شخص میں نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a comment

متبادل بیانیہ کے محاذ پر خاموشی: اقبال خورشید

یہ ہم ہی تھے، جنھوں نے افغان وار کے دوران، مفادات کہیے، مجبوری یا یا معروضی حقائق عسکریت پسندی کے بیج بوئے۔ نیا ریاستی بیانیہ تشکیل دیا ۔اور اُن ”ملحدوں“ سے جنگ لڑنے کے لیے مجاہد تیار کیے، جنھیں آج بہ خوشی سی پیک میں شامل کرنے پر راضی ہیں

7

جب چراغ کی روشنی دشمن کی رہنمائی کرے، اسے بجھا دینا چاہیے۔ جس پھل کو کیڑا لگ جائے، اُسے ٹوکری سے الگ کر نا بہترجب مقابلہ طوفانوں سے ہو، تو چٹان پر مکان بنایا جائے کہ جب ہوائیں ٹکرائیں، تو وہ نہ گرے ۔ جب دشمن پھاڑ کھانے والا بھیڑیا ہو،مگر بھیڑوں کی روپ میں آئے، تب تاریک جنگل میں قیام نہیں کیا جاتا، بلکہ روشن میدانوں کو مسکن بنایا جاتا ہے، تاکہ اس سے مقابلہ کیا جاسکے۔
ہر سو راکھ اور کہرا ہے کہ دہشت گردوں نے پھر سر اٹھالیا ۔ چیخیں منجمد ہوئیں۔ کرب ٹھہر گیا۔ لاشیں اٹھانے کا عمل، جو کچھ عرصے کے لیے رک گیا تھا، پھر شروع ہوا۔ مائیں اپنے بچوں کو یاد کرکے سینہ پیٹتی ہیں، بوڑھے اپنے سہارا کھونے پر گریہ کرتے ہیں۔ صوفیوں کی سرزمین سرخ ہوئی۔ پہلے کراچی پھرلاہور،پھر خیبر پختون خوا نشانہ بنا۔ اوراب سندھ پر قہر اترا ہے۔ سندھ، جو کبھی گھوڑوں اور رتھوں سے مالا مال تھا، جس کے دریا کنارے عظیم تہذیوں کا جنم ہوا، جو صوفیوں کی سرزمین بنا،آج شکست و ریخت کا شکار ہے۔ اِس کے بیٹوں کے اعضاجوہڑمیں پھینک دیے گئے، اس کے سینے پر لگے زخموں پر سیاست کی گئی۔ مرنے والوں کو دعووں وعدوں کے ذریعے بہلایا گیا، دشمن کے خاتمے کا عزم دہرایا گیا، مگر جب پیڑ پر سانپوں کا بسیرا ہو، تو اس کی شاخیں کاٹنا کافی نہیں۔ اور جوفصل خراب ہوجائے، اسے جلا دیا جاتا ہے۔
دشمن نے ہمار ی عورتوں اور بچوں کوقتل کیا، ہمارے بزرگوں کو بھی نہ چھوڑا، عبادت گاہوں کو خون میں نہلا دیا، مزارات کے گنبد گہنا گئے،اور وہاں بیٹھنے پنچھی ہمیشہ ہمیشہ کے اڑ گئے۔ کچھ ایسی ہی کیفیت سے ہم کچھ برس پہلے گزرے تھے، جب پشاور میں قیامت ٹوٹی، جب آرمی پبلک اسکول کو نشانہ بنا گیا تھا، جب بربریت کی ایسی داستان رقم کی گئی کہ انسان انگشت بدنداں رہ جائے۔روح لرز اٹھے۔ آدمیت کا سر جھلک جائے۔اس عظیم سانحے کے بعد اس وقت کے سپہ سالار، جنرل راحیل شریف کی سربراہی میں آپریشن ضرب عضب شروع ہوا، جس کی سول قیادت نے بھرپور حمایت کی، یہاں تک کہ فوجی عدالتوں کے قیام جیسا نازک آئینی مرحلہ بھی طے ہوا۔ آنے والے عرصے میں بہتری دکھائی دی۔ دہشت گردی کے واقعات میں کمی ہوئی۔کامیابی کا جشن منایا گیا، مگرآج دہشت گردوں نے پھر سر اٹھایا ہے۔اور ایسا بے سبب نہیں کہ جب بیج زرخیز زمین میں بویا گیا ہو، اوراسے پانی اور روشنی وافر مقدار میں مہیا ہو، تووہ زمین میں اپنی جڑیں خوب گہری پاتا ہے، اور تنا خوب توانا ہوجاتا ہے۔پھر اس کا خاتمے آسان نہیں ہوتا۔
یہ ہم ہی تھے، جنھوں نے افغان وار کے دوران، مفادات کہیے، مجبوری یا یا معروضی حقائق عسکریت پسندی کے بیج بوئے۔ نیا ریاستی بیانیہ تشکیل دیا ۔اور اُن ”ملحدوں“ سے جنگ لڑنے کے لیے مجاہد تیار کیے، جنھیں آج بہ خوشی سی پیک میں شامل کرنے پر راضی ہیں۔یہ ہم ہی تھے، جنھوں نے افغان وار سے بہت پہلے ،جہاد کشمیر کو اخلاقی، افرادی اور عسکری امداد مہیا کی۔ ہم نے نچلے اور متوسط طبقے کی زرخیز زمینوں پر نظریات کے بیج گرائے، اور ایسے لڑاکا حاصل کیے، جو مقصد کے لیے جان دینے کو بھی تیار تھے، اور جان لینے کو بھی۔ ایسا تو نہیں کہ یہ پالیسی کلی طور پر ناکام رہی کہ ایک زمانے میں ، جب افغانستان پر ملا عمر کی حکومت تھی، تب ہم اپنی مغربی سرحد کے ایک رخ کوانتہائی محفوظ خیال کرتے تھے، اور فخر کیا کرتے کہ ادھر ایک پاکستان نواز حکومت ہے۔ شاید کچھ اوربرس اطمینان رہتا،ہماری غفلتیں چھپی رہتیں، اگر 9/11 کا واقعہ نہ ہوتا، جس نے تباہی کا پہیا پھر چلا دیا، اور طلسماتی گرم پانیوں والا یہ خطہ، جو چین اور ایک معنوں میں روس سے بھی جڑاہواتھا، ایک بار پھر امریکی توجہ کا مرکز بن گیا۔
صاحبو، وہ طاقت ہی کیا، جس سے خوف نہ کھایا جائے، اور جس کی پرستش نہ ہو۔ مشرف دور میں ہماری افغان پالیسی میں آنے والی تبدیلی حیران کن نہیں تھی۔ مشرف کے ناقدین بھی اگر اس سمے اقتدار میں ہوتے، تو لگ بھگ یہی فیصلہ کرتے کہ آج کی دنیا پر امریکی سکہ چلتا ہے۔ تو پالیسی تبدیل ہوئی، مگر ہم اپنے ماضی سے تو منہ نہیں موڑ سکتے تھے۔اُن عسکری گروہوں سے،جن پر کنٹرول کا ہمیں دعویٰ تھا،اور اس شدت پسند بیانیہ سے، جسے ہم نے تشکیل دیا تھا،یکدم الگ ہونا ممکن نہیں تھاافغان پالیسی میں آنے والی اچانک بے ربط تبدیلی، انتظامی غفلت اور اغیار کی سازشیں، نتیجہ یہ نکلا کہ جن گروہوں کو ہم اپنا اثاثہ ٹھہراتے تھے، وہ پہلے بے یار و مددگار ہوئے، توڑے گئے، کچلے گئے،پھر اکٹھے ہوئے۔اب انھیں نئے مددگار مل گئے تھے۔ آخر کار وہ تلوار سونت کر ہمارے ہی سامنے کھڑے ہوگئے۔ نظریے کے لیے جان دینا اور جان لینا ان کی تر بیت کا جزوتھا، جسے شدت پسند نظریات کی نئی کمک مل گئی ۔حملے اور دھماکے ہونے لگے۔ تباہی پھیلتی گئی۔ کرب بڑھتا گیا۔ جنھیں ان کی مذمت کرنی چاہیے تھی جو مذہبی طبقات تھے، ان میں سے کچھ توگومگو کا شکار رہے، کچھ نے مصلحتاًچپ سادہ لی۔ ہاں،کچھ نے آواز اٹھائی، ان حملوں کو خلاف اسلام قرار دیا، مگر شاید وہ مرکزی دھارے کا حصہ نہیں،شاید عوام میں جڑیں نہیں رکھتے۔ان کی کاوشوں کا خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکال۔دھماکے جاری رہے کہ دھماکے کرنے والوںکو حامی اور سہولت کار میسر تھے۔ علما کی خاموشی ان کی طاقت تھی، اور حکمرانوں کی غفلت انھیں قوت بخشتی تھی۔
آپریشن کے بعد کچھ سکون تھا، مگر پھر دہشت گردوں نے سر اٹھایا۔ کل داتا دربار پر حملہ ہوا تھا، پھرشاہ نوارنی خون میں نہا گیا، اب لعل شہباز قلندر کے مزار کی چادر سرخ ہوئی۔ مستقبل میں مزید حملوں کا امکان ہے۔ مزید دھماکے ہوں گے، جن سے نمٹنے کے لیے فوجی آپریشن کے ساتھ ساتھ نظریاتی آپریشن بھی ضروری ہے، ازحد ضروری۔ بڑا چیرا لگانا ہوگا۔ یہ متبادل بیانیہ ہی ہے، جو آپریشن کو حقیقی معنوں میں کارگر بنا سکتا ہے۔ماضی میں جو بیانیہ ہم نے اختیار کیا، اس نے ہمارے گھروں، ہماری نسلوں کو شدت پسند بنا دیا، ہم نے سماج کے زرخیز حصوں میں یہ بیج بوئے، اور اب یہ تن آور درخت بن چکے ہیں۔ یہ شدت پسند، یہ رجعت پسند کوئی اور نہیں، ہم ہیں۔ ہمارے بھائی، ہمارے بیٹے، ہمارے بھانجے بھتیجے ، جنھیں ہم ہی نے ان نظریات کا لبادہ اوڑھنے کو تیار کیا تھا۔ اب ہمیں اپنے ماضی کی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے، ایک متبادل بیانیہ اختیار کرکے، سماج کو ایک نئی اور مضبوط سوچ دینی ہوگی۔جو الگ ہوگئے، انھیں مرکزی دھارے میں لانا ہوگا۔
درخت کا تنا مضبوط ہو، تو آری کی دھار تیز رکھی جاتی ہےمتبادل بیانیہ ہی اکلوتا حل، مگر بدقسمتی سے اس کی تشکیل کے لیے ہماری تقدیر کے فیصلہ ساز میں، ہمارے حکمرانوں سیاست دانوں میں جس بصیرت، قابلیت ، مہارت اور سنجیدگی کی ضرورت ، اس کا واضح فقدان دکھائی دیتا ہے۔پی پی، ن لیگ اور پی ٹی آئی ایک دوسرے پر کیچڑ تو اچھال رہی ہیں، مگر اس محاذ پر مکمل خاموشی ہے۔

Leave a comment

ایک داستان گو کا تکیہ :اقبال خورشید

بے قیمتی اور ناقدری کے اس زمانے میں ایک ادیب ایسا بھی ہے،جس کی کتابیںہاتھوں ہاتھ لی جاتی ہیں۔ لٹریچر فیسٹول میں سیشن ہو، تو مداح امڈ آتے ہےں۔ آٹو گراف کے لیے لائن لگ جاتی ہے۔ مائیں بچوں کو لیے آتی ہیں کہ وہ اُن کے لیے دعا کرے۔

ek-dastan-final

تخلیق ، چاہے فکشن ہو، رقص ہویا مصوریوہ مسرت سے جنم لیتی ہے۔یہ اظہار میں پنہاں مسرت ہے، جو ادیب کو لکھنے،شاعر کو گیت سنانے اور مصور کوکینوس پر رنگ سجانے کے لیے اُکساتی ہے۔ہاں، تخلیق منصہ¿ شہود پر آجائے، تب اُس کی پذیرائی کا تقاضا جنم لیتا ہے، تخلیق کار میں شناخت کی آرزو ہمکنے لگتی ہے۔اور اس کی تکمیل ضروری۔ اگر قومیں اپنے تخلیق کاروں کا یہ تقاضا پورا نہ کریں،تودنیا کو بدل دینے والی کتنی ہی کتابیں درازوں میں پڑے پڑے دم توڑ دیں۔اور معاشرے ترقی کو ترستے رہیںآج جو اردوادیب ہمیں ادبی میلوں، کانفرنسوں میں چلتے پھرتے دکھائی دیتے ہیں، یا وہ جو کچھ برس پہلے تک دکھائی دیتے تھے، جو اب رخصت ہوئے، اُن میں کچھ نابغے ایسے بھی، جن کی تحریر سے وہ ستھری نکھری خوشی جھلکتی ہے، جس سے وہ لکھتے سمے گزرے، مگر بدقسمتی سے اُنھیں اس معاشرے میں وہ پذیرائی نہیں ملی، جس کے وہ حق دار تھے۔اس کے کئی اسباب، جیسے ناخواندگی، غربت،ظالم ناشر، غافل حکومت۔کتنے ہی بلاصلاحیت تخلیق کار بھلا دیے گئے۔ لیکن ٹھہریے، بے قیمتی اور ناقدری کے اس زمانے میں ایک ادیب ایسا بھی ہے،جس کی کتابیںہاتھوں ہاتھ لی جاتی ہیں۔ لٹریچر فیسٹول میں سیشن ہو، تو مداح امڈ آتے ہےں۔ آٹو گراف کے لیے لائن لگ جاتی ہے۔ مائیں بچوں کو لیے آتی ہیں کہ وہ اُن کے لیے دعا کرے۔ معاملہ یہیں تمام نہیں ہوتاجناب۔ فیس بک پر 70 افراد اُسے فالو اسے کرتے ہیں۔ ’ریڈرز کلب‘ کے نام سے دیوانوں نے ایک گروپ بنا رکھا ہے، جہاں اس کی تخلیقات کا تذکرہ، تجزیہ ہوتا ہے بلاشبہہ ہم مستنصر حسین تارڑ کا تذکرہ ہے۔
گیبرئیل گارسیا مارکیز نے کہا تھا: ”میں چے گویرا سے متعلق ہزار سال تک لاکھوں الفاظ لکھ سکتا ہوں۔“میں مستنصر حسین تارڑ سے متعلق اس نوع کا کوئی دعویٰ تونہیں کرتا ، مگر یقین رکھتا ہوں کہ میرے پاس آپ کو سنانے کے لیے ایک دل چسپی کہانی ہےکراچی لٹریچر فیسٹول میں جب ایک مداح نے اُنھیں’ چاچا جی‘ کہہ کر پکارا، تو یکدم مجھے وہ ٹی وی پروڈیوسر یاد آئی، جس نے یہ کہتے ہوئے مجھ سے اُن کا نمبر مانگا تھا کہ ’ہم چاچا جی کا انٹرویو کرنا چاہتے ہیں۔‘میری تارڑ کہانی میں ’چاچا جی‘ کہیں نہیں۔ دراصل میں اُنھیں اس طرح شناخت نہیں کرتا۔ اس مارننگ شو کی یاد، جس میں وہ ہمیں کارٹون دکھایا کرتے تھے، اب میرے ذہن میں دھندلا گئی ہےمطالعے کے ابتدائی زمانے میں گھر کے شیلف میں اُن کی چند کتابیں دیکھیں، پڑھیں بھی، مگر کئی برس بعد جب خود کتابیں خریدنے کے قابل ہوئے،تو ذہن میں اُن کی شبیہ ایک ایسے مقبول سفرنامہ نویس کی تھی، جس کی کتابیں انتظار حسین اور عبداللہ حسین سے زیادہ فروخت ہوتی ہیں۔میرے سر میں فکشن پڑھنے کا سودا سمایا تھا، اورمجھے خبر ہی نہیں تھی کہ تارڑ صاحب فکشن بھی لکھتے ہیں۔ بھلا ہو اُس بزرگ نقاد کا، جس نے میری توجہ اُن کے فکشن کی سمت مبذول کروائی۔اُس نقاد نے آدھی زندگی انگریزی ادب پڑھایا، آدھی زندگی اردو ناول پر تحقیق کی، مگر شہرت کی دیوی کو لبھانے کی کوشش نہیںکی کہ وہ ایک شریف آدمی ہیں۔ اور شہرت کی دیوی فقط لڑاکا، ضدی اور زودرنج نقادوں پر مہربانی ہوتی ہے خیر،موئن جودڑو اور ہڑپا مجھے اپنی اُور کھینچتے تھے، ایسے میں ڈاکٹر ممتاز احمد خان کا وہ مضمون پڑھا، جو ’بہاﺅ‘ پرتھا۔یہ وہ زمانہ ، جب مجھے صحافت میں تین برس ہوگئے تھے، اور میں خود بھی فکشن لکھنے لگا تھا۔ جب خبر ہوئی کہ یہ موئن جودڑو کے زمانے کومنظر کرتا ہے، تو دل چسپی اوج پر پہنچی۔دوڑا دوڑا گیا۔ ناول لے لیا۔ اور پھر میں خس و خاشاک ہوا
اس پورے بیان کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ میں تارڑ کے ان عشاق میں سے نہیں ، جوعشروں سے اُن کے لکھے ہوئے ہر لفظ کو، چاہیے سفرنامہ ہو، ناول ہویا کالم، آنکھوں سے لگاتے آئے ہیں۔ میرے سمبندھ کے آغاز اُن کی سب سے اہم اور پرپیچ تخلیق’ بہاﺅ‘ سے ہوتا ہے۔ اس تمہید کا مقصد یہ واضح کرنا بھی ہے کہ جب میں نے ’بہاﺅ‘ پڑھا، تب تک میں ’آگ کا دریا‘،’ اداس نسلیں‘،’ بستی ‘اور ’راجہ گدھ‘ کے علاوہ کئی غیرملکی شاہکار پڑھ چکا تھا۔یعنی میں کسی سے مرعوب ہونے کو تیار نہیں تھا۔ مگر جیسا میں نے کہا: اس ناول مجھے خس و خاشاک کر دیا۔ پھر ’قلعہ جنگی‘، ’ڈاکیا اور جولاہا‘ اور’ راکھ‘ پڑھے۔ ان سے ملنے، سوال کرنے کی ہوک بڑھتی گئی۔ بالآخر لاہور کی ایکسپریس اردو کانفرنس میںیہ مرحلہ طے ہوا ۔ ایک طویل مکالمہ ہوا۔ صحافتی سفرمیں سیکڑوں انٹرویوز کیے ہیں، جنھیں پسند بھی کیا گیا، مگر جتنا فیڈ بیک تارڑ صاحب کے ،اجرا کے لیے کیے جانے والے انٹرویوکا ملا، اس کی مثال ملنا مشکل ۔ سب سے بڑا Complimentخود تارڑ صاحب کی جانب سے آیا تھا۔(اس کا تذکرہ پھر کبھی سہی)’بہاﺅ‘ کا ذکرتو ہوگیا، مگر یہ’ اے غزال شب‘ ہے، جو موضوع کے اعتبار سے ان کی اہم ترین تخلیق ۔ یہ قرض بھی تھا کہ جن ادیبوں نے سوویت یونین کا عروج دیکھا ، وہ اس کا زوال آتے آتے لکھنا لگ بھگ ترک کر چکے تھے یا پھر ماضی کی یادوں میں خود کو مطمئن پاتے تھے۔ مارکیز ناول کے ابتدائیہ کو خصوصی اہمیت دیا کرتا تھا،یہی معاملہ تارڑ صاحب کا بھی ہے۔ انھوں نے چند متاثر کن ابتدائیہ لکھے، مگراس ضمن میں ’ڈاکیا اور جولاہا‘زرخیز تخیل اور تخلیقی اپچ کی انتہا ہے، ایک ناممکن صورت حال۔ ہم نے اپنے گذشتہ کالم میں لکھا تھا کہ اچھا ادیب کبھی پڑھنے والے کو خود تک محدود نہیں رکھتا، دیگر ادیبوں کو پڑھنے پر اُکساتا ہے۔ البتہ بڑاادیب وہ ہے، جوایک قدم اور آگے بڑھے۔ آپ کی مطالعے کی کشتی کو مقامی ادب کے دریا سے نکال کر بین الاقوامی سمندرمیں لے جائے۔ اب بانو قدسیہ کو پڑھیں، تو اشفا ق احمد، ممتاز مفتی اور قدرت اللہ شہاب کو پڑھنے کی خواہش پیدا ہوتی ہے، اور تارڑ صاحب کو پڑھیں، تو مارکیز، ہوزے سارا ماگو اور اورحان پامک کو پڑھنے کی آرزو زور مارتی ہے فرق واضح ہے۔
داستان گوئی اور زندہ دلی پنجاب کے خمیر میں ہے، تارڑ اُسی خمیرگندھے ہوئے ہیں۔ جب وہ 75 برس کے ہوئے، تو میں نے’ ساڑھے سات عشروں پر محیط اڑان‘ کے نام سے ایک مضمون لکھا تھا۔ اب تووہ 77 برس کے ہوگئے ہیں،آپریشنز سے بھی گزر چکے ہیں، مگر جتنی گرم جوشی اُن میں اِس بڑھاپے میں ہے، میں جوانی میں بھی اِس سے محروم ہوں۔ یہی گرم جوشی اور محبت انھیں ہردل عزیز بناتی ہے۔ کراچی میں بسنے والے محبت سے تولبریز ہیں، شائستہ ہیں، مگر شاید ہجرت، سیاسی انتشار،سبزے اور دریا سے دوری نے اُن کی شگفتگی اور گرم جوشی چھین لی۔ان کا شکریہ کا وہ اپنی زندہ دلی کا تحفہ لیے کراچی آتے ہیں، اور جاتے ہوئے گرم جوشی چھوڑ جاتے ہیں۔
اچھا، ان کے عاشقوں نے ”تکیہ تارڑ“کے نام سے ایک گروپ بنا رکھا ہے، جس کے تخت وہ مختلف شہروں میں کبھی میوزیم، کبھی لائبریریوں،کبھی پارک، کھنڈ ر،دریا کنارے، پہاڑ کی چوٹی پر اور کبھی ایک سے دوسرے شہر کی سمت جاتی بس میں اکٹھے ہوتے ہیں۔ تارڑ صاحب کی کتابوں سے اقتباسات پڑھتے ہیں، اپنے تجربات بیان کرتے ہیں۔ خوشیاں بانٹتے ہیں۔ اور یوں خوشیاں بڑھنے لگتی ہیں۔گذشتہ اتوارکراچی میں تکیہ تارڑ کا ایونٹ منعقد ہوا، تو مجھے بھی دعوت نامہ ملا، جس نے تجسس سے بھر دیا۔ بڑے اشتیاق سے شارع فیصل پر واقع ہمدرد یونیورسٹی پہنچا۔ ایک چھوٹا سا ہال عشاق تارڑسے بھرا تھا۔ ہر چہرے پر مسرت، آنکھیں دمکتی ہوئی۔ لہجے مسرور۔اس روز یکم مارچ کو آنے والی سال گرہ کا کیک کاٹا گیا۔ وہاں عقیدت اورمحبت کے جومظاہرے دیکھے،جو مسرت فضا میں تیر رہی تھی، اس کے تذکرے کے لیے الگ دفتر درکار۔ زندگی رہی، تو پھر بات ہوگی۔

Leave a comment

میں، کمل ہاسن اور دنیا کی عظیم ترین فلم

اثرات کا اندازہ اِسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سرکار، کمپنی، رئیس؛ ہر وہ فلم، جس میں جرائم پیشہ شخص کو اپنی کمیونٹی کا مسیح دکھایا گیا ہے،  اسی سے برآمد ہوئی

kamal

صاحبو، کچھ روز ادھر، ہم نے اپنے دو من پسند اداکاروں (کمل ہاسن اور شاہ رخ خان) کی تصویر شیئر کی۔ بلاشبہہ اُن میں سے ایک دوسرے سے بہتر ہے۔ اور جو بہتر ہے، یعنی کمل ہاسن، وہی تصویر کا موضوع تھا۔ اچھا، کمل کا تعلق ساﺅتھ سے۔ بھاشا الگ، سو اُن کی فلمیں پاکستان میں کم دیکھی گئیں، مگر یوں بھی نہیں کہ نہیں دیکھی گئیں۔ ”اہل فیس بک“ نے جو فلم دیکھی تھی، اور جیسا کمل کو پایا تھا، ہماری پوسٹ پر اُسے بیان کیا۔ اچھا، یوں تو کمل کے کئی شاہ کار، مگر ہمیں اُس کی فلم ”ہے رام“ پسند، جو اُس کی اہمیت و عظمت کی عکاس بھی۔ جی، نہ صرف نصیرالدین شاہ، اوم پوری، ہیما مالنی، بلکہ شاہ رخ نے بھی، جو سپراسٹار کا درجہ حاصل کر چکا تھے، کمل کی اس فلم میں کام کرنا اپنا لیے اعزاز ٹھہرایا۔ اور ہاں، مسٹر پرفیکشنسٹ، عامر خان نے بھی کمل ہی کے نقوش پا کا تعاقب کیا۔ یہاں ایک فلم کا خصوصی تذکرہ ضروری، جس کی جانب فیس بک پر عمران شیخ نے اشارہ کیا تھا۔ یہ ہے، سر منی رتنم (اور اس جیسا کوئی نہیں) کی فلم Nayakan۔
”دی گاڈ فادر“ کے ذایقے کی حامل، 1987 میں ریلیز ہونے والی، یہ تامل فلم ممبئی میں مقیم ایک ساﺅتھ انڈین ڈان کے گرد گھومتی ہے۔ یہ فلم ایک شاہ کار ہے۔ کمل کو اِس کے لیے نیشنل ایوارڈ ملا۔ یہ تیلگو میں ڈب ہوئی۔ Dayavan کے نام سے ہندی ری میک بنا۔ جی، اثرات کا اندازہ اِسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سرکار، کمپنی، رئیس؛ ہر وہ فلم، جس میں جرائم پیشہ شخص کو اپنی کمیونٹی کا مسیح دکھایا گیا ہے، Nayakan ہی سے برآمد ہوئی۔
NDTV نے ہندوستان کی بیس عظیم ترین فلموں کی فہرست بنائی، تو اسے شامل کرنا ضروری جانا۔ معروف ہندوستانی نیوز چینل CNN-IBN نے جب ہندوستان کی سو عظیم فلموں کا تذکرہ کیا، تو اسے فہرست میں شامل کیا۔ اچھا، ہمارے ہاں اپنوں کی گواہی سے زیادہ غیروں کی گواہی معتبر۔ تو سن لیجیے، امریکی فلمی میگزین The Moving Arts Film Journal نے دنیا کی عظیم ترین فلموں کی فہرست تیار کی، تو اِسے 13 واں نمبر دیے بغیر نہ رہ سکا۔ 2005 میں جب ٹائم میگزین کے لیے معروف فلمی نقاد اور مورخین Richard Corliss اور Richard Schickel نے “All-Time 100 Best Films” کی فہرست جاری کی، تب کمل ہاسن کے اس ماسٹرپیس کو اِس کا حصہ بنایا۔ بلاشبہہ یہ فلم اس پذیرائی کی حق دار تھی۔ اس فہرست میں ”دی اپو ٹرائیلوجی“ اور ”پیاسا“ بھی شامل تھیں۔ اگر آپ نے یہ فلم نہیں دیکھی، تو خیرخواہ کی حیثیت سے مشورہ ہے کہ فوراً اہتمام کیجیے۔

اقبال خورشید

Leave a comment

شفقت کاسایہ، روحانیت کا کہرا اور بانو قدسیہ : اقبال خورشید

اُن سے ملنے ، انھیں سننے،ان سے سوال کرنے کی خواہش قوی ہوتی گئی، مگر قدرت کو کچھ اور منظور تھا اس غلک کے بیان کو ابھی ایک ہفتہ نہ ہوا تھاکہ اُن کے انتقال کی خبر آگئی

bano-final

زندگی چھوٹی چھوٹی حیرتوں کا نام ہے، معمولی اتفاقات کا، ان واقعات کا، جو بنا سبب ایک دوسرے سے جڑ تے چلے جاتے ہیں۔
کچھ روز ادھرہم اس غلک کو یاد کر رہے تھے، جس میںکبھی اس نیت سے پیسے جمع کیے تھے کہ بانو قدسیہ کا ناول خرید سکیں۔ اپنی ”کتاب کہانی“ بیان کرتے سمے جب اعتراف کیا کہ یہ ”راجہ گدھ“ تھا، جس نے اس راستہ پر ڈالا، جہاںاردو اور عالمی ادب کے نابغوں سے ملاقات ہوئی، تو کب سوچا تھا کہ اس ناول کی مصنفہ چند روز بعدداغ مفارقت دینے کو ہے۔ہاں، بیماری کی خبر ملی تھی۔ وہ ایک عرصے سے گوشہ نشیں تھیں۔ کراچی میں تواتر سے ہونے والی اردو کانفرنسوں اور لٹریچر فیسٹولزکے باوجود، جہاں انتظار حسین سے مرزااطہر بیگ تک، سب ہی کو دیکھا،کبھی بانو قدسیہ کے درشن نہیں ہوئے۔اُن سے ملنے ، انھیں سننے،ان سے سوال کرنے کی خواہش قوی ہوتی گئی، مگر قدرت کو کچھ اور منظور تھا اس غلک کے بیان کو ابھی ایک ہفتہ نہ ہوا تھاکہ اُن کے انتقال کی خبر آگئی۔اب اِس خواہش کوکسی شام سمندر برد کر دوں گا اُن کے انتقال کی کرب ناک مجھے ایک ایس ایم ایس کے ذریعے ملی۔پیغام بھیجنے والا یوں تو صحافی تھا، مگر شاعر کا دل رکھتاہے۔فون کیا، تو کہنے لگا،”دفتر سے گھر لوٹا، توجانے کیوں، کتابوں کے شیلف کی سمت چلا گیا۔ وہاں سے د و کتابیں اٹھائیں۔ ایک تو لغت تھی، اور دوسری تھی ’راجہ گدھ‘۔جانے کیا سوچ کر اٹھائی۔ اور جب ٹی وی کھولا، تو خبر ملی کہ بانو قدسیہ ہم سے جدا ہوگئی ہیں!“
بے شک زندگی چھوٹی چھوٹی حیرتوں کا نام ہے
ادیب، سچا ادیب ایک پیامبر ہوتا ہے۔وہ قاری کو خود تک محدود نہیں رکھتا کہ یہ سراسر ظلم ہے، وہ کشادگی اور وسعت پیدا کرتا ہے۔قارئین کو ان لکھاریوں کی سمت متوجہ کرتا ہے، جنھیں پڑھتے پڑھتے وہ جوان ہوا، جو اس کے دل کے قریب ہیں، جنھیں وہ آج کل پڑھ رہا ہے۔ ساتھ ہی ان کی کہانیاں بیان کرتا، جن کے ساتھ وہ چلتا پھرتا ہے، جو اس کے ہم عصر ہیں۔ بانو قدسیہ کے ہاں بھی یہ خوبی ہے۔ انھیں پڑھیں،تو اشفاق احمد، ممتاز مفتی کو پڑھنے کی خواہش زور مارتی ہے، ابن انشا اور جمیل الدین عالی سے ملنے کی آرزو ہمکتی ہے۔اچھا، بانو قدسیہ ہی کی انگلی تھامے میں قدرت اللہ شہاب سے ملا۔” سلسلہ¿ شہابیہ“ میں داخل ہوا، جہاں ہر شخص مرید خاص ہونے کا دعویٰ دار ، اور مرشد اس التباس کو قائم رکھنے میں مطمئن تو سچا ادیب قاری کو خود تک محدود نہیں رکھتا، مگر یہ ضروری ہے کہ جب وہ اپنے ہم عصروں کا ذکر کرے، تب توازن قائم رکھے کہ توازن حسن ہے۔ البتہ بانو قدسیہ ، اشفاق احمداور ممتاز مفتی کے ہاں ہمیں یہ توازن بگڑتا محسوس ہوتا ہے۔ قدرت اللہ شہاب کی Larger than Life تصور ابھرتی ہے۔ ان کی روحانی شبیہ، انسانی شبیہ پر غالب آجاتی ہے، جس سے سب سے زیادہ نقصان اس فکشن کو ہوتاہے، جو شہاب کے ذریعے ہم تک پہنچا، یا پہنچ سکتا تھا۔جی ہاں، ”شہاب نامہ“ پر درجنوں اعتراضات کیے جاسکتے ہیں،اور بیشتر میں خاصا وزن ہوگا۔ مصنف نے کتاب میں اس تاثر کو قائم رکھنے کا مناسب اہتمام کیا ، جو اس کے چاہنے والوںنے بڑے چاﺅ اور ہنرمندی سے قائم کیا ، مگر اس سے انکار ممکن نہیں کہ یہ کتاب مطالعیت کے عنصر سے بھرپور ہے۔اقتدار کی راہ داریوں میں رونما ہونے والے حادثات،واقعات، ان کے اسباب، اثرات؛ سب نپے تلے انداز میں بیان کرتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ اس نے ہزاروں قارئین کے شوق مطالعہ اور ذوق سلیم کی تسکین کی۔ ایسوں کو بھی پڑھنے پر اکسایا، جنھیں کتابوں سے کوئی دل چسپی نہیں تھی۔ ویسے ”ماں جی“ اور ”یا خدا“ کے خالق کے لیے یہ مشکل بھی نہ تھا۔میرے نزدیک شہاب سے منسوب کرامات سے زیادہ اُن کا فکشن اہم۔
یاد آیا، بانو ہی نے اپنی کس کتاب میں ہمیں ممتاز مفتی سے ملوایاتھا۔ اُن کے افسانوں سے تو کبھی نہیں نبھی۔ البتہ ”تلاش“ کسی زمانے میںہم دوستوں میںزور شور سے زیر بحث رہی۔ کتاب میں تصوف کا جوہر تو نہیں، ہاں، ایک جھلک ضرور ہے۔ البتہ شہابی رنگ اس پر بھی غالب ۔ یہی رنگ”لبیک“ میں اس قدر گاڑھاہوجاتا ہے کہ الجھن ہوئی۔ ”لبیک“ سے قدرت اللہ شہاب کو نکال دینا،کتاب اور قاری دونوں کے حق میں بہتر۔ تب آپ اِسے سوچ کے نئے در وا کرنے والی قابل مطالعہ کتاب پائیں گے۔ ہاں، ”علی پور کاایلی“ کے بارے میں ہماری رائے مثبت۔ اسے گریجویشن کے زمانے میں تجسس اور دل چسپی سے پڑھا۔چند ٹکڑے آج بھی یاد۔ بلاشبہ محظوظ ہوئے۔اور ہم تفریح طبع کے لیے مطالعے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے۔البتہ”الکھ نگری“نے مایوس کیا۔مفتی جی یہ کتاب نہ لکھتے، تو ایلی کا بھرم قائم رہتا۔
باباﺅں کا ذکر کرنے والے اشفاق احمد سے متعلق ہمارے ایک دوست کی یہ رائے درست کہ وہ ” کیمیا گر“ تھے،جس شے میں ہاتھ ڈالا، اُسے سونا بنا دیا۔یادگار ڈرامے لکھے۔ تلقین شاہ کا کردار تراشا، ”زاویہ“ کے ذریعے ، جس میں وہ خود بھی ایک بابے کے روپ میں نظر آتے، اپنا نقطہ¿ نگاہ دنیا کے سامنے پیش کیا، جو بڑا پسند کیا گیا۔البتہ میرے نزدیک یہ ان کا فکشن ہے، جہاں وہ اوج پر دکھائی دیتے ہیں۔ نثر پر خوب گرفت تھی۔ حقیقت، رومان اور روحانیت کا امتزاج اُن کے افسانوں کو لطیف ذایقہ عطا کرتا۔ سفرنامے بھی خوب لکھے۔ ان کا ناول یا ناول نما ”کھیل تماشا“بھی ہمیں یاد۔ اپنے حلقے کی باقی شخصیات کے مانند اُنھوںنے بھی ذکر شہاب کیا، اور خوب کیا، مگر ان کا فکشن اس سے آلودہ نہیں ہوا۔ یہی معاملہ بانو قدسیہ کا بھی تھا۔ان کے نوویلا ”ایک دن“، ”پروا“، ”موم کی گلیاں“ وہ تقاضے پورے کرتے ہیں، جن کے لیے عام قاری کتاب اٹھاتا ہے۔ ”حاصل گھاٹ“ اور” شہر بے مثل“خاص قارئین کے لیے لکھے۔ اچھا، انشا جی بھی اسی گروہ کا حصہ بتلائے جاتے ہیں، یہ کہانی بھی مشہور کہ فقط انھیں ملازمت دینے کے لیے ایک ادارہ بنا یاگیا، اور حلقہ¿ شہابیہ میں شامل ایک صاحب نے یہ بھی لکھا کہ ان کے ہاں خودکشی کا رجحان تھا، مگر ان سب کے باوجود، ابن انشا میرے لیے ایک ایسا قلم کار ہے، جس کے ہر رو پ سے مجھے انس۔ میں انھیں عظیم مزاح نگار اور ایک منفرد شاعر کے روپ میں دیکھتا ہوں، اور مطمئن ہوں۔
بات بانو آپا سے شروع ہوئی تھی۔ اُن کی یاد کی انگلی تھامے ہم کتنی دور نکل آئے ۔ آگے سرسبز پہاڑ ہیں۔ یادوں کی پگڈنڈیاںہیں، مگر میں یہیں ٹھہر جاتا ہوں ۔ اُس مصنفہ کے پاس، جس کی یاد ایک غلک میں محفوظ ہے۔یہیں ٹھہر جاتا ہوں، شفقت کے سائے، روحانیت کے کہرے میں، تاکہ وہ مجھے ایک اورکہانی سنائیں، جس کے کچھ حصوں سے متفق نہ ہونے کے باوجود میں آخر تک اُسے سنوں۔ اور جب وہ سنا چکےں، تو پھر سنانے کی درخواست کروں۔ کہانی، جس میں چھوٹی چھوٹی حیرتوں ہوں۔ واقعات ہوں، جو بنا سبب ایک دوسرے سے جڑ جائیں۔یادوں کے مانند۔

Leave a comment

اورآپ کی”کتاب کہانی“کیا ہے؟: اقبال خورشید

اگر میری زندگی سے یہ دو واقعے نکال دیے جائیں،اِنھیں کسی اور واقعے سے بدل دیا جائے، تو شاید میں کوئی اور شخص بن جاﺅں۔ظاہری طور پریہی، مگر باطنی طور پر مختلف

ijra-ahad

وہ نومبر کی ایک خاموش سہ پہر تھی، جب ایک شخص نے مجھے اشتیاق احمد کا ناول پڑھنے کا مشورہ دیا، اور میرے ہاتھ وہ کہانی آئی، جو میںآج آپ کو سنا رہا ہوںاور مجھے جون کے وہ گرم، دھوپیلے دن بھی یاد۔میں اور میرا بھائی غلک میں پیسے جمع کیا کرتے تھے، تاکہ بانو قدسیہ کا ناول ”راجہ گدھ “خرید سکیں۔کتاب پڑھنے کی للک ایسی تھی کہ ابھی آدھی رقم جمع ہوئی نہیں کہ غلک توڑا، کچھ پیسے ادھار لیے، اور صدر کی سمت ہولیے کہ اس وقت ہمیں اردو بازار کی خبر نہیں تھیصاحبو، اگر میری زندگی سے یہ دو واقعے نکال دیے جائیں،اِنھیں کسی اور واقعے سے بدل دیا جائے، تو شاید میں کوئی اور شخص بن جاﺅں۔ظاہری طور پریہی، مگر باطنی طور پر مختلفیہ بھولے بسر واقعات کچھ روز قبل یکدم آنکھوں کے سامنے ابھرآئے۔ قصہ کچھ یوں کہ ہم دفتر میں سر نہواڑے، توجہ مرکوز کیے جناب خالد علیگ پر شایع ہونے والی تازہ کتاب پر تبصرے میں جٹے تھے کہ ایک دفتری ساتھی اِس بات پرافسوس کرنے لگے کہ کتابوں پر اخباری تبصرے اب بے وقعت ہوئے، اتنا مغز کھپاﺅ، مگر نہ تو کتاب خریدی جاتی ہے، نہ ہی پڑھی جاتی ہے۔ اُن کے الفاظ نے ہمیں گہرے صدمے سے دوچار کر دیاکہ وہ نہ صرف درست تھے، بلکہ ان سے ایک سماجی المیہ جڑا تھا۔ علم و ادب سے دوری نے ہمیں جمود کے دائرے میں دھکیل دیا۔ ہم بے مقصدی ، فکری افلاس کا شکار ہوئے یہ کہنا تو درست نہیں کہ فقط کتابیں ہماری اخلاقی تربیت کرتی ہیں، تہذیب سکھاتی ہیں، بہتر انسان بناتی ہیں، مگریہ بلا جھجک کہا جاسکتا ہے کہ کتابیںفرد کو انفرادی اور اجتماعی طور پر سودمند بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔مذہبی تعلیمات بھی انسان تک کتاب کی صورت پہنچیں۔ اور یہ کتابیں ہی ہیں، جو جبر کے ماحول میں راحت عطا کرتی ہیں، مایوسی میں امیدکا دیا جلاتی ہیں، مقصد عطا کرتی ہیںتودفتری ساتھی کے الفاظ نے ہمیں صدمے سے دوچار کر دیا۔یہ ایک کڑوا سچ ہے۔ ہماری نسل میں،شاید سوشل میڈیا کی بے ربط ترقی اور معلومات کی بمباری کے باعث، نئے قارئین پیدا نہیں ہوسکے۔ اچھا،ہم جیسے شائقین، جو ہر ماہ پیسے بچا کرکتابیں خریدتے ہیں، دن کا تھوڑا بہت حصہ مطالعے میں صرف کرتے ہیں، دراصل وہ لوگ ، جنھیں بچپن میں یہ لت لگ گئی تھی۔ جن کی اوائل میں شعر و اد ب سے نبھنے لگی،کتاب زندگی کا جزو بن گئی۔
آج جب ماضی کھنگالتا ہوں، تواحساس ہوتا ہے، اگرمجھے اشتیاق احمد کی کتابیں پڑھنے کا مشورہ نہ دیا جاتا، ”راجہ گدھ“ خریدنے کے لیے پیسے نہ جوڑے ہوتے، تو آج میں شاید کوئی اور شخص ہوتابچپن بازیافت کرنے کی اجازت چاہوں گا:کہانیوں سے پہلا رشتہ اخبارات کے بچوں کے صفحات سے قائم ہوا۔ ان ہی کہانیوں نے قلم اٹھانے کی جوت جگائی۔ جو لکھا، دوستوں کو سنایا، اخباروں کو ارسال کیا۔چند کہانیوں نے ان صفحات میں جگہ پائی، مگر ان دنوںکی تصویر اب دھندلا گئی ہے۔ ہاں،”تعلیم و تربیت“، نونہال“ اور” پھول“ جیسے رسائل نے نسبتاًگہرا نقش چھوڑا۔ اسی زمانے میں ٹارزن اور عمرو عیار کے کرداروں سے دوستی ہوئی، جنھوں نے گلی محلے کے چھوٹے چھوٹے بک اسٹور سے چھوٹی چھوٹی کتابیں خریدنے کی راہ سجھائی۔ شاید ایک عرصے اُن جادوئی کہانیوں میں محو رہتا ، اگر نومبر کی ایک خاموش سہ پہر ، ہمارے ماموں، خداُنھیں بھلا چنگا رکھے، اشتیاق احمد کا ناول پڑھنے کا مشورہ نہ دیتے۔ وہ انسپکٹر جمشید سیریز کا” جیرال کی واپسی“ تھا، جس نے ایسی دیوانگی سے آشنا کیا، جسے لفظوں میں بیان کرنا لگ بھگ ناممکنجی، اِس بات سے انکار نہیں کہ اشتیاق احمد کے پرتجسس ناولوں پر مذہبی رنگ غالب ہوا کرتا تھا، بالخصوص کتاب کے آخر میں شایع ہونے والے خطوط اور مواد پر، مگر یہ بھی سچ کہ اشتیاق احمد نے ،مجھ سمیت، پاکستان کے لاکھوں نوجوانوں کو نہ صرف مطالعے کی عادت ڈالی، بلکہ انھیں کتابیں خریدنے اور سات سات سو صفحات کے ناولوں سے نبردآزما ہونے کا حوصلہ دیااچھا، ابن صفی کوہم نے بہت بعد میں پڑھا، وہ بھی صرف انور اور رشیدہ سیریز۔ کچھ عرصہ ڈائجسٹوں میں شایع ہونے والا جاسوسی ادب پرکھا۔ ایک شام اپنے تایا، پروفیسر یاسین شیخ، اللہ اُنھیں زندگی دے، کے کتب خانے سے منٹو، عصمت اور واجدہ تبسم کے بہترین افسانوں کے انتخاب ہاتھ آگئے۔ اُس عمر میں عصمت کو کیا خاک سمجھتے، مگر ”ذرا ہوراوپر“ اور ”نولکھاہار“کے پیدا کردہ ہیجان نے واجدہ کودوبارہ پڑھنے پر اکسایا۔ منٹو سے دوستی ہوگئی تھی، جس کی زبان سادہ اور اپنی اپنی لگی، موضوعات نے سوچ کے کچھ نئے، خفیہ در وا کیے۔ کالج کی لائبریری اور سستے اسٹالوں سے پریم چند اور کرشن چندر کی کتابیں خریدیں۔ پریم چند ہمارے لیے کسی اور دنیا کا باسی تھا۔ ہاں، کرشن نے متوجہ کیا، مگرعزیزو، وہ عہد منٹو سے منسوب تھا۔ ”کھول دو“، ”کالی شلوار“، ”دھواں“، ”ٹھنڈا گوشت“، ”بو“، ”موذیل“، ”ٹوبہ ٹیک سنگھ“ اپنے دوستوں کو منٹو سے متعارف کروایا، تو وہ آوارہ گردی ترک کر، ہر شام ہمارے ڈرائنگ روم میں اکٹھے ہونے لگے، جہاں سب منٹو کی کہانیوں کی گتھیاں سلجھانے کے عمل سے محظوظ ہوا کرتے۔ حالات میں ایک ڈرامائی موڑآیا،جب احمد ندیم قاسمی کا افسانہ” رئیس خانہ“ پڑھا، جس کے پلاٹ، اسلوب اور جزئیات نگاری نے ایسا گرویدہ بنایا کہ منٹو ذہن سے اتر ہی گیا۔تو اب قاسمی صاحب کی کتابوں کے سستے ایڈیشن ڈھونڈ ڈھونڈ کر پڑھے۔ ڈراماسیریز ”ایک محبت سو افسانے“ نے اشفاق احمد کی سمت متوجہ کیا۔ اور پھر ایک شامپی ٹی وی پر کشور ناہید اور بانو قدسیہ کی گفتگو سنی،اور ”راجہ گدھ“ کو حاصل کرنے کی للک اتنی بڑھی کہ میں ایک غلک خرید لایا۔ گو آج اُس ناول میں پیش کردہ نظریات سے کلی طور پر متفق نہیں، اور اس کے گردبُنے جانے والے غیرضروری روحانی ہالے (جس کی بنت میں مصنفہ نے بھی پریشان کن حد تک حصہ ڈالا) نے فقط اکتاہٹ بڑھائی، مگر یہ بھی درست کہ وہ ناول خرید کر جس پر مسرت تجربے سے گزرا ، اُسے دوسری بار، کئی برس بعد مرزا اطہر بیگ کا ناول ”غلام باغ“خریدتے سمے ہی بازیافت کرسکااچھا توغلک توڑنے سے وہ راستہ مل گیا، جوعلم و ادب کی حقیقی اور طلسماتی دنیا تک جاتا تھا، جہاں مذاہب کا تقابلی مطالعہ جیسا مضمون منتظر تھا۔ قرة العین حیدر نامی ساحرہ سے ملاقات ہوئی،” بہاﺅ“ جیساناول ملا، حسن منظر اور انتظار حسین جیسے فسوں گر دکھائی پڑے، اسد محمد خاں نامی عہد ساز قلم کار سے سامنا ہوا۔ راستہ، جو ڈکنز، چیخوف، دوستوفسکی اور ٹالسٹائی جیسے ماسٹرز تک لے گیا، جس کے وسیلے پشکن، اوہنری، موپساں، گورکی،جارج اوریل، ہیمنگ وے سے متعارف ہوئے، جس نے جین آسٹن کے” تکبر و تعصب“ نامی رومانوی شاہ کار میں دھکیلا، عظیم گیبرئیل گارسیا مارکیز اور بے بدل اورحان پامک تک پہنچایاآخر کار کتابیں زندگی کا جزو بن گئیں۔
دوستو، یہ کالم ایک کتاب کہانی ہے، ہماری کتاب کہانی۔ اگر آپ مطالعے کے شایق ، ناول، افسانوں سے گاڑھی چھنتی ہے، اور آپ کو یہ کتاب کہانی پسند آئی، تو درخواست ہے، آپ بھی اپنی کہانی لکھیں۔کالم یا بلاگ کے ذریعے احباب سے بانٹیں۔ اپنے ٹوئٹر، فیس بک پر اپ لوڈ کریں۔چاہیں تو One Minute Story-Iqbal Khursheed کے فیس بک پیچ پر ارسال کریں۔ مجھے یقین ہے، وہ اس کتاب کہانی سے زیادہ دلچسپ ہوگی!!